گلگت الیکشن میں JUI کیوں ناکام ہوئی؟

تحریر: عبدالجبارناصر


جمعیت علماء اسلام کے سابق رکن گلگت بلتستان اسمبلی حاجی شاہ بیگ پارٹی ٹکٹ کی محرومی کے باوجود چوتھی بار انتہائی سخت مقابلے کے بعد گلگت بلتستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے ۔ ریکارڈ کے مطابق حاجی شاہ بیگ 1994ء میں پہلی بار این اے 15 دیامر 1 سے آزاد حیثیت میں ’’ناردرن ایریاز کونسل ‘‘ کے رکن منتخب ہوئے ۔1999ء کے انتخابات میں پھر آزاد حیثیت میں کونسل کے رکن منتخب ہوئے ۔ 2015ء میں جمعیت علماء اسلام کے ٹکٹ پر کامیاب ہوکر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف منتخب ہوئے ، تاہم غالباً دو سال بعد ساتھیوں نے اس عہدے سے الگ کردیا۔

حاجی شاہ بیگ کے متعلق لوگوں سے خیر ہی سنا ہے ۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ 2015ء میں جب گلگت بلتستان کونسل کے 6 ممبران کے انتخاب کے لئے پولنگ ہورہی تھی ، اس وقت حاجی شاہ بیگ کو کروڑوں روپے(بعض 6 کروڑ تک کی بات کر رہے ہیں) کی آفر ہوئی اور حاجی شاہ بیگ نے اس کو ٹھکرا کر جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حکم پر اسلامی تحریک پاکستان کے امیدوار آغا سید محمد عباس رضوی کو ووٹ دیا اور آغا سید محمد عباس رضوی اسی ایک ووٹ کی وجہ سے رکن کونسل منتخب ہوئے۔

امکان یہی تھا کہ 2020ء میں بھی جمعیت علماء اسلام کے ٹکٹ پر قسمت آزمائی کریں گے ،مگر اس بار پارٹی کے بعض رہنمائوں کے علاقائی یا ذاتی اختلافات کی وجہ سے جی بی اے 15 دیامر 1 کا ٹکٹ حاجی شاہ بیگ کی بجائے جماعت نے مولانا ولی الرحمان کو ٹکٹ دیا اور حاجی شاہ بیگ نے بعض رہنمائوں اور مرکزی قیادت کے کچھ قریبی افراد کے منفی رویہ کے بعد آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لیا اور انتہائی صبر آزما اور سخت مقابلے کے بعد 2779 ووٹ حاصل کئے اور 51 ووٹ سے کامیاب قرار پائے ۔ دوسرے نمبر پر سابق پولیس آفیسر اور آزاد امیدوار محمد دلپزیر 2728 ووٹ کے ساتھ رہے ۔ تحریک انصاف کے نوشاد عالم کو 2620 ووٹ، پیپلزپارٹی کے بشیر احمد کو 2360 ، ن لیگ کے عبدالواجد کو 2201 ووٹ اور جمعیت علماء اسلام کے امیدوار مولانا ولی الرحمان کو 1424 ووٹ ملے ۔

Haji Shah baig

اس صورتحال نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جمعیت علماء اسلام کا حاجی شاہ بیگ کو ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ غلط اور زمینی حقائق کے خلاف تھا ۔ ٹکٹ مل جاتا تو حاجی شاہ بیگ ایک ہزار ووٹ سے جیت سکتے تھے اور گلگت بلتستان اسمبلی میں جمعیت علماء اسلام کی نمائندگی یقینی بن جاتی ۔ جمعیت علماء اسلام کی مرکزی اور صوبائی قیادت کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ آخر اتنا بڑا سیاسی غلط فیصلہ کیسے اور کیوں کر کیا ؟ مقامی میڈیا رپورٹرز اور مبصرین کے مطابق حاجی شاہ بیگ پر کوئی الزام نہیں ہے اور اچھی شہرت کے حامل ہیں، صرف اور صرف لوگوں کے ذاتی ایشوز کی وجہ سے ٹکٹ سے محروم رکھا گیا اس میں بعض ایسے افراد بھی شامل ہیں جو مرکزی قیادت کے قریب تصور کئے جاتے ہیں۔ حاجی شاہ بیگ اب جس جماعت کا بھی انتخاب کر یں یہ ان کا حق ہے، تاہم جے یو آئی کے کچھ لوگ اب بھی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ حاجی شاہ بیگ یہ سیٹ مولانا فضل الرحمان کو تحفہ پیش کریں گے اور غالباً ٹکٹ سے محرومی کے بعد انہوں نے خود بھی یہ بات کہی ہے۔

جمعیت علماء اسلام کی مرکزی قیادت کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ جی بی اے 18 دیامر 4 سے حاجی گلبر خان کس مجبوری کی وجہ سے الیکشن سے صرف دو ماہ قبل جماعت سے الگ ہوکرتحریک انصاف میں شامل ہوئے اور تقریباً ایک ہزار ووٹ کی لیڈ سے کامیاب ہوئے ۔ جی بی اے 17 دیامر 3 سے ابھی تک کامیاب جمعیت علماء اسلام کے رکن حاجی رحمت خالق کو کیا اعتراض ہے ۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم سے انتخابی مہم تک مرکزی، صوبائی، ضلعی اور قیادت کا کہاں کیا رویہ اور کردار رہاہے ۔ اس بات پر بھی غور کیا جائے کہ تقریباً ایک سال قبل ہونے والے جماعتی انتخابات گلگت بلتستان میں مجموعی طور جماعت کے لئے مثبت یا منفی ثابت ہوئے اور جن لوگوں کے شکوے یا شکایات ہیں ، ان کی بھی سنی جائے ، اگر وہ غلط ہیں تو دلیل سے مطمئن کیا جائے ۔ اس ضمن میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو خود نوٹس لیکر مکمل تحقیقات کرائیں اور انفرادی یا ذاتی وجوہ کی بنیاد منفی کردار میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس وقت اصلاح کرنے کی سخت ضرورت ہے۔