اسٹینڈ فورڈ یونیورسٹی کے ممتاز سائنسدانوں میں پروفیسر ڈاکٹر محمد عامر بھی شامل

کراچی : سر سید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے ایسوسی ایٹ ڈین فیکلٹی آف الیکٹریکل اینڈ کمپیوٹر انجینئرنگ اور شعبہ ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ کے چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر محمد عامر کا نام 2 فیصد عالمی سائنسدانوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے ۔ فہرست میں کم و بیش 243 پاکستانی سائنسدان اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔

اسٹینڈ فورڈ یونیورسٹی ریسرچ سینٹر کی ٹیم نے پروفیسر جان بی اے لونیڈیس کی سربراہی میں یہ فہرست مرتب کی ہے ۔ اس میں انھوں نے سائنسدانوں کی تحقیق کو بہتر انداز میں بیان کرنے والے اشاریوں پر بات کی ہے جن میں انہوں نے سا ءٹیشن ، ایچ انڈیکس، مختلف حوالہ جات ، ایچ ایم انڈیکس سمیت دیگر کئی عوامل کو شاءع کرکے بہتر انداز میں بھر پور ڈیٹا پیش کیا ہے ۔

اس شاندار اور منفرد کامیابی پر ڈاکٹر محمد عامر نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی مسلسل محنت اور یونیورسٹی کی ریسرچ دوست پالیسی کا نتیجہ ہے جو کہ ہمیں ہر طرح کی سہولیات فراہم کرتی ہے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی میں اس وقت تک کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے جب تک آپ پُر آسائش اور سہل پسند ماحول کی کشش سے باہر نہ نکلیں ۔ میں نے ہمیشہ نتاءج کو پیشِ نظر رکھا ہے، سرگرمیوں کو نہیں ۔ نئے خیالات اور نظریات کی تخلیق کے لیے سخت محنت، یکسوئی اور بھرپور توجہ ضروری ہے ۔ سخت محنت، لگن ، جستجو اور اعتماد سے آپ جو چاہے حاصل کر سکتے ہیں ۔

مذید پڑھیں : سعودی وزیر خارجہ کااسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کی تردید

بین الاقوامی شہرت یافتہ ریسرچ جرنلز میں شاءع ہونے اور کانفرنسوں میں پیش کئے جانے والے ڈاکٹر محمد عامر کے ریسرچ پیپرز کی تعداد تقریباََ پچاس ہے جن میں کتابوں کے اسباق بھی شامل ہیں ۔ انھیں اسپین کی وزارتِ تعلیم کی طرف سے یونیورسٹی آف مالاگا میں تدریس کے لیے گرانٹ دی گئی ۔

ڈاکٹر عامر نے مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کے دوران یونیورسٹی آف مالاگا میں Erasmus Mundus اسکالر شپ کے تحت اپنا ریسرچ ورک مکمل کیا ۔ وہ پاکستان میں پی ایچ ڈی امیدواروں کے لیے ہائی ایجوکیشن کمیشن کے منظور شدہ سپروائزر ہیں ۔ پاکستان انجینئرنگ کونسل کے تاحیات ممبر ہیں اور گزشتہ بارہ سال سے IEEE (امریکہ)کے پروفیشنل ممبر ہیں ۔

اسٹینڈ فورڈ یونیورسٹی کے ماہرین شماریات نے ایک لاکھ سے زائد سائنسدانوں کی فہرست جاری کی ہے جس میں سینکڑوں پاکستانی سائنسدان شامل ہیں ۔ یہ افراد اپنے تحقیقی مقالہ جات کے سبب ان دو فیصد بہترین سائنسدانوں میں شامل ہیں جو کئی حوالہ جاتی اشاریوں (انڈیکسنگ) سے سامنے آئے ہیں ۔

مذید پڑھیں : پروفیسر عطا الرحمن کڈنی فاونڈیشن بورڈ کے چیئرمین مقرر

ڈیٹا مرتب کرنے والے ماہرین نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں سائنسی تحقیق کے حوالہ جات کو غلط انداز میں بیان کیا جاتا ہے اور اس تحقیق کا مقصد غلط رجحان کو روکنا تھا ۔ اس فہرست میں سال 2017ء، 2018ء اور2019ء کے حوالے بھی پیش کئے گئے ۔ اس فہرست میں سائنسدانوں کے کام کو 22 مرکزی اور 176ذیلی شعبوں میں بانٹا گیا ہے ۔ ہر محقق کے کم سے کم 5 تحقیقی مقالہ جات کو مدنظر رکھا گیا اور 2019ء کے آخر تک ان کے پورے تحقیقی کیریئر کو سامنے رکھا گیا ہے ۔ یہ رپورٹ اپنے اپنے شعبے کے دو فیصد بہترین ماہرین کو ظاہر کرتی ہے ۔