“جامعہ فریدیہ” گلشن جو ویران ہوگیا

تحریر: عبید الرحمن حقانی

  • جامعہ فریدیہ کا آنکھوں دیکھا حال ۔۔۔۔ ایک دکھی کہانی ۔۔۔۔
  • مہتمم اور نائب مہتمم کا قضیہ اور واقفان حال ۔۔
  • اس سارے قضیہ میں نہ مولانا عبد العزیز صاحب کی غلطی ہے
  • اور نہ مولانا عبد الغفار صاحب کی غلطی ہے ۔

اگر حق بجانب ہوکر اس ساری صورت حال کو دیکھیں تو ساری غلطی صرف اور صرف جامعہ فریدیہ کے ان اساتذہ کرام کی ہے جو انہوں نے آخری لمحہ میں ایک ناعاقبت اندیشی کا فیصلہ کر کے لیا ۔ اس لئیے کوئی بھی رائے قائم کرنے سے پہلے تحقیق کرلیں پہر بات کرلیں یہ نہیں کہ امریکہ میں بیٹھ کر فیس بک پر ہی فیصلہ سنادیں کہ کون حق پر کون غلطی پر۔ یہ سارا معاملہ ان دو حضرات کے گرد گھومتا ہے ان میں سے ایک نے تو بہر حال جانا ہی تھا سب اس سے واقف تھے تو باقیوں کو کیا ہوا جب مولانا عبد العزیز صاحب کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو مولانا عبد الغفار صاحب کی جانے سے کیوں فرق پڑے گا۔

سانحہ لال مسجد سے پہلے تک بھی یہ ادارہ آب تاب کے ساتھ مولانا عبد العزیز صاحب ہی کے اختیار میں چل رہی تھی اس وقت مولانا عبد العزیز صاحب کو ہی سب کچھ سمجھ رہے تھے کہ مولانا ہے تو ادارہ ہے ورنہ نہیں ۔ اچانک سانحہ لال مسجد ہوجاتا ہے سب کچھ تبدیل ہوجاتا ہے اس کے بعد حالات تبدیل ہوتے ہیں ادارہ زیرہ سے عروج پاتا ہے اور مولانا عبد الغفار صاحب نے ادارہ سنھبالا جیسے پہلے مولانا صاحب سب کچھ تھے تو اب یہ کہنا مشاہدے کے باجود یہ ہے تو ادارہ ہے ورنہ نہیں یہ کہا کا انصاف ہے۔

مزید پڑھیں: جامعہ فریدیہ و لال مسجد کا قضیہ مگر ہے کیا ؟‌

تفصیلات کا جائزہ:

گزشتہ ہفتے سے مولانا عبد العزیز صاحب اور مولانا عبد الغفار صاحب کے درمیان کش مکش چل رہی تھی کہ کون انتظام چلائے۔ کبھی اساتذہ سے رائے لی گئی، کبھی طلباء سے، اسی کش مکش میں مولانا عبد العزیز صاحب کا پلڑا ہی بھاری رہا۔ جب طلباء کی اکثریت نے مولانا عبد العزیز صاحب کو جامعہ فریدیہ سے واپس جانے سے روک دیا تو مولانا عبد الغفار صاحب نے تمام اساتذہ کا اجلاس بلایا، مولانا صاحب کو پتہ چلا کہ اجلاس ہے  شرکت کی غرض سے اس اجلاس میں پہنچے تو سب اساتذہ کے سامنے بحث مباحثہ شروع ہوا ۔

اجلاس کا اختتام اس نقطے پر ہوا کہ مولانا عبد الغفار صاحب نے رضا کارانہ طور پر نائب اہتمام اور ادارہ چھوڑنے کی پیش کش سامنے رکھ دی، اس پر اساتذہ سے رائے لی گئی تو کچھ بڑے اساتذہ نے بھی مولانا عبد الغفار صاحب کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئیے اپنے استعفے پیش کئے۔ جس میں نامی گرامی مولانا مفتی آمین صاحب شیخ الحدیث، مولانا مفتی فاروق صاحب، مولانا معظم علی صاحب، مولانا مجیب الرحمن اور مولانا زبیر صاحب شامل ہیں۔

مولانا عبد العزیز صاحب نے جب حالات دیکھے کہ حل کی بجائے خراب ہو رہے ہیں تو خیر سگالی کے طور پر خود حق پر ہوتے ہوئیے بھی صرف اور صرف للہیت اور اخلاص پر مبنی فیصلہ کیا وہ یہ کہ ادارے اور طلباء کی مستقبل کے مفاد میں اپنے موقف سے پیچھے ہٹا ہوں ۔ اوریہ پیشکش کی کہ اتنے اساتذہ کی جانے سے بہتر ہے کہ عارضی طور پر میں واپس چلا جاؤں باقی اختلافی معاملات آہستہ آہستہ طے کرلیں گے جب اگر میری زندگی میں اسلامی نظام آئیے گا تو خود اس کا کنٹرول سنھبال لوں گا۔

مزید پڑھیں: لال مسجد سے نکلتی چنگاریاں کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں

سب اساتذہ نے اس پر بڑی خوشی کا اظہار کیا مگر کسی استاذ کا استعفی نہیں آیا کہ مولانا عبد العزیز صاحب جارہے تو ہم بھی جارہے چلیں وہ ایک الگ بحث ہے ۔ اگلہ مرحلہ طلباء کا تھا طلباء کی اکثریت مولانا صاحب کے جانے کی حامی نہیں تھے تو ان کو سمجھانے کے لئیے طلباء کو مسجد میں جمع کیا اور مولانا عبد العزیز صاحب اور مولانا عبد الغفار صاحب نے بیانات کئیے ساری صورت حال سے طلباء کو آگاہ کیا اور مولانا عبد العزیز صاحب نے انتہائی سختی کے ساتھ طلباء کو منع کیا کہ کوئی گروپ بندی نہیں ہوگی میرے جانے پر کوئی جامعہ نہیں چھوڑے گا اور میرے پیچھے کوئی نہیں آئیے گا تاکہ ادارے کا نظام درھم برہم نہ ہو جائیے ۔حضرت نے واپسی کی راہ  اختیار کرتے ہوئیے ام حسان صاحبہ کو بڑی مشکل سے راضی کر لیا ۔

یہ جو تاثر دیا جارہا کہ اس سب میں ان حسان صاحبہ کا کردار ہے یہ سب سراسر جھوٹ اور الزام تراشی ہے سب فیصلے مولانا عبد العزیز صاحب نے خود ہی کئے اور خود ہی واپس لئیے  حالانکہ آخری لمحے میں ام حسان صاحبہ واپسی کے فیصلہ سے بلکل متفق نہیں تھے مگر مولانا صاحب نے ان کو منالیا اور وہ بھی آکر مولانا صاحب کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی کچھ لوگ بغیر تحقیق کے الزامات کے بوچھاڑ کر رہے ہیں ان کو اپنی باتوں پر غور کرنا چاہیے کہ بغیر تحقیق کے الزام تراشی کسی مسلمان کو شیوہ ہے ۔

مگر طلباء سے رہا نہ گیا بلک بلک کر روتے ہوئے مولانا صاحب کے گاڑی کے آگے آکر کھڑے ہوئیے کہ آپ نہ جائیں ان کو دیکھ کر معلمات جامعہ حفصہ بھی پہنچ گئی کہ ہم بھی آپ کو جانے نہیں دیں گے ان بچوں کی خاطر ہی صحیح یہ آپ کا ادارہ ہے آپ کا حق ہے اگر مولانا عبد الغفار صاحب کے جانے پر اساتذہ استعفی دے رہے تو ہم بھی آپ کے جانے پر ایک دو نہیں بلکہ 200 استانیاں متفقہ طور پر استعفی دیں گے اور جامعہ حفصہ چھوڑ کر چلی  جائیں گے۔

مزید پڑھیں: سیکیورٹی اداروں کا جامعہ اردو پر چھاپہ، 4 مشتبہ افراد گاڑی سمیت گرفتار

اگر استعفی ہی مسئلے کا حل ہے تو یہ آپشن ہمارے پاس ان سے زیادہ ہے ۔ اب معاملہ ایک دفعہ پہر الجھ گیا مولانا صاحب دونوں جانب سے پھنس گئیے کہ کس کا مانیں اور کس کا نہیں ۔ بالآخر طلباء اور استانیوں کے موقف کو سامنے رکھ کر واپسی کا فیصلہ ایک دفعہ پہر موخر کردی کہ صلح صفائی سے کسی نہ کسی طرح معاملات مل جل کر حل کر لیں گے کہ نہ مولانا عبد الغفار صاحب جائیں اور نہ مولانا عبد العزیز صاحب اس طرح جائیں۔

اس فیصلے کا آنا تھا کہ جامعہ فریدیہ کے کچھ اساتذہ نے کمپین شروع کی کہ اب مولانا کو دباؤ میں لاکر واپسی پر مجبور کیا جائیے اس میں ایک آپشن کلاسوں کا ہڑتال تھا کہ ہم پڑھانے کلاسوں میں نہیں جائیں گے اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم سے مولانا عبدالعزیز صاحب برداشت نہیں یا مولانا عبد لعزیز صاحب رہیں گے یا ہم اور مولانا عبد الغفار صاحب رہیں گے۔ تو اس مہم میں اور اساتذہ کو بھی اپنے ساتھ ملا کر اجتماعی استعفے تک بات پہنچائی ۔ کہ اگر مولانا نہیں جا رہے تو ہم پچاس کے لگ بگ اساتذہ مولانا عبد الغفار صاحب کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئیے استعفی دیکر ہم بھی جائیں گے۔

تو اچانک استعفوں کی بات کہاں سے آئی اور پہر اجتماعی طور پر صرف صرف مولانا پر پریشر بلڈپ کرنے کے لئیے۔ حالانکہ اس کے بعد بھی کئی دفعہ مولانا صاحب کی طرف سے پیغام دیا گیا کہ مولانا عبد الغفار صاحب اور اساتذہ میں سے کوئی بھی نہ جائے سارے استعفے واپس لیں ہم مل جل کر کام کرتے ہیں مگر مولانا عبد الغفار صاحب اس پر راضی نہ ہوئے اور جانے پہ بضد ہوئے۔ اچانک تمام طلباء نکل کھڑے ہوئیے  تو مولانا صاحب نے بھی اب اصرار کیا کہ مولانا عبد الغفار صاحب اور ایک دو استاذ بہر صورت میں جائیں باقی اساتذہ ٹھہریں ہاں جس کو جانا ہے  اختیار ہے جائیے مگر خاموشی سے اور وہ خاموشی ان کا یہ تھا۔

مزید پڑھیں: فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے نکالا جائے۔پیر سید عنایت علی شاہ بادشاہ

اور اس سے بڑھ کر جامعہ کے اساتذہ نے طلباء کو بار بار یہ پیغام دیا کہ آج تمام اساتذہ نے استعفے جمع کرائے ہیں اور وہ جا رہے ہیں اور طلباء کے گھروں کو بھی فون کردئیے کہ بچوں کو آکر واپس لیجائیں۔ اس سے بڑھ کر یہاں تک کہ وفاق کے داخلہ فارم طلباء نے جمع کرائیے تھے وہ بھی طلباء کو واپس کر دئیے کہ اب ہم داخلہ نہیں بھیج رہے تم لوگ جانوں اور داخلہ جانوں  آج کے بعد کوئی پڑھائی نہیں ہوگی ہم جا رہے ہیں کل یہاں حکومت آپریشن کرے گا لہذا جتنی جلدی ہو سکے یہاں سے چلے جاؤ ورنہ ہم ذمہ دار نہیں ۔

بھائی اگر تم لوگوں نے استعفی دیکر جانا ہی تھا تو طلباء کی ذھن سازی کیوں کی جو کل تک مولانا کے ساتھ کھڑے تھے ان کو اتنا پریشر میں کیوں ڈالا کہ وہ بھی سب کے سب جانے پر تیار ہوگئے۔ اگر آپ ادارے کے ساتھ مخلص تھے تو اپ ایک فرد کی کی خاطر اجتماعی استعفی پیش نہ کرتے۔ اگر اپ دین کے ساتھ مخلص ہوتے تو ایک فرد کی خاطر پوری جامعہ کی نظام کو درھم برھم نہ کرتے ۔اور طلباء کو جانے پر مجبور نہ کرتے ۔

جس طرح کچھ لمحے پہلے مولانا عبد العزیز صاحب ادارے کے مستقبل کی خاطر قربانی دیکر طلباء کو سمجھایا کہ آپ نے میرے پیچھے کہیں نہیں جانا تو اپ لوگ اگر اتنے مخلص تھے تو اپ بھی طلباء کو جمع کرکے ایک بیان کر سکتے تھے کہ طلباء کرام ہم جا رہے ہیں مگر ادارہ یہی ہے آپ کا ادارہ آپ کا مستقبل آپ کہیں نہ جائیں پڑھائی اسی ترتیب سے جاری رہی گی ہم نہیں تو کوئی اور استاذ آئیں گے مگر آپ نے ہماری وجہ سے جامعہ نہیں چھوڑنا یہ ہوتا ہے ہے للہیت اور اخلاص ۔ یہ نہیں کہ ہم جا رہے ہیں بس تم بھی سامان پیک کرو جلدی سے ادارہ جانے مولانا عبد العزیز جانے ام حسان جانے طالبات جانیں ۔

یہ ایک انتہائی دکھ اور دل کو پاش پاش کردینے والا حال تھا جس کا ہم نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ۔ اپ خود سوچیں آپ کے سامنے آپ ہی کا ادارہ اس طرح اچانک ٹوٹ کر بکھر جائیے تو اپ یہ تکلیف اور دکھ درد کیسے برداشت کر پائیں گے ۔ میں سلام پیش کرتا ہوں مولانا عبد العزیز صاحب کے استقامت کو اس تکلیف اور اس سے بڑھ کر سانحہ لال مسجد کو کھلے دل سے برداشت بھی کیا بلکہ سہہ بھی لیا یہ ہر کسی کی بس کی بات نہیں ۔ یہ اساتذہ کرام جو اس ادارے کے تباہی کے ذریعہ بنے ہیں انشاء اللہ روز محشر میں جوابدہ ہوں گے وہاں ان کے ساتھ انصاف ہوگا ۔

مزید پڑھیں: وفاقی جامعہ اردو میں اقربا پروری کے ہوش رُبا انکشافات، من پسند افراد نواز دیئے گئے

ہر بڑے بڑے سے ادارے میں ایسے معاملات کا سامنا ہوتا ہے اختلافات پیدا ہوتے ہیں کوئی آتا ہے تو کوئی جاتا ہے چاہیے سرکاری ادارہ ہو یا غیر سرکاری ۔ حکومت بھی پانچ سال کے لئیے منتخب ہوکر گھر چلا جاتا ہے مگر ملک اور ادارہ اسی طرح بحال رہتا ہے اور نظام چلتا رہتا ہے ۔

ہاں البتہ اتنی بات ہے کہ کچھ افراد کی وجہ سے ادارے میں کچھ کمی بیشی محسوس کی جا سکتی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ  دور ہوجاتی ہے اس کی جگہ کوئی اور لیتا ہے ادارے افراد کے محتاج نہیں ہوتے افراد ادارے کے محتاج ہوتے ہیں ۔ اس کی واضح مثالیں موجود ہیں چاہیے وہ دینی ادارہ ہو یا دنیوی۔ کوئی ایک فرد یہ دعویٰ کرے کہ میں ہوں تو ادارہ ہے نظام قائم ہے اگر میں نہ ہوا تو کچھ بھی نہیں یہ اس کی غلط فہمی ہے بڑے سے بڑے شیوخ الحدیث ادارے چھوڑ کر جاتے ہیں ان کی جگہ کوئی اور پر کر لیتا ہے ۔

مگر جو کردار جامعہ فریدیہ کے اساتذہ نے اپنایا وہ ناقابل قبول اور ناقابل فہم اور یکسر ناعاقبت اندیشی پر مبنی تھا کسی بھی طرح اس کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ صرف ایک فرد کی خاطر پورے ادارے کو قربان کردیا اور اس سے بڑھ کر طلباء کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا۔ کیا اس رویہ پر قیامت کے دن جوابدہ نہیں ہوں گے یہ اساتذہ وہ اپنے گریباں میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر سوچیں کہ کیا ان کا یہ رویہ ٹھیک تھا ۔

مزید پڑھیں: جامعہ کراچی IBA کے طلبہ قابلِ اعتراض حالت میں پکڑے گئے

اب سارہ ملبہ مولانا عبد العزیز صاحب اور ان حسان صاحبہ پر ڈالہ جا رہا ہے۔ ان کا اس میں کوئی کردار نہیں۔ کچھ سال پہلے تک مولانا عبد العزیز صاحب ادارہ کو فل اختیار کے ساتھ چلا رہے تھے سانحہ لال مسجد سے پہلے تک اس وقت بھی ادارہ عروج پر تھا تین سے چار ہزار طلباء پڑھتے تھے اس وقت بھی یہ خیال تھا مولانا عبد العزیز صاحب نہیں تو ادارہ بھی نہیں ہوگا مگر سانحہ لال مسجد کے بعد سب نے کہا اب ادارہ ختم ہوچکا برباد ہوچکا اب یہ نہیں چلے مولانا صاحب  کا کوئی متبادل نہیں۔ مگر مولانا عبد الغفار صاحب آگے بڑے ہمت کی جرات کی اور جامعہ فریدیہ ایک سال بند رہنے کے بعد کھلا تو اسی آب تاب کے ساتھ چل نکلا اور آج یہ ادارہ وفاق المدارس کے پوزیشن ہولڈروں میں سر فہرست ہے ۔ وہی صورت حال آج بھی دیکھنے کو ملا کہ مولانا عبد الغفار صاحب نہیں تو ادارہ نہیں سانحہ لال مسجد سے پہلے یہی باتیں مولانا عبد العزیز صاحب کے متعلق کہی جا رہی تھی ۔ اس وقت بھی ادارہ مشکلات کے باوجود چل نکلا تو اب بھی انشاء اللہ العزیز چل نکلے گا وہ خانہ کوئی اور پر کر لے گا جو ان اساتذہ کی وجہ سے خالی ہوگیا ۔

 

 خلاصہ کلام

اس سارے مرحلے میں آخری وقت میں اساتذہ نے جو رویہ اپنایا وہی ادارے کی تباہی کا ذریعہ بنا اور اس میں ساری غلطی جامعہ کی اساتذہ کا ہے  انہوں نے اسکو عنایت کا مسئلہ بنایا جو بھی کہہ دیں غلطی غلطی ہوتا ہے اگر ہ اپنے استاد ہی کیوں نہ کرے جو بھی ہو حق بات کھل کر کرنی چاہیے ۔۔ اگر وہ مولانا صاحب کو برداشت کرلیتے اور مل جل کر کام چلاتے یا اگر جانا ہی تھا تو طلباء کو جانے کا نہ کہتے تو یہ گلشن آج ویران نہ ہوتا ۔