اسرائیل کو کون تسلیم کروا رہا ہے ؟

تحریر : رعایت اللہ فاروقی

اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے متعلق پچھلے ایک دو سال کے دوران جتنے تجزئے پڑھے ان سے یہ بات واضح ہے کہ ٹرمپ کے دور میں زیادہ شدت سے گرم ہونے والے اس مسئلے سے متعلق تجزیہ کاروں کی یا تو معلومات انتہائی ناقص ہیں یا پھر وہ جان بوجھ کر جھوٹ لکھ رہے ہیں۔ ہر تجزیہ کار یہ کہہ رہا ہے کہ ٹرمپ اور اس کا داماد جیراڈ کشنر عالم اسلام پر دباؤ ڈال کر اسرائیل کو تسلیم کروا رہے ہیں۔ یہ خیال قطعی بے بنیاد ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے اس پلان کا اصل خالق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ہے۔ اگر آپ غور کریں تو باراک اوباما کے دور میں اچانک برپا ہونے والے "عرب سپرنگ” کے پیچھے امریکی اسٹیبلیشمنٹ تھی۔ اسی منصوبے کی مدد کے لئے انہی دنوں داعش کو بھی کھڑا کیا گیا کہ جہاں عوامی طاقت ناکام ہوئی وہاں داعش ایکشن میں آئے گی ۔

یہ وہ دن تھے جب ایران کے ساتھ مغرب کے تعلقات "دوستانہ رخ” اختیار کر رہے تھے۔ پلان یہ تھا کہ ستر سال امریکہ نے عربوں کی پشت پناہی کرکے خطے میں اپنا کنٹرول رکھا، اب اگلے ستر سال کے لئے شیعہ ممالک کو بالا دستی دلوا کر خطے پر راج کیا جائے۔ عرب سپرنگ سے منتشر عرب ممالک پر بالادستی حاصل کرنا ایران کے لئے بہت آسان ہوجاتا۔ مگر اس منصوبے میں دو خرابیاں ہو گئیں ۔ ایک یہ کہ مصر میں اخوان برسر اقتدار آ گئی جو امریکہ کے لئے بالکل ناقابل قبول تھی ۔ دوسری خرابی یہ ہوئی کہ شام بھی عرب سپرنگ کی زد میں آگیا، جبکہ شام کو تو نئے بالادست شیعہ ممالک کی صف میں ہونا تھا جس کے لئے اس کا پر امن ہونا ضروری تھا۔ چنانچہ بشار کے خلاف کھڑی ہونے والی سنی مسلح تحریک کو داعش کے ذریعے کچلنے کا فیصلہ ہوا۔ اور اس پر عملدارآمد بھی ہوا ۔

یہ تاریخ میں پہلا موقع تھا جب امریکہ اور سعودی عرب آمنے سامنے آ گئے ۔ سعودی عرب سنی مسلح تحریکوں کی مدد کر رہا تھا جبکہ امریکہ داعش کی۔ سعودی امریکہ کے مقابل اس لئے آئے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ امریکہ شیعہ ممالک کو بالا دستی دلانے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے اور یہ منصوبہ نا کام کرنے کے لئے ضروری ہے کہ شیعہ ممالک کو شام میں الجھایا جائے۔ اسی دوران ایران نے براستہ یمن سعودی عرب کو پھانسا تو عرب ممالک یمن کی جنگ کے لئے متحد ہوگئے۔ اگر آپ غور کریں تو سامنے کی بات ہے کہ حوثی باغیوں پر بھی امریکہ نے کوئی حملہ نہیں کیا بلکہ خود کو باہر رکھ کر ایران کو کھلی چھوٹ دئے رکھی۔ ورنہ ایران تو اقوام متحدہ کی ایک قرار داد کی مار تھا ۔

مذید پڑھیں : جامعہ اردو کی قائم مقام انتظامیہ کیخلاف توہینِ عدالت کیس کی سماعت

ٹرمپ کے برسر اقتدار آتے ہی محمد بن سلمان نے اسے آفر دی کہ ہم اسرائیل کو تسلیم کر لیتے ہیں آپ اس بات کی گارنٹی دیں کہ ایران کی زیر قیادت شیعہ بلاک کو خطے میں بالادستی کسی صورت نہیں دلائی جائے گی۔ ٹرمپ کی تو لاٹری نکل آئی۔ پچھلے ستر سال سے اسرائیل ایک ناجائز ریاست تھا۔ اس ریاست کو عالم اسلام کی جانب سے قبول کیا جانا یہودیوں کی دلی آرزو کی تکمیل ہوتا جس کے لئے ٹرمپ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ سعودیوں کی خوش قسمتی کہ ٹرمپ امریکی اسٹیبلیشمنٹ کا دشمن ہے۔ اس نے لمحہ ضائع کئے بغیر ایران کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کو مسترد کر دیا اور اس معاہدے سے امریکہ کو باہر نکال کر ایران پر حملے کی باتیں شروع کر دیں ۔ صرف یہی نہیں بلکہ سی آئی اے جس قاسم سلیمانی کے ذریعے اپنے منصوبے کو آگے بڑھا رہی تھی اسے بھی ڈرون حملے میں مار دیا۔ جن دنوں قاسم سلیمانی کو قتل کیا گیا امریکی اسٹیبلیشمنٹ کے زیر اثرا تمام اہم امریکی نیوز چینل و اخبارات نے ٹرمپ کے اس اقدام پر شدید تنقید کی تھی۔ اس تنقید کا سبب یہی تھا قاسم سلیمانی کے قتل سے امریکی اسٹیبلیشمنٹ کو ٹرمپ نے اس کے سب سے بڑے "اثاثے” سے محروم کردیا تھا۔ قاسم سلیمانی کے قتل کے جواب میں حسب وعدہ عرب ممالک نے ایک ایک کرکے اسرائیل کو تسلیم کرنا شروع کردیا۔ ٹرمپ یہیں نہیں رکا بلکہ اس نے ابوبکر البغدادی کو فوجی آپریشن میں قتل کرکے اس داعش کا بھی سر کاٹ دیا جو عرب ممالک کے سر پر لٹکتی تلوار تھی ۔

یہ بات اچھی طرح ذہن میں بٹھا لیجئے کہ محمد بن سلمان کے اس منصوبے کے پیچھے یہ گیم موجود ہے کہ عرب دنیا کے لئے پچھلے 1400 سال میں یہودیوں سے زیادہ شیعہ درد سر رہے ہیں۔ اور آنے والے وقت میں بھی یہ درد سر ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں رکھتا۔ لھذا اگر اسرائیل کو تسلیم کر لیا جائے تو امریکہ کی طاقتور یہودی لابی اور اسرائیل امریکی اسٹیبلیشمنٹ کے منصوبے کی راہ میں کھڑے ہو جائیں گے اور شیعہ ممالک کا خطے میں بالادستی کا خواب چکنا چور ہوجائے گا۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ امریکی اسٹیبلیشمنٹ کے منصوبے کا اسرائیل پہلے ہی شدید مخالف ہے ۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو باراک اوباما کے خلاف اس قدر آگ بگولہ رہا ہے کہ جب امریکی کانگریس سے خطاب کے لئے اسے مدعو کیا گیا تو اس نے پوری تقریر باراک اوباما اور ایران کے خلاف کھڑکا دی۔ یہ بھی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ کوئی غیر ملکی سربراہ حکومت امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کی اینٹ سے اینٹ بجا رہا تھا اور کانگریس کے اراکین ہر جملے پر کھڑے ہوکر تالیاں بجاتے ہوئے اسے داد دے رہے تھے۔

مذید پڑھیں : کیا پیر افضل قادری TLP کو ہائی جیک کر پائیں گے ؟

اب یہاں یہ باریک نکتہ بھی سمجھ لیجئے کہ امریکی ڈیموکریٹ صدور ہمیشہ فلسطین کے لئے نرم گوشہ رکھتے آئے ہیں۔ بل کلنٹن نے اسرائیل پر دباؤ ڈال کر یاسر عرفات کے ساتھ اسرائیل کا مشہور زمانہ اوسلو معاہدہ کروایا تھا۔ جس کے ردعمل میں اسرائیلی سڑکوں پر نکل آئے تھے اور اس تحریک کی قیادت نیتن یاہو نے ہی کی تھی۔ جس کے نتیجے میں اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن کو یہودیوں قتل کر دیا اور آگے چل کر نتین یاہو کو اقتدار بھی حاصل ہوا ۔ اسرائیل میں یاسر عرفات کے ساتھ امن معاہدہ کرنے والے اسحاق رابن سے نفرت اس شدت کی ہے کہ بعد از مرگ اس کی قبر پر یہودیوں نے توڑ پھوڑ بھی کی اور کتبے پر جلی حروف سے لکھدیا "قاتل کتا” ۔

بات یہیں ختم نہ ہوئی بلکہ یہ بات معروف ہے کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن کو مونیکا لیونسکی اسکینڈل میں پھنسانے والے بھی یہودی تھے۔ باراک اوباما بھی اسرائیل سے متعلق بل کلنٹن والی راہ پر رہا اور فلسطینی ریاست کے قیام پر کام کرتا رہا جس کے نتیجے میں نیتن یاہو سے دشمنی مول لینی پڑی۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے منصوبے کے درست یا غلط ہونے کی بحث اپنی جگہ لیکن محمد بن سلمان نے امریکی اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف کارڈ بہت طاقتور کھیل دیا ہے۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں عرب ممالک اور اسرائیل ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر خطے میں ایران کی بالادستی روک سکتے ہیں۔

یہاں ایک اور باریک نکتہ بھی پورا کھیل واضح کر دیتا ہے ۔ باوجود اس کے کہ محمد بن سلمان بہت تیزی سے سعودی عرب کو ماڈرن ریاست میں تبدیل کر رہا ہے جو ہمیشہ اسلامی ممالک سے امریکہ کا مطالبہ رہا ہے، مگر محمد بن سلمان کو ماڈرنائزیشن کے باوجود امریکی اسٹیبلیشمنٹ بخشنے کو تیار نہیں۔ جس کا ثبوت سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کیس کو امریکی میڈیا میں مسلسل زندہ رکھنے کی شکل میں نظر آرہا ہے۔ یہ بات طے ہے کہ آنے والا ڈیموکریٹ صدر جو بائیڈن ایک بار پھر ایران کے ساتھ امن معاہدے کو آگے بڑھائے گا، چنانچہ لگ یہ رہا ہے کہ بہت ہی جلد سعودی عرب بھی اسرائیل کو تسلیم کرلے گا تاکہ نئے امریکی صدر کی مدد سے امریکی اسٹیبلیشمنٹ کو اپنا منصوبہ آگے بڑھانے سے روکا جا سکے، اور اس کے خلاف اسرائیل کی مدد حاصل کی جاسکے۔ اب آخر میں ایک ہی سوال رہ جاتا ہے۔ اور وہ یہ کہ اس گیم میں پاکستان کہاں کھڑا ہے ؟ پاکستان تیسرے مقام پر کھڑا ہے۔ وہ مقام جہاں اس کا تصور یہ ہے کہ امریکی اسٹیبلیشمنٹ کے منصوبے کو خاک میں ملانے کے لئے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بجائے سعودی عرب اور ایران کی دوستی کروائی جائے۔ اگر ان کی دوستی ہوجائے تو نہ کوئی دشمنی باقی رہے گی اور نہ ہی کسی ایک گروپ کی بالادستی دوسرے کے لئے خطرہ ہو گی ۔