آسیہ مسیح کیس کو دوبارہ چلایا جائے .عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کانفرنس

نڈوآدم .آسیہ مسیح کیس دوبارہ چلایاجائے،نام ای سی ایل میں ڈالاجائے ،قادیانیوں کو پاک فوج سمیت تمام سرکاری عہدوں سے برطرف کیا جائے ،اتحا دامت اجاگرکیا جائے،مولانا سمیع الحق،یوسف لدھیانوی،سمیت قائدین ختم نبوت کے قاتل گرفتار کرنے،اسلامی نظام نافذ کرنے کے مطالبات ،یونیورسٹی کالج سکولزنصابوں میں ختم نبوت پر مضامین شامل کئے جائیں .

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے 37ویں سالانہ آل سندھ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ امیروداعی کانفرنس علامہ احمد میاں حمادی،مولاناااعجازمصطفےٰ،قاضی احسان احمد،جمعیت علماء اسلامی کے مرکزی نائب امیر مولانا عبدالقیوم ہالیجوی ،جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیراسداللہ بھٹوایڈوکیٹ ،شیخ الحدیث مولاناسعودافضل ہالیجوی،میؤمنظور احمد ایڈوکیٹ ،مولاناعبدالغفور مینگل مولاناعلامہ محمد راشد مدنی ،مفتی محمد طاہر مکی حافظ محمد زاہد حجازی ،حافظ محمد طارق الحمادی،حافظ محمد فرقان انصاری ،مفتی محمد یعقوب مگسی،مفتی حبیب الرحمان رحمانی،قاری عقیل احمد شاکر،مولاناتجمل حسین نوابشاہ ،مولانامختیار احمد،قاری محمد امجد مدنی قاضی منیب الرحمان ،مولانا توصیف احمد ،مولاناعبدالشکورمغل سمیت دیگر قائدین شریک ہوئے .

علمائے کرام نے خطابات میں کہا کہ نامو س رسالت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ،اور اسی ایک مسئلے پر ماضی میں بھی امت مسلمہ متحد رہی ہے حال میں بھی ہیں اور مستقبل میں بھی اسی مسئلے پر متحد رہیں گے علامہ احمد میاں حمادی نے کہا کہ ملعونہ آسیہ مسیح پر توہین رسالت کا جرم ہائیکورٹ میں ثابت ہونے کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے آزادکئے جانے کو ہم مسترد کرتے ہوئے اس فیصلے کو یکطرفہ فیصلہ قراردیتے ہیں دوبارہ کیس سناجائے اور ملعونہ آسیہ مسیح کا نام ای سی ایل میں ڈالاجائے بصورت دیگر مسلمان سخت ترین راستہ اپنانے پر مجبور ہونگے .

انہوں نے کہا کہ عمران خان اور فوادچوہدری نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرکے ملعونہ آسیہ مسیح کے خلاف میدان میں آنے والوں کو دھکیاں دی ہیں جو قابل مذمت ہیں ،جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر اسداللہ بھٹوایڈوکیٹ نے کہا کہ ملعونہ آسیہ مسیح کی آزادی اور ممتاز قادری کی پھانسی اس قسم کے تمام مسائل میں سوفیصد قادیانی لابی ملوث ہے جب تک انہیں کنٹرول نہیں کیاجاتا ہمیں سکھ سے نہیں بیٹھنے دیں گے ،انہوں نے کہا کہ اسدعمرنے حکومت سے پہلے ہی کہدیا تھاکہ ہم قادیانیوں وک سپوٹ کریں گے .

جمعیت علماء اسلام کے مرکزی نائب امیر مولاناعبدالقیوم ہالیجوی نے کہا ہیکہ پاک فوج کاموٹوہی جہادہے اور قادیانی لابی جہادکی منکر ہے جبکہ پاک فوج کے اہم اہم عہدوں پر قادیانی لابی مسلط ہے ملک کی بیوروکریسی اور پاک فوج میں قادیانیو ں کا تسلط ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے مسلمان اس مسئلے پر اٹھ کھڑے ہوں ورنہ ایک دن قادیانی ہم سے پاکستان چھین لیں گے اور ہم دیکھتے رہ جائیں گے ،ہمیں چاہئے حق گو علماء کا ساتھ دیں فرقہ واریت پہیلانے والے نہ پہلے دین کی خدمت کرتے تھے اور نہ اب دین کی خدمت کرتے ہیں فرقہ واریت پر اورپھیلانے والوں پر لعنت کرتے ہوئے تمام مسلمانوں کو اتحاد امت کی دعوت دیتے ہیں ،امریکہ اسرائیل اور اسلام دشمن قوتیں ہمیں شیعہ سنی بریلوی دیوبندی کہ کر نہیں بلکہ مسلمان کہ کر نشانہ بناتے ہیں ہم انکی نظر میں ایک ہی ہیں تو آپس میں اختلاف کیوں رکھا جارہاہے .

کانفرنس میں مفتی محمد طاہر مکی نے قراردادیں پیش کیں کہ مولناسمیع الحق ،مولانامحمدیوسف لدھیانوی ،مفتی نظام الدین شامزئی ،مولناسعید احمد جلالپوری،سمیت شہدائے ختم نبوت کے قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے قرارواقعی سزادی جائے ،مولانا سعید احمد جلالپوری کے نامزدقاتل زیدحامد کوسزائے موت دیجائے،پاکستان کے اسلامی تشخص کو برقراررکھتے ہوئے فوری طور پر اسلامی نظام کے نفاذ کا اعلان کیا جائے ،مطالبہ کیا گیا کہ یونیورسٹی ،کالجز،سکولزکے سرکاری نصاب میں عقیدہ ختم نبوت سے متعلق اہم ترین مضامین شامل کئے جائیں سے طلباء کو کم از کم یہ علم ہوسکے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی بھی نبوت کا دعویدار جھوٹاہے ،مطالبہ کیا گیا کہ حکومت کی جانب سے بارہ ربیع الاول کو ختم نبوت کانفرنس کا اعلان سیاست ہے جسے ہم یکسر مستردکرتے ہیں صرف کانفرنس بلانے سے کوئی مسلمان نہیں ہوجاتا مسلمان ہونے کیلئے محبت رسول اول شرط ہے جسکی پہلی نشانی گستاخ رسول سے نفرت ہے ایک ہی دل میں محبت رسول اور گستاخ رسول سے محبت نہیں سماسکتی اسلئے جب تک ملعونہ آسیہ مسیح کو پھانسی نہیں دی جاتی حکومت ہرماہ تیس ختم نبوت کانفرنس بلوالے ہم اسے مسترد کرتے ہیں .

مطالبہ کیا گیا کہ چنابنگر میں قادیانیوں نے حکومتی رٹ کو چیلنج کیا ہواہے وہاں کوئی حکومتی فورس نہیں قادیانیوں نے الفرقان فورس کے نام سے اپنی فورس بنا رکھی ہے کوئی تھانہ نہیں وہاں زیرزمین اسلحے کے ذخائر ہیں حکومت چنابنگر میں قادیانیوں کی اجارہ داری ختم کرکے اپنی رٹ قائم کرے ،مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اس نازک ترین دور میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے ہاتھ مضبوط کریں،مطالبہ کیا گیا کہ دینی مدارس کے ساتھ معاندانہ رویہ ترک کرکے اسنکے ساتھ مصالحت پسندرویہ اختیار کیا جائے اور جدا جدا دینی مدارس کو تنگ کرنے کی بجائے تمام مسلک کے مدارس کے بورڈز ہیں اور ان سبکا ایک اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ موجود ہے حکومت ان سے مذاکرات کو یقینی بنائے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *