امریکی FBI نے مُلزم کو پکڑنے میں 51 برس لگا دیئے

رپورٹ : علی ہلال

گزشتہ جمعہ کو امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے پریس کانفرنس کر کے بتایا گیا کہ وہ ایک ایسے ملزم کو دوبارہ پکڑنے میں کامیاب ہو گئی ہے، جو 1971 میں بھاگ گیا تھا اور نصف صدی تک اس کا تعاقب کیا جاتا رہا۔ مگر وہ کسی صورت ہاتھ نہیں آیا ۔

ليونارڈ موزس نامی اس شخص پر 1968 میں قتل کا الزام لگا تھا ۔ گرفتاری کے بعد وہ اپنی دادی کی آخری رسومات میں شرکت کے بہانے پیرول پر تھا کہ اس دوران فرار ہو گیا ۔ اس کے بعد وہ اپنی ہیئت بدل کر پولیس کو چکمہ دیتا رہا ۔ اس نے نام بھی تبدیل کر کے "بول ڈيكسون” رکھ لیا تھا ۔

1999 تک وہ مشی گن کے ایک میڈیکل اسٹور پر کام کرتا رہا ۔ 2016 میں ایف بی آئی نے اس کی تلاش پھر سے تیز کر دی تھی ۔ اس کے رشتہ داروں سے تفتیش کے ساتھ پتہ بتلانے والے کیلئے بھاری انعام کا بھی اعلان کیا گیا۔ مگر پھر بھی اس کا پتہ نہ چل سکا۔

مزید پڑھیں: فرانس اسلامو فوبیا کے شکنجے میں آ گیا

ایف بی آئی کے اہلکار مائیكل كريسٹمان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہم نے ملزم کے بارے میں دو سو معلومات اکٹھی کیں، لیکن اس کا سراغ نہ لگا سکے ۔ تاہم اس سال کے شروع میں یہ ملزم بوڑھاپے میں ہاتھ آ گیا ہے ۔

پوری دنیا میں امریکی جاسوسی اور تحقیقاتی اداروں کا جو دیوہیکل شکل بنائی گئی ہے ۔ اس ایک واقعہ سے اس کی حقیقت عیاں ہو جاتی ہے ۔ اڑتے پرندوں کے پر گننا تو دور کی بات ہے، یہ اپنی ناک کے نیچے بال بھی دیکھنے سے قاصر ہیں ۔ تیسری دنیا کے لوگ خواہ مخواہ مرعوب ہو کر انہیں "غیب دانی” کے درجے پر فائز کر رکھا ہے ۔