نیشنل بک فاؤنڈیشن نے سندھ کے کالجز میں قادیانیوں کی کتابیں بھیج دیں

کراچی : کتابوں کے قومی ادارے نیشنل بک فاؤنڈشن کراچی دفتر نے غیر مسلم اقلیت قادیانی لابی کی کتابیں سرکاری خرچہ پر سندھ بھر کے کالجز میں بھیجنا شروع کر دی ہیں ۔

نیشنل بک فائونڈیشن کی جانب سے بھینی جانے والی ان کتابیں میں کل 11 کتابیں شامل ہیں ۔ ان کتابوں میں ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی لکھی گئی متنازعہ کتابیں ہی شامل ہیں ۔ جن میں

”اللہ کی عادت“

عظیم کائنات کا عظیم خدا “

من کی دنیا،

میری آخری کتاب ،

تاریخ حدیث،

دو قرآن،

الحاد مغرب اور ہم،

بھائی بھائی،

رمزِ ایمان،

حرف مجرمانہ نامی کتابیں شامل ہیں ۔ حیرت انگیز طور پر ان کتابوں کا انتساب ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی جانب سے قادیانیوں کے نام کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ” اُن احمدی بھائیوں کے نام جنہیں حق و صداقت سے محبت ہے، اور جو تلاش حقیقت کے لئے بے تاب ہیں ۔

مذید پڑھیں : چلنے سے معذور عالمِ دین عوام کو چلنا سیکھا گیا

الرٹ نیوز کو موصول ہونے والے لیٹر کے مطابق ریجنل ڈائریکٹر کالجز کراچی مولانا ڈاکٹر حافظ عبدالباری اندھنڑ کی جانب سے کراچی کے کالجز کے پرنسپلز کے نام حکم جاری کیا گیا تھا کہ کالجز کے طے شدہ بجٹ سے نیشنل بک فاؤنڈیشن سے کتابیں خریدیں اور لائبریریوں میں رکھیں ۔

اپنی حیثیت میں یہ لیٹر بھی متنازعہ ہے کیوں کہ ریجنل ڈائریکٹر کسی بھی طور پر ایسے ادارے سے کتابیں خریدنے کا حکم نہیں دے سکتے جو ادارہ نصاب کی کتابیں شائع ہی نہ کرتا ہوں ، تاہم اگر ریجنل ڈائریکٹر کی جانب سے یہ حکم دیا بھی گیا تھا کہ تو پرسپلز کی جانب سے اپنی مرضی سے طلبا و طالبات کی ضرورت کے پیش نظر ہی کتابوں کا انتخاب کرنے بھی اجازت دی جاتی ۔

تاہم ریجنل ڈائریکٹر کالجز کراچی کی جانب سے جاری ہونے والے اس لیٹر کے ساتھ ساتھ ایک لیٹر باقاعدہ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ریجنل ڈائریکٹر کو بھی لکھا گیا تھا ، جس کے بعد نیشنل بک فائونڈیشن نے از خود ہی کتابیں کالجز میں پہنچانی کا ‘‘مخلصانہ فریضہ‘‘ انجام دینا شروع کر دیا ہے ۔

مذید پڑھیں : اسم بامسمٰی شخصیت کے مالک “پرنسپل فقیر الدین” سے ملاقات

نیشنل بک فاؤنڈ یشن نے قادیانیوں کو نوازنے کے لئے متنازعہ کتابیں سندھ بھر کے کالجز کی لائبریری میں پہنچا دیئے ہیں، ان کتابوں میں ابتہائی زیادہ توہین آمیز مواد موجو د ہے ۔ سازش کے تحت مسلسل نصاب اور کالجز کی لائبریریوں مین قادیانیوں کا مواد پہنچانے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں ۔

الرٹ نیوز کے مطابق بعض پرنسپلز کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل کالجز عبدالحمید چنڑ اور ریجنل ڈائریکڑ کالجز حافظ عبدالباری اندھنڑ کو خط لکھ کر درخواست کی گئی ہے کہ وہ کتابوں کی اس پالیسی پر غور کریں کیوں کہ جو کتابیں طلبہ کو درکار ہیں وہ یا تو نیشنل بک کے پاس ہیں ہی نہیں اور اگر بعض کتب موجود بھی ہیں تو ان کی حالت یعنی بائنڈنگ وغیرہ بالکل بھی میعاری اور قابل استعمال نہیں ہے ۔

تاہم قادیانیوں نوازی کی ان کتب پر بھی بعض پرنسپلز کو اعتراضات تھے جن پر ڈی جی کالجز کو آگاہ کیا گیا ہے ۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن کی جانب سے براہ راست کتابیں بھیجنے کے ساتھ ساتھ بعض کالجز کے پرنسپلز کو لیٹر لکھ کر کہا گیا وہ لسٹ بھیجیں کیوں کہ ان کے آر ڈی نے خط لکھا ہے ۔ اپنے ہی خط کا انتظار کرنے کے بجائے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے متنازعہ کتابیں از خود ہی کالجز کو بھیج دی ہیں ۔

مزید پڑھیں : ملک بھر کے 43 صحافیوں نے آگاہی ایوارڈ جیت لیئے

اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ عبدالحمید چنڑ کا کہنا ہے کہ میں نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔ کیوں کہ مجھے شکایات ملی تھیں کہ کالجز کو اس طرح کی کتابیں بھیجی گئی ہیں ، میں نے ایسی کتابوں کو فی الفور ہٹانے کا حکم دیا ہے اور ہمیں اس کی انکوائری کریں گے کہ کس نے اس طرح کی حرکت کیوں ہے اور اس پر نیشنل بک فاؤنڈ یشن کے حکام سے بھی پوچھییں گے ۔

ادھر مذہبی حلقوں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ جان بوجھ کر سندھ کیری کلم کونسل ، سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ ، اور سندھ کے کالجز میں قادیانیت نوازی کی جا رہی ہے  جس کے خلاف جلد سخت لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا ۔