پاکستان میں دوران ملازمت خواتین کو جنسی تفریق اور ہراسگی کا سامنا ہے ، سیمینار

پاکستان میں دوران ملازمت خواتین کو جنسی تفریق اور ہراساں کئے جانے کے واقعات پائے جاتے ہیں ۔ سیمینار

آج گرینچ یونیورسٹی کراچی کیپمس میں جینڈر اسٹڈیز کے طلبا اور کورس انچارج طاہرہ طارق نے ملازمت میں جنسی تفریق اور ہراساں کئے جانے سے متعلق سیمینار کا انعقاد کیا۔ اس سیمینار کا مقصد ہمارے معاشرے، اداروں اور ملازمت کی جگہوں پر جنسی تفریق اور ہراساں کیے جانے سے متعلق آگاہی دینا تھا۔

طاہرہ طارق نے میڈیا کو بتایا کہ آج کل ملازمت کی جگہوں پر جنسی تفریق اور ہراسگی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہاہے۔ اس لیے سیمینار میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اسپیکرز کو منتخب کیا گیا تھا تاکہ وہ اس مسئلے پر روشنی ڈالیں اور مرد و عورت دونوں کا نقطہ نظر جانا جاسکے۔اس سیمینار میں مشہور سیاست دان شرمیلا فاروقی، اداکارہ اور موڈل نادیہ حسین، ایڈوکیٹ ندیم شیخ ،ایڈوکیٹ علینہ علوی، سکندر مغل اور فریال شیخ ,وفاقی محتسب سیکریٹریٹ برائے پروٹیکشن فار وومن اگینسٹ ہراسمنٹ ایٹ ورک پلیس نے شرکت کی ۔

اسپیکرز کا کہنا تھا کہ جنسی تفریق کی وجہ سے خواتین کو تعلیم، ملازمت،سیاست اور معاشی ترقی میں مردوں جتنے مواقع میسر نہیں۔جنسی ہراسگی نہ صرف ملازمت پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ یہ کارکن کی کارکردگی کو بھی متاثر کرتی ہے ۔یہ کارکن کو مختلف خطرات سے دوچار کرتی ہے اور کام کرنے کے لئے ناقابل قبول ماحول پیدا کردیتی ہے۔

اس سیمینار میں طلبا کی ایک بڑی تعداد، فیکلٹی ممبران، مہمانوں اور معروف میڈیا نمائندگان نے شرکت کی ۔گرینچ یونیورسٹی ایک نجی جامعہ ہے, جو کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں قائم ہے۔ یہ 30 سال سے تعلیم کے میدان میں خدمات سرانجام دے رہی ہے، گرینچ ہائیر ایجوکیشن سے تسلیم شدہ ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں بہترین جامعات کے زمرے میں آتی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *