جامعہ اردو میں 1 ارب 34 کروڑ روپے کے خرد برد کا انکشاف

پاکستان میں سرکاری اداروں کے آڈٹ کے لیے قائم اعلیٰ ترین سرکاری ادارے، آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو بھیجی جانے والی ایک خصوصی رپورٹ میں وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کی تعمیر میں ایک ارب 43 کروڑ روپوں کی مالی بے ظابطگیوں اور خردبرد کی نشاندہی کی ہے۔

اس سے قبل اے جی پی اپنی رپورٹ میں وفاقی اردو یونیورسٹی کی جانب سے موصول ہونے والے جوابات کو ناکافی قرار دے چکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی کے اسلام آباد کیمپس کی تعمیر کے معاملات پر خصوصی آڈٹ رپورٹ 2018-19 میں مجموعی طور پر ایک ارب 43 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں اور ممکنہ طور پر خرد برد کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اے جی پی کی رپورٹ میں انکشکاف ہو ا ہے کہ یونیورسٹی کی جانب سے جمع کروائے جانے والے حسابات میں 69 کروڑ روپے سے زائد کی رسک انشورنس پالیسیوں سے متعلق کوئی بھی دستاویز شامل نہیں ہے۔

اے جی پی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں یونیورسٹی نے فقط اتنا کہا کہ یہ ٹھیکیدار کی ذمہ داری تھی اور یہ کہ اگلے بل میں یہ کٹوتی کر دی جائے گی۔

اے جی پی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ یونیورسٹی نے اگلے بل میں کٹوتی کا وعدہ کر کے اس سلسلے میں ہونے والی انتظامی کوتاہی کو تسلیم کیا ہے جبکہ اگلے بل میں اس قسم کی کٹوتی کے شواہد پیش نہیں کئے گئے۔

خصوصی آڈٹ رپورٹ میں اے جی پی نے لکھا کہ پی ایس ڈی پی کے پروجیکٹ کے لیے علیحدہ اکاونٹ بنانے کی شرط پر عمل نہیں کیا گیا اور اس طرح سرکاری خزانے کو 37 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔

رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ فنانس ڈویژن کے قوائد و ضوابط 2008 کے مطابق پی ایس ڈی پی کے پروجیکٹس کے لیے علیحدہ پرواجیکٹ اکاؤنٹ ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ یونیورسٹی کے اسلام آباد کیمپس کی تعمیر کا پروجیکٹ 2013 میں منظور ہوا۔

اے جی پی کی جانب سے اٹھائے جانے والے آڈٹ کے پیرا کے جواب میں یونیورسٹی نے موقف اختیار کیا کہ اس سلسلے میں یونیورسٹی کو کوئی ہدایت موصول ہی نہیں ہوئی۔ اس وقت کے وائس چانسلر نے اس رقم کو ایک نجی بینک میں کھولے جانے والے کرنٹ اکاونٹ میں جمع کروادیا۔

خصوصی رپورٹ میں 3 کروڑ روپے کی اس رقم کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو اسلام آباد کیمپس کی تعمیر کے لیے یونیورسٹی کے کراچی کیمپس کے نام جاری کی گئی لیکن کیمپس کی تعمیر کے لیے ایک نجی بینک میں کھولے گئے اکاونٹ میں یہ رقم کبھی بھی وصول نہیں ہوئی۔ اس سلسلے میں اے جی پی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا یونیورسٹی نے جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔

اسی طرح خصوصی رپورٹ میں ناقص اور غیر معیاری کام کے عوض 3 کروڑ روپے کی بدعنوانی کی نشاندہی کی۔ یونیورسٹی نے اے جی پی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں لکھا کہ ہم استعمال ہونے والے بلاک اور سیمینٹ کے جائزے کے لیے سرکاری ایجنسی کی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ اے جی پی کی رپورٹ میں 1.649 ملین کی اضافی ادائیگیوں، 23.646 ملین روپے انڈمنٹی بونڈ کی عدم موجودگی، ماحولیاتی جائزہ رپورٹ کے حصول پر عدم عمل درآمد، 35.876 ملین کے غیر میعاری ٹھیکوں، 2.846 ملین کی غیر قانونی ادائیگیوں، 181.218 ملین کی پروکیورمنٹ کے مراحل میں بے ضابطگیوں، 60.288 ملین کے نقصانات سے متعلق مالی خردبرد اور بے ضابطگیوں کو اپنی رپورٹ کا حصہ بنایا ہے۔

وفاقی اردو یونیورسٹی کے اسلام آباد کیمپس کی انتطامی بلاک کی تعمیر کا عملی آغاز 2018 میں ڈاکٹر الطاف حسین نے شروع کروایا تھا جبکہ اس دوران ریٹائرڈ بیوروکریٹ جاوید اشرف 2014 سے یونیورسٹی کی سینیٹ میں ڈپٹی چئیر کے عہدے پر موجود ہیں۔

انہیں سابق صدر پاکستان ممنون حسین نے وزیر اعظم نوازشریف کی خصوصی درخواست پر ڈپٹی چئیر کے عہدے پر فائز کیا تھا اور تین سال بعد ان کو اسی عہدے پر دوبارہ تعین کر دیا گیا۔

اس دوران رجسٹرار کے عہدے پر محمد افضال 2018، ڈاکٹر محمد صارم 2018-20 اور ڈاکٹر محمد ساجد جہانگیر 6 ماہ کے عرصے کے لیے رجسٹرار کے عہدوں پر فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔