عرب اسرائیل کے قدموں میں

تحریر : ضیاءالرحمن چترالی

جنگ کپور میں تاریخی شکست کھانے والے عرب ممالک میں سے کچھ تو پہلے ہی اسرائیل کے قدموں میں گر چکے تھے اور باقی ماندہ بھی اب صہیونی ریاست کے تلوے چاٹنے کو بے تاب نظر آ رہے ہیں۔

یہ اسرائیلی وزیر ثقافت و کھیل میری ریغیف ہے، جو ان دنوں امارات کے خصوصی دورے پر ہے۔ جسے بدوؤں نے ’’حمامۃ سلام‘‘ (امن کی کبوتری یا فاختہ) قرار دیدیا ہے اور اس کی آمد پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔

ہر طرف سے آؤ بھگت ہو رہی ہے۔ یہی وہ خنزیر ہے، جس نے اذان کا مذاق اڑایا تھا اور سرعام (آن ایئر) اسلام کو گالیاں دی تھیں، مگر آج اماراتی حکام نے اپنی جوروں کی معیت میں اسے شیخ زاید مسجد کا دورہ بھی کرایا۔ بظاہر یہ صہیونی وزیر امارات میں ہونے والے جوڈو مقابلوں میں شرکت کرنے والی اسرائیلی ٹیم کے ساتھ آئی ہے۔ لیکن یہ اک بہانہ ہے۔ اس سے قبل بھی کئی اسرائیلی وزرا امارات کا دورہ کر چکے ہیں۔ جبکہ امارات نے گزشتہ جنگ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کو خدمات بھی فراہم کر چکا ہے۔

ادھر گزشتہ تین دن سے خلیجی وزرائے خارجہ بحرین کے دارالحکومت منامہ میں سر جوڑے بیٹھے ہیں۔ اس بیٹھک کا اہتمام ایک یورپی تھنک ٹینک نے کیا ہے، بظاہر اس مکالمے کا مقصد خلیجی ممالک کے درمیان تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنا ہے تاکہ علاقے کو استحکام اور خلیجی عوام کو خوشی اور خوشحالی سے ہمکنار کیا جاسکے۔

لیکن پس پردہ اصل مقصد اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے۔ جس کا اظہار سلطنت اومان کے وزیر خارجہ یوسف بن علاوی نے واضح الفاظ میں کیا ہے کہ: اسرائیل خطے کا ایک اہم ملک ہے، وقت آ گیا ہے کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھا جائے۔

تین روز قبل اسرائیلی وزیراعظم اومان کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ اسی دوران سعودی آرمی چیف کی اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات کی بازگشت بھی سنائی دی تھی۔

آج ہی یروشلم پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ دنوں اسرائیل نے 250 ملین ڈالر کے جدید ترین جاسوسی آلات سعودی عرب کو فروخت کئے ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے عربوں کے خفیہ روابط کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری تھا۔ اب اسے منظر عام پر لایا جا رہا ہے۔ایسے میں ہم اکیلے کب تک اسرائیل سے دشمنی نبھاتے رہیں گے؟

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *