مردہ پرست قوم !

تحریر : محمد نذیر کاغانی

پیشگی معذرت ! ممکن ہے آپ کے لیے یہ  جسارت ناقابلِ قبول ہو۔مولانا خادم حسین رضوی کی وفات پر عام مسلمان کی مانند مجھے بھی دکھ ہوا اور ان کے جنازے پر امڈ آنے والا انسانوں کا جم غفیر عام مسلمان کی طرح میرے لیے بھی قابلِ رشک تھا۔ مگر کیا کیا جائے حالات و واقعات کی حقانیت اور ناقابلِ تردید شواہد کا جو کسی بھی عقل مند انسان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں اور سبق سکھانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

مولانا خادم حسین رضوی کی شُہرت غازی ممتاز حسین قادری کی شہادت کے بعد ہوئ، جی ہاں شہادت کے بعد ۔ غازی ممتاز قادری کا اپنے ہم مسلک لوگوں پر بالخصوص اور عامۃ السلمین پر بالعموم قرض تو یہ تھا کہ ان کے جرات مندانہ اقدام کے بعد مؤثر جدوجہد کے ذریعے پھانسی کے فیصلے پر عملدرآمد رکوایا جاتا ، کیوں کہ سلمان تاثیر ملعون ایک مباح الدم انسان تھا اس کے قاتل کو شرعاً قتل نہیں کیا جا سکتا تھا، اس شرعی نکتے کے باوجود بریلوی حضرات سمیت کسی نے بھی ایسی مؤثر قانونی سیاسی اور مزاحمتی جدوجہد  نہیں کی، جس کے نتیجے میں غازی ملک ممتاز قادری کی پھانسی کے ناجائز فیصلے پر عمل درامد رک جاتا۔سو اس مرحلے پر سستی کاہلی اور بزدلی دکھانے کے ہم سب ہی مجرم ہیں ۔

مزید پڑھیں: عشق رسول ﷺ میں جینا اور مرنا اہل حق کا شیوہ ہے : محمد ثروت اعجاز قادری

یوں سمجھ لیجیے کہ غازی ممتاز قادری کی پھانسی سراسر قتلِ ناحق تھا ، جسے متحدہ قانونی سیاسی اور مزاحمتی تحریک کے ذریعے روکا جا سکتا تھا ، اور ایسی متحدہ سیاسی قانونی اور مزاحمتی تحریک غازی کے ہم مسلک علماء مشائخ اور گدی نشین حضرات سمیت کوئی بھی جماعت برپا نہ کسی۔اور یوں ایک قتلِ ناحق روکنے میں ہم سب ناکام رہے۔جس کا گناہ سب کے سر رہے گا۔

غازی کی میت کو لے کر جتنی پبلک اپنے اپنے گھروں سے نکلی جن جن علماء و مشائخ نے شہرت کمائ اور جن جن لوگوں کو جو جو فائد ے سمیٹنے کا موقعہ ملا ، انسانوں کا جم غفیر علماء و مشائخ کی قطاریں اور دیگر عقیدت مندوں کے گلہائے عقیدت غازی کی  اسیری کے ایام میں انہیں متحدہ اور موثر مزاحمتی تحریک کی صورت میں میسر آجاتے تو منظر مختلف ہوتا۔

غازی کے قتلِ ناحق کے بعد اہلِ کوفہ کے طرز پر بہت سوں نے اپنے اپنے دامن سے خون کے چھینٹے دھونے کی کوشش کی۔ کہیں مظاہرے ہوئے، کہیں ٹائر جلے، روڈ بلاک کیے گئے، دھرنے ہوئے، مارچ ہوئے اور نہ جانے کیا کیا ہوا،جو ہوا بعد از مرگ ہوا۔

اس بہتی گنگا میں تین تیراک مشہور ہوئے، پیر افضل قادری ، مولانا اشرف آصف جلالی اور مولانا خادم حسین رضوی ۔ مولانا خادم حسین رضوی چونکہ پہلے دونوں سے مختلف تھے انہوں نے ناموس رسالتِ مآب علیہ افضل الصلوت کی پہرے داری کو اپنا اورڑھنا بچھونا بنایا، گو کہ انہوں نے اس پاکیزہ نام سے منسوب جدوجہد کے دامن میں اہلِ اقتدار کے ناپاک عزائم کو بھی پناہ دی اور نتیجہ خیز بنانے کی کوشش بھی کی۔اہلِ خرد اس المیے کو رضوی صاحب کی سادگی اور اہلِ اقتدار کی مکروہ فکر سے ہی تعبیر کر سکتے ہیں ۔

اب چونکہ رضوی صاحب بھی ہم میں نہیں رہے،اور ان کے انتقال کے کے بعد مینارِ پاکستان پر ان کی مغفرت کی خاطر جمع ہونے والی خلقِ خدا اللہ جل جلالہ کے حضور ان کے لیے دست بدعاہے ، امید ہے اللہ کریم کرم نوازی کا معاملہ فرمائیں گے۔

مزید پڑھیں: مولانا خادم حسین رضوی پر درجنوں مقدمات قائم ہوئے ،172 روز جیل کاٹی

قابلِ غور بات یہ ہے،جس ظالمانہ نظام کی بھینٹ غازی ممتاز قادری چڑھے ، جو سفاکانہ طرزِ حکومت اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رائج چلا آرہا ہے ،جس جابرانہ نظام انصاف نے معاشرے میں تباہی بپا کر رکھی ہے اور جو نظام حکومت سرورِ کائنات خاتم النبیین سیدنا ومولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک اور مطہر نظامِ حکومت سے میل نہیں کھاتا۔۔۔۔۔۔۔۔طرفہ تماشا یہ کہ ریاستِ مدینہ کے نام پر ہمارے اوپر مسلط کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے چھٹکارے کی کوئی تدبیر ہمارے زیرِ غور ہے یا نہیں؟اور جبر کے خلاف مزاحم علماء کرام کے ساتھ چلنے کے لیے ہم تیار ہیں یا نہیں؟

یاد رکھیے ! جانے والا اپنے وقت پر جاتا ہے،پیچھے رہ جانے والوں کا فرض ہے زندگی میں اپنے فرائض کا ادراک کریں، میدانِ عمل کو سمجھیں وقت کے تقاضے کو دیکھیں ، میدان میں موجود شہسواروں کے قدموں سے قدم ملا کر چلیں،پتنگوں کی مانند بکھرنے سے بچیں،دامنِ دل کو کشادہ کر کے اجتماعیت کو فروغ دیں اور انقلابی جدوجہد کے ذریعے حالات کا دھارا بدل دیں۔تاکہ آئندہ کے لیے کوئ ناحق قتل بھی نہ اور مقدس عنوان کی آڑ میں کوئ بھی اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل نہ کر سکے۔