کراچی کے 15 ہزار طلبہ نویں و دسویں کی مختلف کتابوں سے محروم

کراچی : سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی نا اہلی کے باعث رواں تعلیمی سال 2020-21 کے دوران کراچی کے سرکاری اسکولوں میں نویں اور دسویں جماعت کے تقریبا 15 ہزار طلبا و طالبات مختلف مضامین کے مفت درسی کتابوں سے محروم رہے ہیں ۔

سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ تعلیمی سال 2020-21ء کے دران کراچی کے سرکاری اسکولوں میں تمام مضامین کے مفت درسی کتب فراہم کرنے میں مکمل طور پر نا کام رہا ۔ اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ کراچی کے 18 ٹاونز میں سیکڑوں سرکاری اسکولوں میں لازمی مضامین سمیت اختیاری مضامین کی مفت کتابیں فراہم نہیں کی گئیں جس کی وجہ سے طلبہ مارکیٹ سے کتابیں خریدنے پر مجبور ہوئے ۔

نئی اسکیم آف اسٹیڈیز کے مطابق نویں جماعت میں آنے والے طلبہ کو اردو اور اسلامیات لازمی پڑھنا تھا لیکن سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے سندھ کے سرکاری اسکولوں کو صرف دہم جماعت کے لازمی مضامین اردو اور اسلامیات کی کتب فراہم کی گئیں ۔اس طرح طلبہ نویں جماعت کے لازمی مضامین سے محروم رہے ۔

مذید پڑھیں : گلگت : ٹیکنوکریٹ کی نشستوں میں دھاندلی مگر کیسے ؟

سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے نویں جماعت کی نئی کمپیوٹر سائنس اور جنرل گروپ کے اختیاری مضامین شہریت اور معاشیات کی کتابیں بھی سرکاری اسکولوں کو فراہم نہیں گئیں ۔ نئی اسکیم آف اسٹیڈیز کے مطابق اس سال جنرل گروپ کے نویں کے طلبہ جنرل سائنس اور جنرل ریاضی پڑھیں گے جو کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی نا اہلی سے سرکاری اسکولوں کے طلبہ محروم رہے ۔

جب کہ نویں جماعت میں کمپویٹر سائنس اردو زبان میں کتاب شائع ہی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے مجموعی طور پر کراچی ریجن کے سرکاری اسکولوں کے 15 ہزار سے زائد طلبہ لازمی مضامین سمیت مختلف مضامین سے محروم رہے ۔

مذید پڑھیں : اسرائیل کو کون تسلیم کروا رہا ہے ؟

سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے مفت کتب کی تقسیم کے موقع پر بھی بد انتظامی دیکھی گئی۔ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ ہر سال کتب کی تقسیم سے قبل شیڈول جاری کرتا تھا جس کی نگرانی ڈائریکٹر اسکول پرائمری اور سکینڈری کرتے تھے تاہم رواں تعلیمی سال شیڈول جاری کیا گیا اور نہ ہی ڈائریکٹرز اسکول کو تقسیم کی نگرانی کے لیے مقرر کیا گیا بلکہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے وئیر ہاوس کے عملے نے اپنی فہرست کے مطابق کتب کی تقسیم کا عمل شروع کر دیا جب کہ اس سارے عمل سے ڈائریکٹرز اسکول لاعلم رہے ۔

کراچی کے اکثر ٹاونز کے سرکاری اسکولوں میں مفت درسی کتب کی تقسیم میں پرائمری کی سطح میں چوتھی جماعت اور پانچویں جماعت کی سائنس، معاشرتی علوم اور ریاضی کتب فراہم ہی نہیں کی گئی ۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے متعدد کتب کی عدم فراہمی سے ایس ٹی بی بی کے عملے کی جانب سے بہت بڑا ڈاکہ ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہیے ۔