روشنی

تحریر: محمد اسمٰعیل بدایونی

ارے ان بجلی والوں کو تو اللہ پوچھے مجال ہے جو ڈھنگ سے دو گھنٹے کے لیے بھی بجلی دے دیں ۔۔۔آنکھ مچولی لگا کر رکھی ہوئی ہےایسا لگ رہا ہے سوئچ کے پاس بیٹھا ہوا بس بجلی کو کھولے اور بند کیے جا رہاہے۔اماں جی (دادی جان ) نے کہا ۔

اماں آپ تو جانتی ہی ہیں یہ تو پرانے مسائل ہیں ۔۔۔میں  نے ہنستے ہوئے کہا ۔

ان بجلی والوں کو کوئی شرم نہیں گھروں میں بوڑھے اور چھوٹے بچے بھی ہو تے ہیں انہیں گرمی لگتی ہے ۔۔۔اماں آج بجلی والوں کو بخشنے کے لیے بالکل تیار نہیں تھیں ۔۔۔

اماں جی جانے دو آجائے گی ابھی بجلی ۔۔۔میں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

ارے رات کے نو بج رہے ہیں تمہارے دادا جی آنے والے ہیں اندھیرے میں کیسے آئیں گے ؟اماں جی انھیں کہہ ہی رہیں تھیں کہ گھر کی بیل بجی اور دادا جی نے گھر میں داخل ہو کر سلام کیا : السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !

وعلیکم السلام ورحمۃا للہ وبرکاتہ سب نے سلام کا جواب دیا ۔

ارے یہ بجلی والوں نے آج ناک میں دم کر دیا ۔۔۔ سوسائیٹی والوں کو بولو کہ بجلی باربار کیوں جا رہی ہے تو کہتے ہیں اماں جی ! ان کوؤں کو ہم سے کوئی دشمنی ہے روزتاروں پر آکر اس طرح بیٹھتے ہیں کہ پی ایم ٹی پر دھماکہ ہو جاتا ہے خود بھی مرجاتے ہیں اور ہمیں یہ گرمی جھیلنا پڑتی ہے ۔۔۔اماں جی نے دادا جی کو کرسی دیتے ہوئے کہا۔

مزید پڑھیں: آج کی کہانی والدین کے نام

یہ تو روزانہ ہی کا مسئلہ ہے تم کیوں دل جلاتی ہو ؟ دادا جی نے کہا تو اس سے پہلے اماں جی دوبارہ بجلی والوں کو کچھ کہنا شروع کرتیں میں نے دادا جی سے پوچھا کہ کیا کھانا کھائیں گے ؟

ہاں ! بالکل کھائیں گے پہلےتم اپنے بابا جان کو آنے دو پھر ایک ساتھ لگا لینا جب تک میں عشاء کی نماز پڑھ آؤں ۔۔۔دادا جی نے کہا۔

اچھا وہ ٹارچ لے لینا کہیں گر گرا نہ جاؤ! اماں جی نے یاد دلاتے ہوئے کہا ۔

ہاں ہاں ! میرے موبائل میں ٹارچ ہے میں جلا لوں گا۔۔۔دادا جی یہ کہتے ہوئے مسجد جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ۔

نماز پڑھ کر گھر آئے تو معلوم چلا ابھی تک کفیل گھر نہیں آیا ۔۔۔

فون کر لو۔۔۔دادا جی نے اپنی پریشانی کو چھپاتے ہوئے کہا ۔

دادا جی! فون کیا تھا مگر بابا کا فون سوئچڈ آف آرہاہے ۔۔۔میں نے دادا جی سے کہا ۔

تو بھئی آفس فون کرکے معلوم کرلو۔۔۔دادا جی نے کہا ۔

آفس فون کیا تو معلوم ہوا کہ وہاں سے تو اپنے وقت پر نکل گئے تھے ۔۔۔چلو کچھ دیر میں آجائیں گے۔کہیں باہر دوستوں میں بیٹھ گئے ہوں گے دادا جی نے سب گھر والوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا.

تقریبا رات کے دس بجے بابا جان گھر پہنچے تو ہاتھ پیروں میں پٹیاں بندھی ہوئیں تھیں ۔۔۔

ارے یہ کیا ہوا ہے آپ کو ؟ مما خو فزدہ انداز میں چیخیں تو سب اپنے اپنے کمروں سے باہر آ گئے ۔۔۔

بس بچت ہو گئی ۔۔۔معمولی چوٹیں ٹھیک ہو جائیں گی ان شاء اللہ ۔بابا جان نے صحن میں بچھے تخت پر بیٹھتے ہوئے کہا۔

مزید پڑھیں: کیا آپ جانتے ہیں شب قدر کب ہے؟

یہ سب ہوا کیسے اماں جی نے بابا کے برابر میں بیٹھتے ہوئے پوچھا۔

بس اماں جی بجلی نہیں تھی اندھیرے میں پتہ نہیں چلا سامنے گڑھا تھا تو میں اس میں گر گیا وہ تو ساتھ ایک دوست تھا وہ مجھے ہسپتال تک لے گیا ۔۔۔بابا جان نے بتایا۔

ارے توتمہیں دیکھ کر چلنا چاہیے تھا نا !!!اماں جی نے کہا ۔

اماں اگر روشنی ہوتی تو مجھے نظر آتا نا ! ۔۔۔آنکھیں تو جب دیکھیں گی جب روشنی موجود ہو ،روشنی نہ ہو نے کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آ گیا۔

ان کمبخت بجلی والوں کو تو اللہ پوچھے میرے بچے کے اتنی چوٹ لگ گئی ۔۔۔۔اماں جی نے ایک مرتبہ پھر بجلی والوں کو بد دعائیں دینی شروع کر دیں ۔

اللہ تعالیٰ تمہیں شفا عطا فرمائے آمین ۔۔۔ابھی آرام کرو کل صبح بات کرتے ہیں ۔۔۔دادا جی نے کہا اور پھر سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے سوائے اماں جی میرے اور مما کے ۔۔۔

بابا جان نے دوائی لی جس میں نیند کی دوا بھی شامل تھی  اس لیے کچھ ہی دیر میں سو گئے ۔

دوسرے دن صبح بابا جان خود کو کافی بہتر محسوس کررہے تھے ۔۔۔ صبح سویرے ہی سب پھر صحن میں بابا جان کے پاس موجود تھے

مزید پڑھیں: ” ناگورنو قرہ باغ ” کی کہانی

ہاں بھئی بر خوردار ! اب کیسی طبیعت ہے دادا جی نے بابا سے پوچھا ۔

الحمد للہ! اباجی ! اب کافی بہتر محسوس کررہاہوں ۔۔۔بابا جان نےکہا ۔

میرا خیال ہے آج چھٹی ہی کرو کچھ آرام کرو۔۔۔۔دادا جی نے کہا ۔

نہیں ابا جی ! بس معمولی چوٹ تھی اب ٹھیک ہوں ۔۔۔بابا جان نے کہا ۔

یہ روشنی کا کوئی اور بھی بندو بست ہونا چاہیے بجلی والے تو کبھی بھی بند کردیتے ہیں ۔۔۔میں نے دادا جی سے کہا ۔

ہاں بیٹا! بالکل ایسا ہے روشنی کا بندوبست تو ہونا چاہیے ۔۔۔کل تمہارے بابا کی بات سُن کر میرے ذہن میں ایک بات آئی ۔

وہ کیا ؟ میں نے دادا جان سے پوچھا ۔

یہی کہ کفیل کو کل چوٹ صرف اس لیے لگی کہ روشنی نہیں تھی روشنی ہوتی تو کفیل کو چوٹ نہیں لگتی یعنی روشنی موجود نہ ہو تو آنکھوں کی بینائی بھی کام نہیں کرتی ۔۔۔دادا جی سانس لینے کے لیے رکے تو میں نے کہا : دادا جی ! بات تو بالکل درست ہے اس میں کیا شک ہے ۔

مزید پڑھیں: عید کی خوشیاں (بچوں کی کہانی)

اس میں ایک سبق ہے ہم سب کے لیے ۔۔۔دادا جی یہ کہہ کر رک گئے ۔

سبق کیسا سبق ؟ سب ہی نے چونک کر ایک ساتھ کہا ۔

بچو! اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیان کیا

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا(۱۷۴)

اے لوگو! بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل آگئی اور ہم نے تمہاری طرف  صاف صاف راہ دکھانے والا نورنازل کیا۔

اب جو اس نور کی روشنی میں عقل کی آنکھوں سے دیکھے گا وہ گمراہی کے گڑھے میں نہیں گرے گا اور جو اس وحی الہی کی روشنی کے بغیر محض اپنی عقل پر اعتبار کرے گا کسی نہ کسی گڑھے میں گر جائے گا ۔۔۔

بچو! لازمی اپنی زندگی کو قرآن مجید کی روشنی میں بسر کرنا ورنہ سفر ضائع ہو جائے گا ۔۔۔

مزید پڑھیں: آؤ ! دینِ اسلام کی مدد کریں

دیکھو بچو! جس طرح یہ کوئے تاروں پر آکر بیٹھ جاتے ہیں بجلی والوں کے ناقص نظام کے سبب کوئے بھی مر جاتے ہیں اور ہمیں بھی تکلیف اٹھانا پڑتی ہے بالکل اسی طرح آج کل انسانوں میں کچھ لبرل اور سیکولر قسم کے کوئے آکر مختلف جگہوں پر بیٹھ جاتے ہیں کائیں کائیں کر کے شور مچاتے ہیں اور موجودہ دور میں امت مسلمہ کے ناقص تعلیمی نظام کے سبب نورِ ہدایت سے دور لے جاتے ہیں ۔۔۔ خود بھی گمراہی کےگڑھے میں گر کر ہلاک ہو جاتے ہیں اور انسانوں کی رہنمائی کے لیے جو قرآن کا نور ہے ۔۔۔۔روشنی ہے ۔۔۔اس سے دور کسی اندھیرے میں لے جاتے ہیں اور اب کہتے ہیں عقل کی بینائی کے ساتھ سفر کرو ۔۔۔اب سفر تو وحی الہی کی روشنی میں ہی ممکن ہے اور وہ ہدایت کی روشنی کے بغیر سفر چاہتے ہیں  ۔۔۔لبرل اور سیکولر اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے کسی نہ کسی گمراہی کے گڑھے میں جا گرتے ہیں خود بھی ہلاک ہو جاتے ہیں اور دوسروں کو بھی ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں ۔۔۔

لہذا ہر وقت ، ہمہ وقت خود پر لازم کر لو تم نے اس روشنی سے دور نہیں جانا ۔۔۔اپنی زندگی کا تمام سفر اس روشنی میں طے کرنا ہے ۔

ابا جی ! آپ نے بر وقت اور بالکل درست رہنمائی کی ہم سب کی اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگی اسی نور کی روشنی میں بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔بابا جان نے کہا ۔