منافقت یا استحمار ۔۔؟

بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو والدین کے مرنے کے بعد قرآن خوانیوں ،خیراتوں اور ایصال ثواب کے نام پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں مگر جب ان کے والدین زندہ تھے تب یہ شقیق القلب ان پر اس رقم کا ایک تہائی حصہ بھی خرچ کرنے کو تیار نہ تھے۔ کچھ مدت قبل ایک جاننے والے کے والد کا انتقال ہوا اسے ایصال ثواب کے دورے پڑنے لگے ۔اس مسجد میں اتنے اس میں اتنے۔ حالانکہ معلوم ہوا کہ جب تک والد زندہ تھا ان کے درمیان پیسوں کی لین دین کی وجہ سے آئے روز لڑائیاں چلتی رہتی تھیں کیونکہ والد سخی اور فیاض تھے اور یہ شوم اور کنجوس ۔

یہ ایک نہیں بلکہ ایسے متعدد واقعات میں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں۔ ایک شخص کی والدہ کمبل مانگتے مانگتے دنیا سے چلی گئی ۔ وہ  استطاعت کے باوجود بیوی کے بہکاوے میں آکر کمبل خریدنے پر راضی نہ ہوا اور جب وہ دنیا سے چلی گئی تو بھینس خرید کر خیرات کردی۔

مزید پڑھیں: آج کی کہانی والدین کے نام

یہی حال ہمارے ان دوستوں کا ہے جو کسی کے مرنے کے انتظار میں رہتے ہیں ۔ ادھر کسی بڈھے کی روح پرواز کرگئی اور ادھر ان کے ادبی ذوق میں نکھار آگیا ۔۔لکھنے کے لئے طبیعت کھل گئی۔

 آہ ۔واہ۔۔ ہائے ۔۔ یادگار تھا۔ فلاں تھا۔

سارے گھسے پھٹے جملے جو کثرت استعمال سے اپنے حقیقی معنی بھی کھو چکے ہیں۔ جنہیں پڑھ کر جذبات پر کسی قسم کا اثر محسوس نہیں ہوتا۔  انہیں لکھ لکھ کر خود نمائی کرتے رہیں گے۔

بھئی مردوں کو اچھے لفظوں یاد کرنے کی تاکید ضرور کی گئی ہے مگر تاکید یاد کرنے کی نہیں ہے بلکہ یاد کرنے کی صورت میں  مناسب  لفظوں کے چناو کی ہے۔

مرحوم اگر اتنے آئیڈیل تھے تو کس بھلا نے تمھارے پیروں میں زنجیریں  ڈالی ہوئی ہیں ۔۔۔ جاؤ ۔۔اٹھاو پائنچے ۔۔۔ اس جیسا عمل شروع کردو۔ تم اگر زندگی بھر کسی تحریک کا عملی ، فکری اور مالی ساتھ نہیں دے سکتے تو روح رواں کے مرنے کے بعد بھی اوقات میں رہیں۔

یہ داعشی طرز عمل ہے ۔ آئیڈیا لوجیکل تنظیموں کی فہرست اٹھاکر دیکھ لیجیے ۔یہ تنظیمیں کسی نہ کسی مرحوم کی شخصیت یا شہادت کو کیش کرکے سادہ لوحوں کے دل ودماغ کے خزانوں پر ڈاکے ماررہی ہیں۔

مزید پڑھیں: سفید موتیوں کا شہر

انصاف یہ ہے کہ ہم اپنے درمیان باکردار شخصیات کو تلاش کریں ۔ ان کے وژن کے ساتھ ان کے عمل اور جدوجہد پر غور کرکے ان کے ساتھ عملی تعاون کرنا شروع کریں ۔تحریر سے۔۔ تقریر سے ۔ نظریاتی وفکری تبلیغ سے یا کسی بھی طور پر ۔ اس کے علاوہ بعد از مرگ کسی ایسے شخص کے خاکے اور قلمی چہرے لکھنا  یا تو مناقفت اور  دکھلاوا ہے یا پھر   استغباء اور استحمار ہے جس کا مقصد اپنے مفادات کھرے کرنے کے سوا کچھ نہیں۔