وفاق اور سندھ کا اسکولوں کی تعطیلات پر پھر اختلاف

کورونا وائرس کی دوسری اور خطرناک لہر سامنے آنے کے بعد تعلیمی اداروں کے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا تاہم اس مرتبہ پھر وفاق اور سندھ کے درمیان اختلافات سامنے آگئے ہیں۔

اس حوالے سے وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا کہنا ہے کہ اس سال کسی صورت بغیر امتحانات کے کلاسز میں بچوں کو پروموٹ نہیں کیا جائے گا، ہماری تجویز ہے کہ تمام تعلیمی ادارے بند نہ کیے جائیں۔

انھوں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ کنڑول (این سی او سی) کے اجلاس میں موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسکول بند کرنے ہیں تو ایسے پرائمری اسکولز کو بند کیا جائے جس میں انرولمنٹ 73 فیصد ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا تھا کہ تمام وزرائے تعلیم نے اسکولوں کی بندش پر اتفاق کیا تھا اور 26 نومبر سے 24 دسمبر تک کے لیے اسکولوں میں بچوں کی حاضری نہیں ہوگی جبکہ تعلیمی اداروں کو صرف آن لائن تعلیم دینے کی اجازت ہوگی۔

مزید پڑھیے: پاکستان بھر کے تعلیمی ادارے 10 جنوری تک بند

انھوں نے بتایا تھا کہ 24 دسمبر کے بعد موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان ہوجائے گا اور تمام تعلیمی ادارے 10 جنوری تک بند رہیں گے۔

تاہم اب سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا ہے کہ کلاس 6 اور اس سے آگے کی تمام کلاسز کو جاری رکھا جائے، نویں ، دسویں، گیارہویں اور بارہویں کے امتحانات مئی اور جون میں لینے کا فیصلہ نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ آگے کی صورت حال کو دیکھ کر بعد میں فیصلہ کیا جائے، چھوٹے نجی اسکولز کو مالی ریلیف کے لیے بینکوں سے آسان شرائط پر قرضے دیے جائیں۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ قرضوں پر سود وفاقی حکومت ادا کرے تاکہ یہ نجی اسکولز بدحالی کا شکار نہ ہوں۔

انھوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ اسکولوں کے ساتھ ساتھ ہمیں ٹیوشن اور کوچنگ سینٹرز کو بھی اس میں شامل کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیے: مدارس کے طلبہ نے منفرد احتجاج کر کے مثال قائم کر دی

صوبائی وزیر نے کہا کہ تمام غیر تدریسی سرگرمیاں اس سال مکمل طور پر تعلیمی اداروں میں بند کرنی چاہیئں، جو اسکولز آن لائن تعلیم دینا چاہتے ہیں وہ آن لائن تعلیم دیتے رہیں۔

سعید غنی نے یہ بھی کہا کہ والدین بچوں کو اسکول نہ بھیجنا چاہیں تو اسکولوں کو ان بچوں کیخلاف ایکشن نہ لینے کا پابند کیا جائے۔

واضح رہے کہ دینی مدارس کو کورونا لاک ڈاؤن کی نرمی کے بعد پہلے سے ہی کھول دیا گیا تھا تاکہ طلبہ کے تعلیمی سال کو ضائع ہونے سے بچایا چاسکے جس کے بعد اتحاد تنظیمات مدارس کے تحت تمام مدارس کے طلبہ کو پروموٹ کرنے کے بجائے امتحانات منعقد کیے تھے۔

تاہم دوسری جانب وفاقی اور سندھ کے اختلافات اور پھر مختلف اسکولز ایسوسی ایشنز کے متفق نہ ہونے کے باعث اسکولوں میں بچوں کے تعلیمی سال کی بربادی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔