اسم بامسمٰی شخصیت کے مالک “پرنسپل فقیر الدین” سے ملاقات

انٹرویو : حافظ سرفراز ترین

اکثر آپ نے سنا ہوگا کہ فلاں شخص اسم بامسمٰی ہے لیکن آج میں آپ کی ملاقات ایک ایسے شخص سے کرواتا ہوں جو واقعی اسم بامسمٰی ہے۔ ان کے ساتھی اساتذہ، ہم منصب اسکول سربراہان یا جو لوگ  انھیں ذاتی طور پر جانتے ہیں وہ میرے ساتھ ضرور اتفاق کریں گے، میری مراد انتہائی متواضع شخصیت کے مالک، فقیر منش انسان ممتاز ماہر تعلیم اور ضلع ہری پور کے سب سے کم عمر گریڈ انیس کے پرنسپل فقیر الدین ہیں۔

میں گورنمنٹ سینیٹینل ماڈل اسکول تربیلہ ٹاؤن شپ کے ٹیچر جہانگیر خان کی ہمشیرہ کی تعزیت کے لیے  محلہ پھولدھار کھلابٹ میں حاضرہوا تو وہاں میری ملاقات محترم فقیرالدین سے ہوگئی، انھوں نے اپنے گھر پر چائے کی دعوت اتنے اخلاص اور اصرار کے ساتھ دی کہ انکار کی کوئی گنجائش نہ رہی چونکہ میں خود بھی ان کی تدریسی اور انتظامی صلاحیتوں کا معترف ہوں، لہذا موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ان کے تعلیمی سفر، سروس کیریئر، پے درپے پلک سروس کمیشن کے ذریعے سکیل سولہ، سترہ اور اٹھارہ میں سلیکشن کے رازوں کے حوالے گفتگو شروع کردی۔ جس کا خلاصہ قارئین کے ساتھ شیئر کررہا ہوں۔

آپ کا تعلق متاثرین تربیلہ ڈیم کی مردم خیز بستی کھلابٹ ٹاؤن شپ کے محلہ دربند ہے، فقیر الدین کا تعلق راجپوت برادری سے ہے۔ آپ 28 مئی 1972ء کو پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول سیکٹرنمبر 1 کھلابٹ ٹاؤن شپ جبکہ میٹرک فرسٹ ڈویژن میں گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول سیکٹر نمبر 1 کھلابٹ ٹاؤن شپ سے کی اس کے بعد گورنمنٹ ڈگری کالج ہری پور سے ایف ایس سی فرسٹ ڈویژن میں کی۔ ایف ایس سی کے بعد فقیرالدین کا داخلہ انجنیئرنگ یونیورسٹی پشاورمیں ہوگیا۔ تاہم والد محترم محمد داؤد کی ناگہانی وفات کی وجہ سے ریگولر اسٹڈی کی عیاشی جاری نہ رکھ سکے اور انجنیئرنگ کی تعلیم ادھوری چھوڑدی۔

مزید پڑھیں: استاد کا احترام کل اور آج

اس کے بعد آپ نے گورنمنٹ ایلیمنٹری کالج ہری پور میں سی ٹی کورس میں داخلہ لے لیا اور فرسٹ ڈویژن کے ساتھ سی ٹی کا امتحان پاس کیا ۔سی ٹی کورس کی تکمیل پر کورس میں شریک تمام طلبہ کو فی کس پانچ سور وپے سے زائد وظیفہ دیا گیا۔ باقی طلبہ نے تو اس رقم سے سینما جانے اورسیر سپاٹے کا پروگرام بنایا لیکن آپ وظیفے کی رقم لیکر سیدھے ڈاکخانے پہنچے اور بی اے کا پرائیویٹ داخلہ بھیج دیا۔  جس کا فائدہ یہ ہوا کہ آپ کی تقرری تو انٹر کی بنیاد پر بی پی ایس 9 میں ہوئی لیکن کچھ ہی عرصے بعد جب بی اے کا ریزلٹ آیا تو آپ کو بی پی ایس 14 مل گیا۔

اسی دوران 4 مارچ 1993ء کو آپ کی تقرری بطور سی ٹی ٹیچر گورنمنٹ مڈل اسکول کنیر امازئی میں ہوگئی گریجویشن کے بعد پشاور یونیورسٹی سے فرسٹ پوزیشن کے ساتھ بی ایڈ کیا آپ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ایم ایڈ کے پہلے بیج کے طلبہ میں سے ایک ہیں، ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر امتیازعلی بھی ایم ایڈ میں آپ کے کورس میٹ تھے فقیر الدین نے پشاور یو نیورسٹی سے پرائیویٹ طور پر ایم اے اردو کیا اور حیرت انگیز طور پر پوری یورنیورسٹی میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی جوکہ کسی پرائیویٹ طالبعلم کے لیے کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں ایم اے اردو میں پروفیسر ڈاکٹر منور رؤوف جوکہ انتہائی سخت گیر ممتحن کے طورپر مشہور تھیں اور کسی بھی طالبعلم کو 45 سے زائد نمبرنہیں دیتی تھیں لیکن فقیر الدین کو انھوں نے 75 نمبردیے۔

فقیرالدین یونیورسٹی میں سیکنڈ پوزیشن اور زبانی امتحان میں اتنے زیادہ نمبر لینے کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے ایم اے اردو کی تیاری میں گائیڈوں پر انحصار کرنے کی بجائے نصاب میں شامل تمام مصنفین کی 100 کے قریب کتب کا حرف بحرف مطالعہ کیا اردو میں ان کی دسترس کی وجہ سے دو مرتبہ ان کی سلیکشن آرمی اور ایئرفورس کے تعلیمی اداروں میں بطور لیکچرار اردو ہوئی لیکن انھوں نے جوائننگ نہیں کی۔

سروس کیریئر

فقیرالدین نے چار مارچ 1993ء کو بطور سی ٹی ٹیچر گورنمنٹ مڈل اسکول کنیر امازئی سے اپنے سروس کیریئر کا آغاز کیا۔ تقریباً بارہ سال تک سی ٹی پوسٹ پر تعینات رہے 2005ء میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ایس ایس ٹی پوسٹ پرسلیکٹ ہوگئے اور گورنمنٹ ہائی اسکول حطارمیں آپ کی تقرری ہوئی اٹھارہ ماہ تک وہاں تعینات رہے 2007ء میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہیڈ ماسٹر بی پی ایس 17کی پوسٹ پر سلیکٹ ہوئے اور گورنمنٹ ہائی اسکول دو بندی ہری پور میں تعینات کیے گئے اس سے پہلے بطور ٹیچر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواچکے تھے چونکہ آپ ٹیوشن بھی پڑھاتے رہے ہیں لہذا پرائمری کلاسز سے لیکر جماعت دہم تک کی ہر کلاس کے تمام مضامین کی تدریس پر عبور حاصل ہے تاہم ریاضی کی تدریس آپ کی خصوصی پہچان رہی ہے بطور ہیڈماسٹر تقرری کے بعد آپ کو اپنی انتظامی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا

یہی وجہ ہے انتہائی مختصر عرصے میں گورنمنٹ ہائی اسکول دو بندی کے طلبہ کی تعداد 150 سے بڑھ کر 395 ہوگئی۔ 2011ء میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پرنسپل بی پی ایس 18کی 26 پوسٹوں پر ہزارہ سے صرف دو افراد کی سلیکشن ہوئی جن میں ہری پور سے صرف آپ کی سلیکشن ہوئی آپ کو کم عمر ترین پرنسپل سلیکٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ 2011ء میں فقیرالدین کا تبادلہ گورنمنٹ ہائی اسکول آلولی ہوگیا۔ 2016ء میں آپ کو محکمانہ طور ترقی دیکر بی پی ایس 19 میں پرنسپل کی پوسٹ پر تعینات کردیاگیا۔

مزید پڑھیں: اُسامہ بن لادن کا انٹرویو پلانٹڈ تھا یا ڈان اخبار کی غلطی ؟

گورنمنٹ ہائی اسکول آلولی میں جب آپ نے اپنی ذمہ داریوں کا چارج سنبھالاتو اسکول میں طلبہ کی تعداد صرف 200 تھی آپ کی قائدانہ اور انتظامی صلاحیتوں کی بدولت والدین کا اعتماد قائم ہوا، والدین نے پرائیویٹ اسکولوں سے اپنے بچے نکال کر ان کے اسکول میں داخل کروانے شروع کردیے، جس کی وجہ سے آلولی میں چار پرائیویٹ اسکول بند ہوگئے اور گورنمنٹ ہائی اسکول آلولی میں طلبہ کی تعداد  200 سے بڑھ کر 504 تک پہنچ گئی۔

آپ کی دلچسپی اور توجہ کا محورومرکزصرف اورصرف اسکول ہے آپ انتظامی پوسٹوں سے کنی کترانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے گورنمنٹ ہائی اسکول آلولی کے وزٹ کے دوران صوبائی ایڈیشنل سیکرٹری ایجوکیشن نے جب اسکول میں طلبہ کی تعداد، تعلیمی معیار، نظم ونسق اور سجاوت سے متاثر ہوکر انھیں صوبائی سطح پر اہم ذمہ داریاں سونپنے کی پیشکش کرکے رابطے کی تو آپ نے کوئی دلچسپی نہ دکھائی۔

فقیرالدین اپنی کامیابیوں کی وجہ والدہ کی دعاؤں اور اپنے کام سے لگن کو قرار دیتے ہیں ان کا نظریہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص اپنے فرض سے لگن کا ثبوت دیتے ہوئے دیانتداری اور دلجمعی سے اپنا کام کرتا ہے تو اللہ کریم اسے ضرور نوازتا ہے۔