مسافر پر ستم جو ہوئے وہ کم ہوئے

تحریر : محمد نذیر کاغانی

زیرِ نظر دو تصویریں ہزارہ ایکسپریس کی بوگی نمبر 12 کی ہیں۔ جو 14/11/2020 کی صبح چھ بجے سٹی اسٹیشن کراچی سے چلی اور اگلے دن 15/11/2020 کی شام پانچ بجے ٹھیک 35 گھنٹوں کے بعد حویلیاں پہنچی۔ قطع نظر تاخیر سے پہنچنے کے۔ ٹرین کی اندرونی حالت زار اگر بیان کی جائے تو شاید شیخ صاحب آپ بھی رو پڑیں ۔

ہمیں ریلوے حکام نے بوگی نمبر 12 کی ٹکٹیں دی تھیں۔ اپنی عادت کے مطابق کراچی سے پینے کے پانی کے علاوہ استعمال کا پانی بھی رکھ لیا تھا۔ کراچی تا روہڑی ٹرین میں انتظامیہ کی طرف سے  پانی بھرا ہی نہیں گیا۔ لہذا باتھ رومز کی جو حالت ہونی تھی آپ شاید تصور میں بھی گھِن محسوس کریں گے ۔

روہڑی سے حویلیاں تک مختلف مقامات سے جو پانی بھرا گیا وہ بھی انتہائ ناکافی رہا ۔ چھوٹے بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والوں کی تکليف پانی نہ ملنے کی صورت میں کیا ہوتی ہے ؟ شیخ صاحب آپ کیا جانے؟ ستم بالائےستم  یہ کہ اس پورے ڈبے میں موبائل چارجنگ کے سب ہی پوائنٹ ناکارہ تھے۔ اس سے بھی لوگوں کو کافی تکلیف پہنچی۔

مزید پڑھیں: کراچی سرکلر ریلوے 16 نومبر سے شروع ہونے کا اعلان

ٹوٹ پھوٹ کا عالم تو یہ تھا، چائے اور کھانے کے چھوٹے چھوٹے ٹیبل نما تختے اکثر ٹوٹے ہوئے اور بعض اکھڑے ہوئے تھے۔ ایسا لگتا ہے یہ پاکستان ریلوے ایک لاوارث شعبہ ہے جس کا کوئ پرسانِ حال نہیں۔نہ ٹرین کی بوگیوں کی صفائ ڈھنگ کی ہوتی ہے۔ پانی تو ہوتا ہی نہیں۔ضرورت کے مطابق چھوٹے موٹے کام بھی نہیں کروائے جاتے ۔

ملکی اور قومی ادارے کیوں تباہ ہوتے ہیں؟ جب آپ جیسے وزراء اپنے فرائض سرانجام دینے کی بجائے پیشین گوئیاں کرنے لگ جائیں تب ادارے برباد ہوتے ہیں۔برائے مہربانی اپنے کام سے کم رکھیں اور ریلوے کو بہتر بنائیں۔ گستاخی معاف! آپ تو کاشغر تک ٹرین چلانے نکلے تھے ابھی تو آپ سے حویلیاں تک کا اچھا بھلا چلتا ٹرین سسٹم تباہ ہوتا جا رہا ہے ۔