چین مین ہزاروں اویغوروں مسلمان عقوبت خانوں میں قید ہیں ،بی بی سی اردو

چین کے خفیہ کیمپ
سنکیانگ کے لاپتہ اویغوروں کے ساتھ کیا ہوا؟

چین پر الزام ہے کہ اس نے مغربی خطے سنکیانگ میں لاکھوں مسلمانوں کو بغیر مقدمہ چلائے قید رکھا ہوا ہے .چینی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ افراد اپنی مرضی سے حکومت کے ایسے خصوصی مراکز میں زیرِ تربیت ہیں جن کا مقصد دہشت گردی اور مذہبی انتہاپسندی سے نمٹنا ہے .

اب بی بی سی کی ایک تحقیق کے دوران نئے اہم حقائق سامنے آئے ہیں .
صحرا میں قید
بارہ جولائی دو ہزار پندرہ کو ایک سیٹیلائٹ چین کے دوردراز مغربی خطے میں واقع صحرا اور نخلستانوں پر سے گزرا۔اس نے جو تصاویر کھینچیں ان میں سے ایک میں سرمئی ریت کا ایک ان چھوا، خالی قطعہ بھی دکھائی دے رہا تھا۔

یہ موجودہ زمانے میں حقوقِ انسانی کے بارے میں اٹھائے جانے والے اہم ترین سوالات میں سے ایک کے بارے میں تحقیقات کے آغاز کے حوالے سے بہت غیرمتعلق سا مقام لگتا ہے۔

تاہم تین برس بعد بائیس اپریل دو ہزار اٹھارہ کو صحرا کے اس ٹکڑے پر کچھ نیا دکھائی دیا۔اس عرصے میں وہاں ایک بہت بڑا کمپاؤنڈ تعمیر ہو چکا تھا۔دو کلومیٹر طویل چاردیواری نے اس کمپاؤنڈ کو گھیرا ہوا تھا اور اس کی نگرانی کے لیے سولہ حفاظتی ٹاور بھی بنائے گئے تھے۔

گذشتہ سال پہلی بار چین سے یہ خبریں سامنے آنا شروع ہوئیں کہ وہاں اویغور مسلمانوں کو مخصوص کیمپوں میں قید کیا جا رہا ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے یہ مناظر سامنے آنے کے بعد محققین نے گوگل ارتھپر اس بارے میں مزید تفتیش شروع کر دی۔ اس کی مدد سے یہ بات سامنے آئی کہ سیٹلائٹ میں نظر آنے والا کیمپ سنکیانگ کے دارالحکومت ارمچی سے ایک گھنٹے کے فاصلے پر واقع دابن چنگ نامی چھوٹے سے قصبے کے باہر قائم ہے۔

باہر سے آنے والے صحافیوں کے لیے پولیس کے سخت پہرے اور جانچ پڑتال سے بچنے کے لیے ہم ارمچی کے ہوائی اڈے پر علی الصبح پہنچے۔ لیکن جب تک ہم دبانچنگ پہنچے ہمارے پیچھے کم از کم پانچ گاڑیاں تھیں جن میں چند پولیس اہلکار اپنے یونیفارم میں تھے جبکہ چند پولیس اہلکار سادہ لباس میں ملبوس تھے اور ان کے ساتھ چند سرکاری اہلکار بھی شامل تھے۔یہ ظاہر تھا کہ ہمارا اگلے چند دنوں میں درجن سے زائد مشکوک قیدی کیمپوں کا دورہ کرنا کافی مشکل ہوگا۔

جیسے جیسے ہم اپنے راستے پر آگے جا رہے تھے ہمیں اندازہ تھا کہ کچھ ہی دیر میں ہمارے پیچھے آنے والا قافلہ ہمیں روکنے کی کوشش کرے گا۔لیکن چند سو میٹر آگے جانے کے بعد ہم نے ایک حیرت انگیز منظر دیکھا جس کی ہمیں کوئی توقع نہ تھی۔جو میدان سیٹلائٹ تصاویر میں بالکل خالی اور بنجر تھا، ہمارے سامنے وہ مختلف حال میں نظر آیا۔اس کی جگہ پر ایک بڑی سی عمارت تعمیر ہو رہی تھی۔

اسے دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ صحرا میں ایک چھوٹا سا شہر آباد کیا جا رہا ہے۔ وہاں جگہ جگہ کرینیں کام کر رہی تھیں اور چار منزلہ اونچی متعدد عمارتوں کی تعمیر جاری تھی۔ ہم نے کیمرے کی مدد سے اس علاقے کی عکس بندی شروع کر دی لیکن زیادہ آگے جانے سے پہلے ہی ایک پولیس گاڑی تیزی سے ہماری طرف آئی اور ہمیں روکنے کے بعد کہا کہ کیمرہ بند کرو اور یہاں سے چلے جاؤ۔

لیکن یہاں آنے سے ہم پر ایک ایسی حقیقت آشکار ہوئی جو کہ باہر کی دنیا کی نظروں سے مکمل طور پر اوجھل تھی۔اس مقام پر بڑی تیزی سے تعمیراتی کام جاری تھا اور گوگل ارتھ پر ایسے دور دراز کے علاقوں میں ہونے والی تبدیلیاں فوراً نظر نہیں آتیں اور باز اوقات وہ مہینوں یا سالوں بعد نظر آتی ہیں۔

دیگر سیٹلائٹ سروسز کی تصاویر کی مدد سے زمین پر ہونے والی تبدیلیاں جلد سامنے آتی ہیں لیکن ان تصاویر کا معیار اتنا عمدہ نہیں ہوتا۔ لیکن انھی سیٹلائٹ کی مدد سے ہمیں وہ مل گیا جس کی ہمیں تلاش تھی۔

دبانچینگ اپریل 2018، گوگل ارتھ کے مطابق

اکتوبر 2018 میں لی گئی سینٹیل امیجز کی اس تصویر سے ظاہر ہے کہ تعمیراتی کام میں کتنا اضافہ ہوا ہے .اکتوبر 2018 میں سینٹیل امیج سیٹلائٹ کی مدد سے سامنے آنے والی تصاویر سے یہ معلوم ہوا کہ اس مقام پر جاری تعمیراتی کام کتنا زیادہ پھیل گیا تھا اور ہمیں اسی کی توقع تھی۔

ہمیں شک تھا کہ اس مقام پر قیدیوں کے ایک بڑے کیمپ کی تعمیر جاری ہو گی لیکن ہم نے یہ نہیں سوچا تھا کہ وہاں تعمیر ہونے والا کیمپ اس قدر بڑا ہو گا۔اور سنکیانگ بھر میں گذشتہ کئی سالوں میں اسی حجم کے کئی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔اس زیر تعمیر کیمپ کے دورے سے قبل ہم دبانچنگ میں واقع ایک قیدیوں کے ‘تربیتی مرکز’ گئے تھے۔

وہاں پر کھل کر بات کرنا تقریباً ناممکن تھا۔ ہر جگہ پر نگرانی کرنے والے قریب میں موجود تھے اور ہر وہ شخص جو ہمیں سلام بھی کرتا، وہ نگران اُس سے سختی سے پیش آتے۔یہاں پر کئی ہزار لوگ موجود ہیں۔ ان کے خیالات کچھ صحیح نہیں‘۔سنکیانگ کا ایک رہائشی

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم نے دبانچنگ میں مختلف فون نمبرز پر کال کرنا شروع کر دی۔ہمارا ایک ہی سوال تھا۔یہاں قائم ہونے والی اتنی بڑی عمارت جس کی حفاظت کے لیے 16 گارڈ ٹاورز تعمیر کیے گئے ہیں، ان میں ایسا کیا ہے کہ حکام ہمیں اس کی ویڈیو بھی بنانے نہیں دے رہے۔ایک ہوٹل والے نے ہمیں بتایا کہ یہ دوبارہ تربیت فراہم کرنے والا سکول ہے۔

اسی بات کی تصدیق ایک دکان والے نے بھی کی۔ ‘یہاں پر کئی ہزار لوگ موجود ہیں۔ ان کے خیالات کچھ صحیح نہیں‘۔لیکن اس بڑی سے عمارت کو دیکھ کر کہیں سے ایسا نہیں لگتا تھا کہ یہ کوئی سکول ہے۔حقیقت یہ ہے کہ چین کے صوبے سنکیانگ میں ‘سکول جانا’ ایک بالکل مختلف اور انوکھا معنی رکھتا ہے۔مجھے اپنی غلطیوں کا مکمل ادراک ہو گیا ہے .

اویغور سکولوں پر چین کے سرکاری ٹی وی کی ایک رپورٹ کا عکس

چین مسلسل انکار کرتا رہا ہے کہ وہ مسلمانوں کو بغیر مقدمہ چلائے حراست میں رکھ رہا ہے۔چین کے سرکاری ٹی وی پر دکھائے جانے والے ان ’سکولوں‘ کے اندرونی مناظر،اور ان کیمپوں کے مقصد کے لیے ایک لفظ بہت پہلے سے موجود ہے – تعلیم و تربیت۔

جیسے جیسے عالمی تنقید بڑھتی جا رہی ہے چینی حکام نے اپنے اس موقف کو مزید بڑھا چڑھا کر پروپیگنڈے کی شکل میں بیان کرنا شروع کردیا ہے۔

ریاستی سرپرستی میں چلنے والا ٹی وی اس بارے میں رپورٹس دکھا رہا ہے جس میں صاف ستھرے کمرۂ جماعت اور شکرگزار طلبہ دکھائے جاتے ہیں جو نصاب پر راضی ہیں۔اس بات کا کوئی ذکر نہیں کہ ان طلبہ کا انتخاب اس ’تربیت‘ کے لیے کن بنیادوں پر کیا گیا اور یہ تربیتی عمل کب تک جاری رہے گا۔لیکن کچھ اشارے موجود ہیں۔

یہ انٹرویو اعترافی بیان سے محسوس ہوتے ہیں۔ایک شخص کیمرے میں دیکھ کر کہتا ہے ’میں اپنی کوتاہیوں سے واقف ہو چکا ہوں۔ گھر جا کر اچھا انسان بنوں گا‘۔ہمیں بتایا گیا کہ ان سکولوں کا مقصد قانونی تھیوری، ہنرمندی اور چینی زبان کی تربیت کے امتزاج کی مدد سے دہشتگردی سے نمٹنا ہے۔آخری چیز سے ظاہر ہے کہ آپ چاہے اسے جو بھی کہیں سکول یا کیمپ – اصل ہدف ایک ہی ہے۔یہ مراکز سنکیانگ کی مسلم اقلیت کے لیے بنائے گئے ہیں جن میں سے اکثر چینی زبان نہیں بولتے۔ویڈیو کے مطابق سکول میں ایک ڈریس کوڈ ہے اور ایک بھی خاتون سر پر حجاب پہنے دکھائی نہیں دیتی۔

سنکیانگ میں ایک کروڑ اویغور آباد ہیں۔

وہ ترکس زبان بولتے ہیں اور شکل و صورت میں چین کی ہان آبادی کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیائی علاقوں کے افراد سے بھی ملتے ہیں۔جنوبی شہر کاشغر کو اکثر بیجنگ سے زیادہ بغداد کے قریب کہا جاتا ہے اور اکثر یہ ثقافتی طور پر لگتا بھی ہے۔چینی حکومت سے بغاوت اور مزاحمت کی تاریخ کے تناظر میں اویغوروں اور ان کے موجودہ سیاسی حکمرانوں کے تعلقات زیادہ خوشگوار نہیں۔

کمیونسٹ دور سے پہلے سنکیانگ مختصر عرصے تک آزاد بھی رہا۔ اس کے بعد سے وہاں مظاہروں اور تشدد کا سلسلہ وقتاً فوقتاً چلتا رہا ہے۔جرمنی سے رقبے میں پانچ گنا بڑے اس خطے میں تیل اور گیس جیسے قدرتی وسائل کی بدولت یہاں بڑے پیمانے پر چینی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں جہاں معاشی ترقی ہوئی وہیں ہان چینی آباد کار بھی آئے۔

اویغوروں میں وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم کے مسئلے پر بےچینی پائی جاتی ہے۔

اس تنقید کے جواب میں چینی حکومت سنکیانگ کے شہریوں کے بہتر ہوتے ہوئے معیارِ زندگی کا حوالہ دیتی ہے۔تاہم گذشتہ دہائی میں اس خطے میں دنگوں، انٹر کمیونٹی لڑائیوں، مربوط حملوں اور پولیس کی جوابی کارروائیوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اکتوبر 2013: تیانمن سکوائر کو ایک کار حملے کے بعد بند کیا گیا جس میں دو افراد مارے گئے

تاہم 2013 میں بیجنگ کے تیانمن سکوائر پر راہگیروں پر ہونے والے حملہ جس میں تین اویغور ملوث تھے ایک اہم موڑ ثابت ہوا.اگلے برس سنکیانگ سے دو ہزار کلومیٹر دور واقع چینی شہر کنمنگ میں چاقوؤں سے مسلح اویغور حملہ آوروں نے 31 افراد کو قتل کر دیا۔گذشتہ چار برس میں سنکیانگ میں سکیورٹی کے سخت ترین اقدامات دیکھنے کو ملے ہیں۔

ان میں چہروں کی شناخت کرنے والے کیمروں اور موبائل فون کا مواد پڑھنے والے آلات کی تنصیب اور آبادی کا بایومیٹرک ڈیٹا جمع کیا جانا شامل ہے۔

اب وہاں لمبی داڑھیاں رکھنے اور حجاب اوڑھنے پر سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ بچوں کے اسلامی نام رکھنے کے حوالے سے بھی بندشیں موجود ہیں۔

پالیسی میں ایک واضح تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔ علیحدگی پسندی کو چند افراد کا نہیں بلکہ اویغور ثقافت سے خصوصاً اور اسلام سے عموماً جڑا مسئلہ سمجھا جا رہا ہے۔

اویغور اب مجموعی طور پر شک کے دائرے میں ہیں۔

ان کی نسلی بنیادوں پر پروفائلنگ کی جا رہی ہے اور انھیں ان ہزاروں شناختی چوکیوں پر روک لیا جاتا ہے جہاں سے چینی ہان باشندے آرام سے گزر جاتے ہیں۔

کاشغر میں ایک پولیس چیک پوائنٹ، مارچ 2017
انھیں سفری پابندیوں کا بھی سامنا ہے چاہے وہ سفر سنکیانگ میں ہو یا اس سے باہر۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے پاسپورٹ پولیس کے پاس باحفاظت رکھنے کے لیے جمع کروا دیں۔اویغور سرکاری ملازمین اسلام پر اعلانیہ عمل پیرا نہیں رہ سکتے۔ وہ نہ ہی مسجد جا سکتے ہیں اور نہ ہی رمضان میں روزے رکھ سکتے ہیں۔

کاشغر میں ایک بند مسجد پر چینی پرچم لہرا رہا ہے .

اس سب کے بعد شاید اس بات میں حیرانگی نہ ہو کہ چین نے اپنے متعدد اویغور کی شہریوں کے بارے میں سمجھی گئی غداری یا سرکشی کا ایک اور قدیم حل نکالا ہے۔حکومت کی تردید کے برعکس ان انٹرمنٹ کیمپوں کی موجودگی کے بارے میں اہم شواہد حکام کی جانب سے ہی آئے ہیں۔

جرمنی سے کام کرنے والی اکیڈمی ایڈرین زینز نے تحقیقات میں ان دستاویزات کا پتہ لگایا جو کہ مقامی حکومت کی جانب سے ٹھیکے کے لیے ممکنہ ٹھیکیداروں اور سامان مہیا کرنے والوں سے بولی مانگی تھی۔ان دستاویزات میں سنکیانگ کے مختلف علاقوں میں درجنوں الگ الگ مراکز کی تعمیر یا ان کو تبدیل کرنے میں معلومات دی گئیں تھیں۔

بہت سارے معاملات میں ان ٹھیکوں میں سکیورٹی کے جامع انتظامات کے بارے میں کہا گیا تھا جیسا کہ نگرانی کے ٹاورز، خاردار تاریں، نگرانی کے نظام اور محافظوں کے لیے کمرے شامل تھے۔

جرمن ادارے نے ان معلومات کی تصدیق کے لیے دوسرے میڈیا ذرائع کا استعمال کیا اور اس سے اندازہ ہوا کہ لاکھوں اور ممکنہ طور پر دس لاکھ اویغور اور دیگر اقلیتی مسلمان ان کیمپوں میں ہو سکتے ہیں۔

اور یہ کہ ان دستاویزات میں ان مراکز کا بطور انٹرنمنٹ کیمپ کا ذکر کبھی نہیں کیا گیا لیکن تعلیمی مراکز یا زیادہ بہتر ترجمہ کیا جائے تو ری ایجوکیشن مراکز کا نام دیا گیا۔

ان میں سے ایک یقیناً ایک وسیع و عریض مرکز کا ان کے ساتھ تعلق ہو سکتا ہے جس کا ہم نے دورہ کیا تھا اور جولائی 2017 میں تبدیل کیے گئے تعلیمی سکول کے کمروں کو گرم کرنے کے لیے ٹھیکہ جاری کیا گیا تھا

کسی ابتر بات کو اچھے انداز سے کہنے کے ساتھ اقدامات اور بیان کی گئی تعداد سے تیزی سے قید و بند کے بڑے پیمانے پر نیٹ ورک کے وجود کے بارے میں بنا غلطی کیے کہا جا سکتا ہے’وہ ایغور شناخت مٹا دینا چاہتے ہیں’

سنہ 2002 میں ریلا ابولیتی پڑھائی کی غرض سے سنکیانگ سے برطانیہ گئیں۔وہاں ان کی ملاقات ایک برطانوی شخص سے ہوئی جس سے انھوں نے شادی کر لی اور ان کے بچے ہو گئے۔گذشتہ سال بھی ریلا ابولیتی کی والدہ ہر سال کی طرح گرمیوں میں اپنی بیٹی اور اپنے نواسے سے ملاقت کرنے اور لندن گھومنے پھرنے آئیں۔چھیاسٹھ سالہ ژیا موژنیرپیدا سابق انجینئر ہیں اور ماضی میں وہ سرکاری ادارے کے ساتھ طویل عرصے تک منسلک تھیں۔

ژیا موژنیرپیدا

اپنی بیٹی سے ملاقات کے بعد دو جون کو وہ وطن واپس لوٹ گئیں۔لیکن جب ریلا کو اپنی والدہ کی طرف سے وطن واپس پہنچنے پر کوئی خیر خبر نہیں ملی تو انھوں نے گھر فون کیا۔اس مختصر گفتگو میں انھیں جو بتایا گیا وہ بہت دل دہلا دینے والا تھا۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ریلا کہتی ہیں کہ ان کی والدہ نے اُنھیں بتایا کہ ‘پولیس والے گھر کی تلاشی لے رہے ہیں۔’ریلا کو بتایا گیا کہ یہ تحقیقات درحقیقت ان کے لیے ہو رہی ہیں۔

ریلا کی ماں نے اپنی بیٹی سے کہا کہ وہ جلد از جلد اپنی شناختی دستاویزات جیسے کہ برطانیہ میں رہائش کا پتہ، برطانوی پاسپورٹ کی نقل، برطانوی فون نمبر اور وہاں سے حاصل کی گئی ڈگری کے بارے میں معلومات وغیرہ فوراً فراہم کریں۔

ریلا ابولیتی

ریلا کی والدہ نے انھیں یہ تمام دستاویزات ایک مخصوص چینی چیٹ سافٹ ویئر کے ذریعے بھیجنے کی تاکید کی لیکن اس کے بعد جو انھوں نے اپنی بیٹی کو کہا اس سے ریلا کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔.انھوں نے کہا: ‘مجھے اب دوبارہ فون نہ کرنا۔ اب مجھے کبھی بھی فون نہ کرنا۔’یہ آخری موقع تھا جب ریلا نے اپنی والدہ کی آواز سنی تھی۔انھیں شک ہے کہ اس فون کال کے بعد ان کی والدہ کو ‘تربیتی’ کیمپ میں منتقل کر دیا گیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ریلا نے کہا: میری ماں کو بغیر کسی وجہ کہ قید کر کے رکھا ہوا ہے۔ مجھے تو یہ لگتا ہے کہ چینی حکومت کا بس ایک مقصد ہے اور وہ یہ کہ اویغور شناخت کو دنیا سے مٹا دیں۔

ریلا کی طرح بی بی سی نے آٹھ مزید بیرون ملک رہائش پذیر اویغور نسل کے افراد سے بات کی ہے۔

ان سب کی سنائی گئی داستان حیران کن حد تک ایک جیسی ہے جس میں وہ اُن ‘تربیتی کیمپوں’ میں موجود حالات کے بارے میں اور وہاں جاری کاروائی کے بارے میں بتاتے ہیں اور وہ وجوہات بیان کرتے ہیں جن کی وجہ سے اویغور افراد کو وہاں منتقل کر دیا جاتا ہے۔

سرِعام مذہبی رسومات ادا کرنا، خیالات میں ہلکا سا بھی اختلاف رائے رکھنا، بیرون ملک رہائش پذیر اویغور سے تعلق رکھنا وہ مختلف وجوہات تھیں جن کے تحت لوگوں کو ‘تربیتی سکولوں’ میں بھیجا گیا ہے۔


ابلیت تورسن توہتی

ہر صبح جب 29 سالہ ابلیت تورسن توہتی کو سورج طلوع ہونے سے ایک گھنٹہ قبل جگایا جاتا تو ان کے اور ان کے ساتھ ان ‘تربیتی کیمپوں’ میں موجود ساتھیوں کو محض ایک منٹ کا وقت دیا جاتا جس میں انھیں ورزش کرنے کے میدان میں پہنچنا ہوتا تھا۔

وہاں پہنچ کر ان سے دوڑ لگوائی جاتی۔ابلیت نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘وہاں ایک خاص کمرہ تھا جہاں وہ لوگ جو تیز نہیں بھاگ سکتے تھے انھیں سزائیں دی جاتیں۔ وہاں دو مرد تھے، ایک وہ جو بیلٹ سے پٹائی کرتا اور دوسرا جو صرف لاتوں سے’۔

سیٹلائٹ کی تصاویر سے ورزش کے میدان کی تصویر واضح طور پر نظر آتی ہے جو جنوبی سنکیانگ میں واقع ہوتان نامی قصبے کے تربیتی کیمپ میں بنایا گیا ہے۔ابلیت نے بتایا: ’ہم وہاں پر چینی کمیونسٹ پارٹی کا گانا گاتے جس کے بول تھے کمیونسٹ پارٹی کے بغیر نیا چین نہیں ہو سکتا‘۔انھوں نے ہمیں قوانین سکھائے اور اگر ہم انھیں درست طور پر نہ دہراتے تو ہمیں مارا پیٹا جاتا‘۔

ہوتان کے اس کیمپ کی 2018 کی تصویر جہاں ابلیت کے بقول انھیں رکھا گیا

ابلیت تورسن توہتی نے سنہ 2015 کے آخر میں اس کیمپ میں ایک مہینہ گزارا اور وہ چند خوش قسمت لوگوں میں سے ایک ہیں۔جب چینی حکومت نے ان ‘تربیتی مراکز’ میں لوگوں کو رکھنا شروع کیا تو اس وقت قید کا دورانیہ کم ہوا کرتا تھا جہاں اویغور لوگوں کی ‘تربیت’ ہوتی تھی۔

لیکن گذشتہ دو سالوں سے بہت ہی کم ایسی معلومات آئی ہیں کہ جن سے پتہ چلے کہ ان کیمپوں سے کسی فرد کو آزادی دی گئی ہو۔شاید ہی کوئی باہر بچا ہو”ابلیت تورسن توہتی .

اور کیونکہ اب پاسپورٹ بھی واپس لیے جا رہے ہیں، ابلیت خوش قسمت ہیں کہ وہ ان چند گنے چنے اویغور میں شامل ہیں جو ملک چھوڑنے میں کامیاب ہوئے۔انھوں نے دیگر کئی اویغور افراد کی طرح ترکی میں پناہ لی ہے کیونکہ ان کے وہاں سماجی اور زبانی روابط ہیں۔ابلیت نے ہمیں بتایا کہ ان کے 74 سالہ والد اور بہن بھائیوں میں سے آٹھ ابھی بھی اسی کیمپ میں ہیں جن میں سے ‘کوئی بھی باہر نہیں ہے‘۔

اکتالیس سالہ عبدالسلام محمد بھی اب ترکی میں ہی رہائش پذیر ہیں۔

پولیس نے 2014 میں انھیں سنکیانگ سے اس لیے حراست میں لے لیا تھا کیونکہ وہ ایک جنازے میں قرآنی آیات پڑھ رہے تھے۔پولیس نے بعد میں ان پر کوئی قانونی کاروائی تو نہیں کی لیکن وہ مکمل طور پر آزاد نہیں ہوئے تھے۔


عبدالسلام محمد

عبدالسلام محمد نے بی بی سی کو بتایا: ‘انھوں نے مجھے کہا کہ مجھے تعلیم ور تربیت حاصل کرنی ہو گی‘۔لیکن جس جگہ وہ گئے وہ کہیں سے بھی سکول کی عمارت نہیں تھی۔سیٹلائٹ تصاویر سے یہ نظر آتا ہے کہ عمارت میں گارڈ ٹاورز ہیں اور ہان آریکے ایجوکیشن ٹریننگ سینٹر کے چاروں طرف دہری دیواریں موجود ہیں جن پر آہنی باڑیں بھی نصب ہیں۔عبدالسلام محمد نے بھی وہی بات دہرائی جو کہ ابلیت تورسن توہتی نے کہی کہ دن بھر ان سے ورزش کرائی جاتی تھی، اس کے بعد ڈرایا دھمکایا جاتا تھا اور پھر برین واشنگ کی جاتی تھی۔


ہوتان کے اس مقام کی سیٹلائٹ تصویر جہاں عبدالسلام کے بقول انھیں رکھا گیا

پچیس سالہ علی ان افراد میں سے ہیں جو نہ اپنا اصل نام ظاہر کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی کھل کر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔سنہ 2015 میں علی کو اس کیمپ میں لے جایا گیا جب ان کے فون پر پولیس کو ایک حجاب اور نقاب پہنی ہوئی عورت کی تصویر ملی۔

ہم سے بات کرتے ہوئے علی نے کہا ‘میرے فون میں ایک بڑی عمر کی عورت کی تصویر تھی جو مکہ حج کے لیے گئی تھی اور اور ایک بوڑھے شخص کی جس نے اپنا پانی کا بل وقت پر ادا نہیں کیا تھا‘۔

علی نے بتایا کہ ایک روز وہ لوگ زبردستی ورزش کرنے کی مشق کر رہے تھے جب ایک افسر کی گاڑی کیمپ میں داخل ہوئی تو دروازہ کچھ کھلا رہ گیا۔ان کے مطابق ’چانک سے ایک چھوٹا بچہ وہاں بھاگتا ہوا آیا اور ہمارے ساتھ دوڑنے والی ایک عورت سے چمٹ گیا۔وہ عورت اس بچے کی ماں تھی اور اس نے اسے گلے لگا کر رونا شروع کر دیا۔پھر ایک پولیس والے نے اس عورت کو سر کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور اس بچے کو کیمپ سے باہر لے گیا‘۔

جہاں ایک جانب چین کے سرکاری ٹی وی پر معمول کے مناظر چلتے ہیں، ان شواہد کی نظر میں ایک مختلف تصویر نمودار ہوتی ہے۔ابلیت تورسن توہتی نے کہا کہ ‘ہمارے کمروں کے دروازے رات میں مقفل کیے جاتے تھی لیکن اندر رفع حاجت کے لیے کوئی باتھ روم نہیں بنایا گیا تھا اور بس ایک خالی برتن دے دیتے تھے۔’ہمارے پاس ان الزامات کی تصدیق کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔

ہم نے چینی حکومت سے اس سلسلے میں بار بار معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔سنکیانگ سے باہر رہنے والے اویغور افراد کے لیے وہاں سے خبریں آنا تقریباً ختم ہو گئی ہیں۔

خوف کی وجہ سے خاموشی ہے۔

کئی خبروں کے مطابق یہ کافی معمول کی بات ہو گئی ہے کہ لوگوں کو ان کے فیملی چیٹ گروپ سے نکالا جا رہا ہے اور تاکید کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے دوبارہ رابطہ نہ کریں۔

ایسا لگتا ہے کہ پوری کوشش یہ ہے کہ اویغور ثقافت کے اہم ترین اجزا، خاندان اور ایمان، دونوں کو ہی خاص منصوبہ بندی کے تحت توڑا اور ختم کیا جا رہا ہے۔کیونکہ پورے کے پورے خاندانوں کو قید کیا جا رہا ہے، خبریں آئی ہیں کہ چھوٹی عمر کے بچوں کو سرکاری یتیم خانوں میں رکھا جا رہا ہے۔

بلکز حبیب اللہ اپنے پانچ بچوں کے ہمراہ 2016 میں ترکی پہنچی تھیں۔


بلکز حبیب اللہ

ان کی سب سے چھوٹی بیٹی سکینے حسن جو اب ساڑھے تین برس کی ہو چکی ہوتی، سنکیانگ میں بلکز کے شوہر کے ساتھ ہی رہیں۔

کیونکہ اس بچی کا پاسپورٹ نہیں تھا تو والدین کا ارادہ یہ تھا کہ جب سکینے کو سفر کرنے کے لیے پاسپورٹ مل جائے گا تو وہ اور بلکز کے شوہر استنبول میں دوبارہ مل لیں گے۔

لیکن سکینے کو پاسپورٹ نہ مل سکا۔

بلکز کی بیٹی سکینے جسے انھوں نے دو سال سے نہیں دیکھا

بلکز کو یقین ہے کہ ان کے شوہر کو گذشتہ سال 20 مارچ کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔اس کے بعد سے وہ دوبارہ اپنے خاوند سے رابطہ نہیں کر سکی ہیں اور نہ ہی انھیں علم ہے کہ ان کی بیٹی کدھر ہیں۔وہ کہتی ہیں ’رات کے کسی پہر جب میرے بچے سونے چلے جاتے ہیں تو میں پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوں۔

اس سے زیادہ تکلیف دہ بات کیا ہوگی کہ آپ کو یہ نہ معلوم ہو کہ آپ کی بیٹی کدھر ہے، کیا وہ زندہ ہے بھی یا نہیں۔اگر وہ مجھے سن سکے، تو میں بس اس سے صرف معافی ہی مانگ سکتی ہوں‘۔

طائرانہ جائزہ


ہوتان کے ایک کیمپ کی عمارت کی سیٹلائٹ تصویر جسے جی وی ایم نے بہتر بنایا

عوامی طور پر سیٹلائٹ سے ملنے والی موجود معلومات کا جائزہ لیا جائے تو سنکیانگ کے چھپے ہوئے رازوں پر سے پردہ اٹھایا جا سکتا ہے۔جی ایم وی ایک بین الاقوامی کمپنی ہے جو سیٹلائٹ کے مدد سے زمین کی عکس بندی کرتی ہے اور کئی معروف ادارے اس کے صارفین میں شامل ہیں۔

اس کمپنی کے ماہرین نے سنکیانگ بھر میں 101 ایسے تربیتی کیمپوں کا جائزہ لیا جن کے بارے میں میڈیا میں خبریں آئی تھیں یا ان پر تحقیقی کام ہوا تھا۔ایک ایک کر کے ان ماہرین نے موجودہ کیمپوں کو بڑھانے کے بارے میں اور نئے کیمپوں کی تعمیر کے بارے میں معلومات جمع کی کہ ان کا حجم کتنا بڑھ رہا ہے۔

ماہرین نے ان مختلف کیمپوں میں ملتی جلتی چیزوں کی نشاندہی کی جیسے وہاں نصب باڑیں اور گارڈ ٹاورز جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ یہ ان تربیتی مراکز میں لوگوں کی حرکات و سکنات کو جانچنے کے لیے ہیں۔

جی ایم وی کے ماہرین نے ان 101 مراکز کی تصاویر کا جائزہ لے کر ان کی درجہ بندی کی کہ ان میں سے کون سے مراکز سیکورٹی کے لیے ہیں اور انھوں نے 44 کو ‘زیادہ’ یا ‘بہت زیادہ’ کے زمرے میں شامل کیا۔اس کے بعد انھوں نے یہ جائزہ لیا کے سیٹلائٹ پر ان مراکز کی پہلی تصویر کب آئی اور وہ اُس وقت کس حجم کی عمارت تھی اور وقت کے ساتھ وہ عمارت کتنی بڑی ہوتی گئی۔ان تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ وہ عمارت جہاں عبدالسلام محمد کو رکھا گیا تھا کتنی پھیل گئی تھی۔


ہان آریکے کا کیمپ

جی ایم وی کے ماہرین کہتے ہیں کہ انھیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ ان مراکز کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن گذشتہ چند سالوں سے چین ایسے کئی سکیورٹی مراکز نہایت تیزی سے قائم کر رہا ہے۔اور بہت ممکن ہے کہ یہ حقائق کی نامکمل تصویر ہو۔

لیکن یہ بات طے ہے کہ آہستہ آہستہ یہ مراکز حجم میں بڑے ہوتے جا رہے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ ان تعمیراتی منصوبوں میں 2017 کے مقابلے میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔لیکن حجم کے اعتبار سے یہ پچھلے سال سے زیادہ ہیں یعنی موجود مراکز میں عمارتوں کو بڑھایا جا رہا ہے۔

جی ایم وی کے اندازے کے مطابق ان 44 مراکز کا کل حجم 440 ہیکٹر سے تجاوز کر گیا ہے۔ یہ پیمائش باہری دیوار بھی شامل کر کے ہے۔چار سو چالیس ہیکٹر کتنی بڑی جگہ ہوتی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کہ امریکی شہر لاس اینجلس میں صرف 14 ہیکٹر پر قائم ایک جیل میں تقریباً 7000 قیدی رہتے ہیں۔لاس اینجلس کی ٹوئن ٹاور جیل

ہم نے جی ایم وی کی جانب سے دی گئی معلومات آسٹریلیا کی ایک کمپنی گائمر بیلی آرکیٹیکٹس (جی بی اے) کو فراہم کی جس کا ماضی میں جیلیں تعمیر کرنے کا کافی تجربہ ہے۔

سیٹلائٹ کی مدد سے حاصل کی گئی پیمائش کو جانچتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اتنے بڑے رقبے پر قائم اس عمارت میں کم از کم 11000 قیدی تو ضرور ہوں گے۔اور یہ کم از کم قیدیوں کا تخمینہ بھی اس مرکز کو دنیا کے سب سے بڑی جیلوں کی فہرست میں شامل کر دیتا ہے۔امریکہ کی سب سے بڑی جیل نیویارک کے رائکرز آئی لینڈ میں ہے جہاں 10000 قیدیوں کی گنجائش ہے۔

استنبول میں واقع سلوری جیل کو یورپ کی سب سے بڑی جیل کہا جاتا ہے اور یہاں 11000 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے۔جی بی اے نے سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد ہمیں بتایا کہ ان کے اندازے کے مطابق کسی بھی تربیتی مرکز کی مختلف عمارتیں کن کن مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

گیماربیلے آرکیٹکٹ کا دباچنگ کے مقام کے بارے میں اندازہ

دابن چنگ کے مرکز کاحجم دیکھتے ہوئے اور کم از کم قیدیوں کی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کا اندازہ تھا کہ قیدیوں کو ایک کمرے میں رکھا جاتا ہوگا۔لیکن جی بی اے نے مزید کہا کہ اگر ایک سے زیادہ قیدیوں کو ایک کمرے میں رکھا گیا ہو تو دابن چنگ میں رکھے گئے قیدیوں کی تعداد میں کافی زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے اور محتاط اندازوں کے مطابق یہ تعداد 130000 تک پہنچ سکتی ہے۔

بظاہر یہ جگہ کم سے کم جگہ میں زیادہ سے زیادہ افراد کو رکھنے کے لیے بنائی گئی ہے

ہم نے یہ تصاویر امریکہ میں مقیم ایک آرکیٹیکٹ رافیل سپیری کو بھی دکھائیں جنھوں نے کہا کہ یہ ‘لوگوں کو قید میں رکھنے کے لیے ایک بہت بڑا اور ڈراؤنا مرکز ہے‘۔انھوں نے مزید کہا کہ ‘ایسا لگتا ہے کہ اسے بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ وہاں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ایک چھوٹے سے کمرے میں بند رکھا جائے اور اس پر کم سے کم لاگت آئے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرا اپنے ذاتی خیال ہے کہ 11000 بہت کم اندازہ ہے۔ موجودہ معلومات سے یہ نہیں ظاہر ہوتا کہ کمروں کے اندر کا ڈیزائن کیسے مرتب کیا گیا ہے اور مرکز کی عمارت کا کتنا حصہ قیدیوں کی رہائش کے لیے ہے اور کتنا حصہ دوسرے مقاصد کے لیے ہے۔ اس کو مد نظر رکھتے ہوئے بھی مجھے افسوس سے یہ کہنا پڑے گا کہ 130000 لوگوں کو وہاں واقعی رکھا جا سکتا ہے اور یہ ممکن ہے‘۔

مگر کیونکہ ہمیں اس تربیتی مرکز تک رسائی نہیں ملی تو اس تعداد اور ان دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہ ہو سکی۔ہم نے دابن چنگ میں حکام سے معلوم بھی کرنے کی کوشش کی کہ وہاں قائم مرکز کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن ہمیں اس بارے میں کوئی جواب نہیں ملا۔

سنکیانگ کے سارے ‘تربیتی مراکز’ ایک جیسے نہیں ہیں۔یننگ مڈل سکول نمبر تین کے بارے میں خیال ہے کہ وہ اب ایک حراستی مرکز ہے
یننگ مڈل سکول نمبر تین کے بارے میں خیال ہے کہ وہ اب ایک حراستی مرکز ہےکچھ مراکز پہلے سے قائم تھے اور وہ دوسرے مقاصد کے لیے استعمال ہوتے تھے جیسے سکول یا فیکٹری لیکن انھیں بعد میں پھر اس مقصد کے لیے تبدیل کر دیا گیا۔

ایسے مراکز حجم میں تھوڑے چھوٹے ہوتے ہیں اور ان میں سے کئی شہروں کے بیچ میں یا ان سے نزدیک ہوتے ہیں۔

صوبے سنکیانگ کے شمال میں واقع شہر یننگ میں ہم نے ایسے کئی کیمپوں کا دورہ کرنے کی کوشش کی۔ہم نے اس سے قبل مقامی انتظامیہ کی جانب سے شائع کی گئی دستاویزات دیکھیں تھیں جن کے مطابق حکومت نے پانچ ‘تربیتی مراکز برائے تحفظ استحکام’ کے قیام کے منصوبے کا آغاز کیا۔

یننگ کے مرکزی علاقے میں ہم ان عمارتوں تک گئے جو ماضی میں یننگ مڈل سکول نمبر تین کے حصہ تھیں۔لیکن جب ہم وہاں پہنچے تو نیلے رنگ کا فولادی جنگلہ موجود تھا اور دروازے پر بھاری سکیورٹی مامور تھی۔سکول میں بچوں کے کھیل کے میدان کے پاس ایک نیا گارڈ ٹاور تعمیر کیا گیا تھا اور دوسرا ٹاور فٹبال کے میدان میں بنایا گیا تھا۔

اس فٹبال کے میدان پر اب چھ نئی عمارتیں کھڑی تھیں اور ان کی چھتوں کو فولاد سے ڈھانپا گیا تھا۔سکول کے باہر بڑی تعداد میں قیدیوں سے ملنے والے سکیورٹی پوسٹ کے پاس موجود تھے۔یہ بات واضح تھی کہ ہم شہر میں جدھر کا رخ کرتے ہمارے پیچھے دو یا تین گاڑیاں تعاقب کر رہی ہوتیں۔

ایک جگہ پر جب ہم نے گاڑی سے اتر کر ایک کیمپ کی فلم بندی کرنے کی کوشش کی تو ہمیں روک لیا گیا۔حکام نے ہمارے کیمرے کے لینس پر ہاتھ کر کہا کہ اس علاقے میں فوج کی اہم مشق جاری ہے اور ہمیں وہاں سے چلے جانے کو کہا گیا۔اس سکول کی عمارت کے باہر ہم نے ایک خاندان کو دیکھا جس میں ایک عورت اور دو بچے باڑ کے ساتھ خاموش کھڑے تھے۔

ہماری نگرانی کرنے والوں میں سے ایک نے ہمیں ان تینوں سے بات کرنے سے روکا لیکن ان کی ساتھی نے کہا کہ ’انھیں بات کرنے دو‘۔ہم نے ان سے پوچھا کہ وہ کس سے ملنے آئے ہیں۔جواب میں کم عمر بچے نے کچھ توقف کے بعد جواب دیا: ’اپنے والد سے‘۔’ایک بار پھر ہمارے کیمرے کے لینس پر ہاتھ رکھ دیا گیا۔

کاشغر ایک زمانے میں اویغور ثقافت کا مرکز ہوا کرتا تھا لیکن اب حالات ویسے نہیں ہیں۔ وہاں کی گلیاں خاموش ہیں اور زیادہ تر دروازوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔ایک دروازے پر ہم نے ایک نوٹ چسپاں دیکھا جس پر درج تھا کہ اگر کوئی کسی کے خاندان کے افراد کے بارے میں سوال کرے تو اسے کیا اور کیسے جواب دینا چاہیے۔

اس پرچے پر لکھا ہوا تھا:’سوال پوچھنے والوں سے کہو کہ ان کی نگہبانی کی جا رہی ہے تاکہ وہ معاشرے اور اپنے خاندان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں‘۔شہر کی مرکزی مسجد کسی عجائب گھر کا سماں پیش کر رہی تھی۔

جب ہم نے وہاں نماز کے اوقات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو کوئی بھی ہمیں جواب نہ دے سکا۔وہاں تعینات ایک اہلکار نے کہا کہ ’میں تو یہاں پر صرف سیاحوں کے لیے ہوں، مجھے نماز کے اوقات کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے‘۔چوک پر چند معمر افراد بیٹھے ہوئے تھے لیکن ان میں سے کسی کی بھی داڑھی نہیں تھی۔ ہم نے ان سے معلوم کیا کہ سب کدھر ہیں۔

ان افراد میں سے ایک نے انگلی منہ پر رکھی اور اشارے سے بتایا کہ صحافیوں سے بات کرنا نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔لیکن اس کے ساتھی نے کہا: ’اب یہاں کوئی نہیں آتا‘۔ہم نے دیکھا کہ کچھ فاصلے پر ہیلمٹ پہنے ایک پولیس افسر مسجد کی سیڑھیاں صاف کر رہا ہے۔

وہاں پر اتنا سناٹا تھا کہ میں ہمیں پانی گرنے کی آواز اور سیڑھیوں کی صفائی کی آواز واضح طور پر سنائی دے رہی تھی۔قریب میں چند چینی سیاح تصاویر کھینچ رہے تھے۔ہم کاشغر سے روانہ ہوئے اور جنوب مغرب کی جانب بڑھے جہاں کئی اویغور گاؤں آباد تھے اور وہاں پر اطلاعات تھیں کہ کئی تربیتی مراکز قائم ہیں۔

ایک بار پھر ہمارا تعاقب شروع ہو گیا لیکن اس بار ہمیں ایک غیر متوقع رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ہمارے راستے میں آنے والی ایک سڑک کو پولیس نے بند کیا ہوا تھا۔انھوں نے ہمیں بتایا کہ سخت گرمی اور سورج کی تمازت کی وجہ سے سڑک پگھل کر خراب ہو گئی ہے اور آگے جانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔

ہم نے دیکھا کہ وہاں دیگر گاڑیوں کو ایک شاپنگ مال کی پارکنگ میں بھیجا جا رہا ہے اور پولیس کو پیغام دیا گیا ہے کہ ‘انھیں وہاں روک کر رکھو۔’ہمیں بھی یہی بتایا گیا کہ رکاوٹ کے باعث ہمیں چار سے پانچ گھنٹے انتظار کرنا ہوگا اور بہتر یہ ہے کہ ہم گاڑی واپس موڑ لیں۔

ہم نے متبادل راستے ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن ہر جگہ پر رکاوٹیں قائم تھیں اور ان سب کی مختلف وجوہات دی جاتی رہیں۔ایک سڑک کے بارے میں کہا گیا کہ وہاں ‘فوجی مشقیں’ جاری ہیں۔چار مختلف سڑکوں پر چار دفعہ ہمیں واپس جانے کو کہا گیا تو بالآخر ہم نے ہار مان لی اور واپسی کا راستہ اختیار کیا۔

اس سے کچھ کلومیٹر دور ایک بڑا سے کیمپ قائم ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں 10000 لوگوں کو رکھا گیا ہے۔

قابو میں رکھنے کا نظام

یہ حقیقت ہے کہ سنکیانگ میں کئی اویغور اچھے سرکاری عہدوں پر فائز ہیں۔ ہمیں روکنے والے اور ہم سے بات کرنے والے سرکاری افسران اور پولیس اہلکار خود اویغور تھےلیکن اگر انھیں اپنے فرائض انجام دینے میں کسی قسم کا عار تھا تو وہ ظاہر ہے اس بارے میں بات نہیں کر سکتے تھے۔

لیکن جہاں کئی لوگوں نے سنکیانگ میں موجود صورتحال کو جنوبی افریقہ میں نسلی تعصب کے دور سے ملایا ہے، یہ واضح ہے کہ یہ بات مکمل طور پر درست نہیں ہے .کئی اویغور ایسے ہیں جن کا ریاستی نظام میں حصہ ہے۔اس صورتحال کی بہتر مماثلت چین کے اپنے مطلق العنان ماضی سے ملتی جلتی ہے۔

چین میں کمیونسٹ پارٹی نے 60 کی دہائی میں ثقافتی انقلاب برپا کیا تھا جب معاشرے کو بتایا گیا کہ اسے بچانے کے لیے اسے پہلے مکمل طور پر توڑنا ہوگا۔شہرت ذاکر ایک اویغور ہیں اور کہنے کو سنکیانگ خطے کے دوسرے سب سے طاقتور سیاستدان ہیں۔ ان کے مطابق چینی حکومت یہ جنگ تقریباً جیت چکی ہے۔


شہرت ذاکر ایک نسلی اویغور اور سنکیانگ کے چیئرمین ہیں

سرکاری میڈیا کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ 21 مہینوں میں کسی قسم کی کوئی دہشت گردی کا واقعہ سامنے نہیں آیا اور ہر قسم کے جرائم کی تعداد میں واضح کمی ہوئی ہے۔ سنکیانگ نہ صرف خوبصورت ہے بلکہ اب وہ لوگوں کے لیے محفوظ بھی ہے اور یہاں پر استحکام بھی ہے‘۔

لیکن جب قید کیے گئے افراد کو وہاں سے رہا کر دیا جائے گا تب کیا ہو گا؟وہ تمام افراد جو ماضی میں ان کیمپوں کی صعوبتیں برادشت کر چکے تھے ان کے اندر جیسے لاوا پک رہا تھا۔اور ابھی تک وہ لوگ جنھوں نے دابن چنگ کے ‘خوفناک اور خفیہ تربیتی مراکز’ میں وقت گزارا ہے ان کے تاثرات کا کسی کو ابھی تک علم نہیں ہے۔

ہماری رپورٹنگ کے دوران ہمیں یہ شواہد ملے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ‘تربیتی پروگرام’ درحقیقت اویغور مسلمانوں کو بغیر کسی قانونی وجہ کے قید میں رکھنے کا بہانہ ہے اور انھیں کسی قسم کی کوئی قانونی مدد کا آسرا نہیں ہے۔چین اسے اپنی کامیابی تصور کر رہا ہے .یکن تاریخ بتاتی ہے کہ اس قسم کے منصوبوں کا انجام کچھ اچھا نہیں ہوتا۔

کریڈٹس
رپورٹر: جان سڈورتھ

پروڈیوسر: کیتھی لونگ

تصاویر: گیٹی امیجز، روئٹرز، گیمار بیلی آرکیٹکٹس، جی ایم وی، گوگل ارتھ، یورپی کمیشن/ یورپی خلائی ایجنسی

گرافکس: زوئے بارتھولومیو

آن لائن پروڈکشن: بین ملنے
ایڈیٹر: فن لو روہرر
شکریہ بی بی سی اردو

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *