محکمہ صحت کے سرجیکل ڈسپوزیبل آلات کا غیر قانونی استعمال جاری

کراچی : محکمہ صحت سندھ کے ماتحت کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں سمیت کراچی ریجن کے 6 ضلعی صحت دفاتر میں سالانہ کروڑوں روپے مالیت کی خریدی جانے والی ادویہ اور سرجیکل ڈسپوزبیل اشیاء قانون کے مطابق ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں تجزیہ کرائے بغیر ہی خلاف قانون مریضوں کو استعمال کرائے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔

جس کے باعث مریضوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں ۔جب کہ یہ اقدام محکمہ صحت سندھ کا انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور لا قانونیت پر مبنی عمل قرار دیا جا رہا ہے ۔

صوبے کے سب سے بڑے تدریسی ڈاکٹر رتھ فاﺅسول ہسپتال کراچی اور محکمہ صحت کے زیر انتظام دیگر تدریسی و غیر تدریسی ہسپتالوں سندھ سروسز ہسپتال ایم اے جناح روڈ، سندھ گورنمنٹ لیاری جنرل ہسپتال، سندھ گورنمنٹ ہسپتال لیاقت آباد، نیو کراچی، اورنگی قطر کورنگی، ابراہیم حیدری، اربن ہیلتھ سینٹر نارتھ کراچی، سعود آباد محل مارکیٹ نیوکراچی وغیرہ کے علاوہ کراچی ریجن سمیت 6 ضلعی صحت دفاتر میں سالانہ کروڑوں روپے کی خریدی جانے والی ادویہ اور سرجیکل ڈسپوزبیل اشیاءڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں تجزیہ کرائے بغیر ہی خلاف قانون مریضوں کو استعمال کرائی جا رہی ہیں ۔

مذید پڑھیں : اسلام آباد NCOC اجلاس میں تعلیمی اداروں کی بندش پر وزرائے تعلیم ڈٹ گئے

اس غیر ذمہ دارانہ اور فعل مجرمانہ کے باعث سرکاری ہسپتالوں سے مفت ادویہ اور سرجری کا سامان استعمال کرنے والے غریب مریض سولی پر لٹکے ہوئے ہیں اور حیرت انگیز طور پر طبی تنظیموں نے نامعلوم وجوہ کی بناء پر معاملے میں پر اسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔

جب کہ محکمہ صحت سندھ کی جانب سے خریدی جانے والی دواﺅں کا اپنی لیبارٹری میں ٹیسٹ کرانے اور ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سے لیکر دواﺅں کے جانچنے کی ایسی مضحکہ خیز کمیٹیاں بنا دی ہیں ۔ جو ڈی ایچ اواور ڈپٹی کمشنر وغیرہ پر مشتمل ہیں یہ کمیٹیاں صرف ادویات کی درج شیلف لائف کو دیکھ کر اس کے معیار اور مقدار کو درست قرار دینے کا کام بعض مقامات پر کمیشن لے کر کرتے ہیں ۔

جب کہ سابق نظام کے مطابق دوا سپلائی کرنے والی کمپنی نہ صرف دواﺅں کی تجزیاتی فیس بلکہ دوا کے لیبل پر درج اس کی مقدار کو بھی پورا رکھنے کی پابند ہوتی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ کام گذشتہ تین سال سے ازخود متروک قرار دیا جا چکا ہے جس کی تصدیق ادویہ سپلائی کرنے والی کمپنیوں کیجانب سے ضابطے کے مطابق سپلائی شدہ کسی بھی دوا کے تجزیہ کی فیس ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں جمع نہیں کرائی گئی ۔

مذید پڑھیں : بختاور کے منگیتر کیخلاف پروپیگنڈے پر آصف زرداری کا مولانا فضل الرحمن سے رابطہ

نہ ہی کسی بھی کراچی کے ڈرگ انسپکٹر نے گذشتہ تین سال سے کسی کال پر اپنے ضلع کے سرکاری ہسپتال یا ضلعی صحت افسر کے اسٹور سے کوئی نمونہ تجزئیے کے لیے حاصل کیا محکمہ صحت سندھ کا سب سے بڑا کارنا مہ یہ ہے کہ اپنے کمیشن کے چکر میں ایورسٹ فارما سٹیکلز اسلام آباد کی کمپنی سے صوبہ بھر کے ہسپتالوں کے لیے کروڑوں روپے کی جعلی اور مشکوک دوا کی خریداری کر لی گئی ہے ۔

جس کے مالک ڈاکٹر عثمان کو سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے عدالت میں طلب کر کے ہتھکڑیاں لگوا کر جیل بھیجا تھا اور مذکورہ ادویہ ساز کمپنی کو سیل کردیا تھا اور ملک بھر میں ایورسٹ فارما کی تمام دواﺅں کو اٹھا کر تلف کرنے کا حکم دیا تھا اور اس وقت محکمہ صحت سندھ کے سابق سیکریٹری ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو نے بھی تمام دوا اٹھوا کر ڈسٹری بیوٹرز کو واپس کی تھی۔ معاہدے کے مطابق محکمہ صحت نے اس کے بدلے میں نہ متبادل دوا اور نہ ہی مذکورہ ڈسٹری بیوٹر سے رقم واپس لی یوں جعلی دوا خرید کر نہ صرف کروڑوں روپے کا سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا بلکہ غریب مریض بھی ادویات سے محروم ہیں ۔