فیض آباد دھرنا TLP نے کیا کھویا کیا پایا ؟

تحریر : قاضی حسنین رضا

ہمارا ملک کے لبرل طبقہ فکر ہی نہیں بلکہ بعض مذہبی حلقوں کا بھی ذوق جمالیات کچھ اس طرح ترتیب پایا ہے کہ وہ معرکہ حق و باطل میں عملاً شریک ہونے کے بجائے اس کو گھر بیٹھ کر ، ٹی وی اسکرین پر ملاحظہ کر کے انٹرٹین (Entertain) ہونا چاہتے ہیں اور خون خرابہ کے بجائے اگر مقاصد شرع کی روشنی میں معاہدہ ہو جائے تو ان کا ذوق جمالیات بری طرح متاثر اور مزہ کرکرا ہو جاتاہے! بہر کیف اس "جمالیاتی”  رجحان فکر کو نظر انداز کرتے ہوئے ، دھرنا سے اہل حق کو جو نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں ان مقاصد و اہداف پر ایک طائرانہ نظر پیش خدمت ہے ۔

(1) ناموس رسالت کا وسیع تر عنوان جلیل جس بڑے پیمانے پر مزاحمت کو چاہتا ہے ، وہ جمہوری جماعتوں کے عصر سے مغرب ہونے والے روایتی جلسوں میں پورا ہوتا نظر نہیں آتا ہے۔ ایسے میں تحریکِ لبیک کی جانب سے تقریباً ہفتہ بھر کی اس ملک گیر انقلابی مزاحمت میں جس طرح مقامی طاغوت کو اعلانیہ پیغام دیا گیا کہ ہماری "ریڈ زون” ناموس رسالت ہے ، اسی طرح یہ پیغام عالمی مغربی میڈیا کو بھی پہنچا ، الحمدللہ! سب سے اہم بات یہ کہ فرانسیسی میڈیا تک نے ناموس رسالت کے اس مظاہرے پر جس طرح رات دن شور مچایا ، وہ واضح ثبوت ہے کہ علامہ رضوی کی پھکی نے عالمی منظرنامے پر بھی کام کر دیکھایا ہے۔

(2) پھر اس ناموس رسالت کی اس مزاحمت کا ایسے وقت میں ہونا جب امریکی اسٹیبلشمنٹ ، انتخابی نتائج اعلان کرنے کو ہے اور عالمی اسٹیبلشمنٹ جدید ادارتی صف بندی مسلم ممالک میں کرنا چاہتی ہے ، اس اہم موڑ پر ملک کے دارالخلافہ میں یہ مجاہدانہ مزاحمت عالمی استعماری قوتوں کو وہ ہی پیغام ہے جس کا اعلان علامہ رضوی صاحب نے اس دھرنے کے شروع ہی میں کردیا تھا کہ پاکستان پر اب بھی راج تمہارے چھوڑے ہوئے کالے انگریزوں کا نہیں بلکہ محمد عربی کے غلاموں کا ہے !

(3) جو لادین نظام حکومت کل تک تحریک کو کالعدم تنظیم قرار دیتا تھا ، تین دن سے تحریک کو اسلام آباد پر قابض ”اقلیت” قرار دے رہا تھا  اور جو کچھ عرصے پہلے ہی اپنی دین دشمنی و حسد میں قیادت لبیک کو پابند سلاسل کر چکا تھا ، وہ جابر لادین نظام تحریک سے یہ معاہدہ کرنے پر مجبور ہوا کہ متعین کردہ وقت میں نہ صرف فرانسیسی وزیر نکالا جائے گا بلکہ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی کیا جائے گا اور قیادت لبیک نے بھی پھر حکومت سے وعدہ کیا کہ مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو پھر جس طرح اب ہم رکاوٹوں کو عبور کر آئے ہیں اگلی بار بھی جلد میدان لگے گا! نیز اخراجِ سفیر کے متعلق یہ بلند ہمت مطالبہ کرنا ہی مذہبی طاقتوں کا دفاعی سے اقدامی پوزیشن میں آنا ہے ورنہ کل تک احساس کمتری کی ماری ہماری مذہبی جمہوری جماعتیں یہ مطالبہ کرنے ہی سے گریزاں تھیں۔ یہ بھی اس کامیابی کا ایک دوسرا پہلو ہے۔

مزید پڑھیں: اُمِ رُباب چانڈیو کا گڑھی خدا بخش میں احتجاجی دھرنا

(4) ایک اور نہایت ہی اہم مسئلہ اس دھرنے کے حوالے ہی سے نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی اسیران تحریک لبیک کا ہے ، وہ بےلوث مجاہدینِ ناموس رسالت جو کافی عرصے سے جیلوں میں اسیری کی زندگی گزار رہے تھے۔ چنانچہ اس مزاحمت کے نتیجہ میں کارکنان کی بڑی کھیپ کو دوران مذاکرات ہی جیلوں سے آزاد کردیا گیا تھا ورنہ بڑی طویل المعیاد سزائیں تھیں اور مزید رہائیاں تاحال جاری ہیں۔ اللہ تعالی نے رحم فرمایا۔

(5) تحریک لبیک نے نیازی کے اس دور حکومت میں پھر سے قوت پکڑی اور ثابت کیا کہ تحریک لبیک کے  پاس ناموس رسالت کی وہ قوت ہے ، جس کے نتیجہ میں نواز دور کا فیض آباد ہو یا نیازی دور کا فیض آباد ، نظام کے نہ چاہنے کے باوجود تحریک لبیک اپنے آبائی مرکز پہچنے اور وہاں بیٹھ کر اپنے مطالبات منوانے کی پوری پوری ”قوت”  رکھتی ہے!! خصوصاً اس بار فیض آباد تک پہچنے میں تحریک نے جس قدر قوت کا مظاہرہ کیا ، وہ اس اعتراض کا بھی جواب ہےکہ کسی کے بھیجنے سے نہیں جایا جاتا اور نہ ہی ان کا روکاوٹ بن کر سامنے آنے سے تحریک اپنے سفر و منزل سے روکتی ہے! ۔

مزید پڑھیں: تحریک لبیک پاکستان کا کامیابی پر دھرنا ختم

(6) نیز تحریک پر لبرل طبقہ فکر کے اس اعتراض کا بھی جواب ہوگیا کہ تحریک نے نواز دور میں دھرنا دیا تھا تو اب نیازی دور میں تحریک لبیک فیض آباد پر کہاں ہے؟ ایسے میں نظام کے تمام تر جبر کو روندتے ہوئے اور تمام تر ریاستی مزاحمت کو عبور کرتے ہوئے تحریک لبیک نے ثابت کیا کہ مودی کا لاڈلا نواز ہو یا نکے کا ممدوح نیازی ، ہر دو کا تحریک کی انقلابیت نے ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے! پس جب تمام اپوزیشن مل کر حکومت کے خلاف  ایسی مزاحمت نہ کرسکی اور نہ ہی اپنی سماجی ساخت برقرار رکھ سکی ، ایسے میں اِس دھرنے نے جہاں تحریک کے سیاسی و سماجی تشخص کو بھی مزید قوی سے قوی تر کیا ، وہیں تحریک کی مزاحمتی و جہادی ساخت کا بھی اغیار کو بخوبی تجربہ ہوا ہے! یقینا یہ کسی کرامت سے کم نہیں اور یہ سب فیضان مدینہ ہے ، الحمدللہ۔

رہے گا یوں ہی ان کا چرچا رہے گا

پڑے خاک ہو جائیں جل جانے والے​