حرم کے 40 لاکھ کبوتروں کی تاریخ

رپورٹ : ضیا چترالی

حرمین شریفین کے اطراف کبوتروں کے حوالے سے عمرہ اور حج زائرین میں کئی قصے اور کہانیاں رائج ہیں ۔ صدیوں سے زائرین اور حرم کے کبوتروں کے درمیان ایک رشتہ قائم ہے۔ کبوتر مسجد الحرام کے اطراف چکر لگاتے ہیں اور وقتاً فوقتاً زائرین کے سروں پر منڈلاتے رہتے ہیں اور اپنی انسیت کا اظہار کرتے ہیں ۔ الشرق الاوسط کے مطابق ان کبوتروں کی تعداد 40 لاکھ سے زائد ہے۔ مگر انتہائی عجیب بات ہے کہ ہر وقت مسجد حرام اور کعبہ شریف کے گرد منڈلانے والے یہ کبوتر کبھی حرم شریف کے اندر بیٹ نہیں کرتے ۔ یہ کبوتر ڈال کی شکل میں جب ایک عمارت یا دوسری عمارت یا صحن حرم میں اترتے ہیں تو یہ منظر بڑا دلکش ہوتا ہے ۔ زائرین بھی کبوتروں کو دانہ ڈال کر خوشی محسوس کرتے ہیں ۔

حرم مکی کے کبوتر منفرد رنگ رکھتے ہیں۔ مسجد الحرام کے اطراف، اس کے صحنوں اور مکہ کی سڑکوں پر اڑتے ہوئے بڑے بھلے لگتے ہیں ۔ سرمئی مائل نیلے رنگ کے پر اور گردن کے پاس سبز حلقہ بڑا خوبصورت لگتا ہے۔ ان کبوتروں کے ساتھ خاص معاملہ کیا جاتا ہے۔ احرام پوش ہوں یا سادہ لباس میں۔ زائر مقامی شہری ہوں یا مقیم غیر ملکی کسی کو بھی کبوتروں کے شکار یا انہیں مارنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان کبوتروں کو اپنے ٹھکانے سے بھگانے کے لیے ان کے انڈے توڑنے کی اجازت بھی نہیں ہے اور یہ شرعاً ممنوع ہے۔ ان کے شکار یا قتل کرنے کی صورت میں فدیہ یا دم واجب آتا ہے ۔

مکہ کی تاریخ اور سیرت طیبہ کے اسکالر سمیر احمد برقہ نے ان کی نسب کے حوالے سے بتایا کہ حرم کے کبوتروں کی نسل غار ثور کے دھانے پر گھونسلہ بنانے والے کبوتر سے ہے۔ یہ خوبصورت شکل اور رنگ کے ہیں۔ ان کی گردن لمبی ہوتی ہے اور گردن کے اطراف منفرد رنگ ہیں۔ ان کی آنکھیں سرمئی لگتی ہیں۔ یہ ایسی خصوصیات ہیں جو دیگر قسم کے کبوتروں اور پرندوں میں نہیں پائی جاتیں۔ سمیر احمد برقہ نے بتایا کہ تاریخی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ”حوطہ سدیر“ کا ایک زرعی فارم حرم مکی کے کبوتروں کی نگہداشت اور افزائش کے لیے وقف ہے، مکہ کا ایک شہری حرم کے کبوتروں کے لیے ایک عمارت وقف کیے ہوئے ہے، اس کی آمدنی سے ان کا دانہ ڈالا جاتا ہے اور ان کا خیال رکھا جاتا ہے۔

مذید پڑھیں : ملک بھر میں TLP کے سینکڑوں کارکنان گرفتار

مکہ مکرمہ میں مسجد حرام کے اطراف بہت سے معتمرین ثواب کی امید پر کبوتروں کی ایک بڑی تعداد کو گندم کا دانہ ڈالتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ذوالحجہ کے ابتدائی پانچ دنوں میں کبوتروں کے جھنڈ کے جھنڈ مکہ مکرمہ کی جانب آتے ہیں اور پھر مہینے کے درمیان ایک مرتبہ پھر مدینہ منورہ لوٹ جاتے ہیں۔ ان کبوتروں کو نقصان پہنچانے کی حرمت اس امر سے وابستہ ہے کہ یہ ان کبوتروں کی نسل سے ہیں جنہوں نے رسول اقدسؐ اور سیدنا صدیق اکبرؓ کے غارِ ثور میں قیام کے دوران غار کے دروازے پر گھونسلے بنا ڈالے تھے۔ ایک دوسری روایت کے مطابق حرم مکی کے کبوتروں کی نسل کا تعلق ان ابابیل پرندوں سے ہے جو سمندر کی جانب سے آئے تھے اور انہوں نے اپنے پنجوں میں پتھر اور کنکر تھام رکھے تھے، تاکہ کعبہ کو منہدم کرنے کے ارادے سے آنے والے یمن کے بادشاہ ابرہہ الاشرم کو باز رکھا جائے۔

اس حوالے سے ایک تیسری روایت میں مشہور طوفان کا قصہ بھی ملتا ہے اور حضرت نوح علیہ السلام نے اس پرندے کو زمین اور اس کی خشکی کو دریافت کرنے کے واسطے استعمال کیا تھا۔ اس طرح یہ پرندہ دنیا بھر میں امن کا عنوان بن گیا۔ یہ کبوتر دور رسالت سے حرمین شریفین میں بسیرا کئے ہوئے ہیں۔ حضرت ابن عمرؓ کے کجاوے،کھانے اور کپڑوں پر کبوتر آکر بیٹھ جاتے تو آپؓ انہیں کچھ نہ کہتے۔ ایک قریشی لڑکے نے حرم کا کبوتر مار دیا تو حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا ایک بکری بطور قدیہ دے۔ اس لئے حرم کے کبوتر لوگوں سے نہیں ڈرتے ۔

مکہ کے کبوتروں میں کچھ خاص باتیں ہیں۔ حرم کا کبوتر غیر کبوتروں کے ساتھ میل نہیں کھاتا، خواہ اسے کتنے ہی دنوں کیوں قفس میں بند رکھا جائے ۔ حرم کا کبوتر دوسرے کبوتروں کے ساتھ دانہ چگنے میں شریک ہو جاتا ہے، مگر دوسرے کبوتر حرم کے کبوتروں کے کھانے دانے میں شرکت نہیں کرتے۔ حرم کے کبوتر، پالتو کبوتروں سے زیادہ قوی، زیادہ پرواز کرنے والے، تیز نظر اور زیادہ ہشاش بشاش ہوتے ہیں۔ دانے کے لیے دوسرے کبوتروں سے خوب لڑتے ہیں۔ جب کوئی حرم میں دانہ ڈالتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ ہزاروں کبوتر ایک دم ٹوٹ پڑتے ہیں مگر ان میں کوئی بھی غیر جنس کا کبوتر نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص کسی جگہ کسی خاص وقت پر دانہ ڈالنے لگے تو آپ دیکھیں گے کہ حرم کے کبوتر وہاں ٹھیک وقت پر آموجود ہوتے ہیں۔ حرم کا کبوتر کبھی اپنا گھونسلہ ویرانے یا جنگل میں نہیں رکھتا۔ ہمیشہ آبادی،گھروں، دروازوں اور چھتوں میں رکھتا ہے۔

مذید پڑھیں : گلگت بلتستان انتخابی کھیل اور ممکنہ نتائج ! قسط سوم

حرم کے کبوتروں کی خاص ہیئت اور خاص قسم کی طبیعت ہے جس میں کبھی کوئی تغیر نہیں ہوتا۔ ان اوصاف میں حرم کا کبوتر امتیازی شان رکھتا ہے، لیکن دوسری صفات میں وہ عام کبوتروں کے ساتھ اشتراک فطرت رکھتا ہے۔ مثلاً یہ کہ ایک ہی مادہ لیتا ہے، اپنی مادہ سے محبت رکھتا ہے اور اس کے بارے غیرت مند ہوتا ہے۔ یہ کبوتر علمائے کرام اور مختلف سرمایہ داروں کے درمیان تنازعے کا باعث بھی بنتے ہیں۔ حرم مکی شریف کے آس پاس ان کبوتروں کو خصوصی تحفظ حاصل ہے، جس کے باعث ان کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے، کبوتروں کی بیٹیں مکہ مکرمہ کی عمارتوں کے حسن کو گہنانے کا باعث بن رہی ہیں۔ بعض کمپنیوں نے ایک خاص فریکوئینسی میں آواز نکالنے والے آلات متعارف کرائے ہیں، جنہیں کمپیوٹرائزڈ سسٹم سے جوڑنے کے بعد کبوتروں کو وہاں سے دور اڑایا جا سکتا ہے ۔

جبکہ علماء کا کہنا ہے کہ کبوتروں کو مارنا، ان کو ایذا پہنچانا اور غذاء سے محروم رکھنا کسی طور پر جائز نہیں اور نہ ہی ایسا کوئی طریقہ اختیار کرنا جائز ہے ، جس کی وجہ سے حرم شریف کے کبوتروں کو یہاں سے نقل مکانی پر مجبور کیا جا سکے۔ جب سعودیوں نے حرم شریف کا انتظام سنبھالا تو حرم نبوی کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے فیصلہ کیا کہ حرم نبوی میں کبوتروں کے لیے دانہ نہ ڈالا جائے اس طرح کبوتر دانہ کی تلاش کے لیے دوسری جگہوں میں منتقل ہو جائیں گے اور حرم شریف صاف رہ سکے گا ۔ اس حکم پر عمل کیا گیا، کئی دن گزر گئے دانہ تو نہیں ڈالا، مگر کبوتروں کی گنبد خضراء سے محبت کا یہ عالم کہ بھوک سے تو مر رہے ہیں، مگر آستانہ محبوب چھوڑنے کے لیے تیار نہیں، اہل مدینہ منورہ نے اس عشق و محبت بھرے منظر کو دیکھا ۔ دنیا میں یہ بات شہرت پکڑ گئی، لوگوں نے حکومت کو تار دیئے، اصرار کیا، پھر حسب سابق دانہ ڈالنا شروع ہو گیا۔

مذید پڑھیں : شمشان گھاٹ کے اکلوتے موحد مولانا طارق جمیل

علامہ علی بن برہان الدینؒ فرماتے ہیں یہ کبوتر اس جوڑے کی نسل سے ہیں جنہوں نے غارِ ثور پر گھونسلہ بنایا اور انڈے دیئے، محبوب کریم کو ان کی خدمت ایسی پسند آئی کہ ان کی نسل کو بھی اپنے پاس رہنے کی اجازت دیدی۔ سعودی عرب کے پیشہ ور فوٹو گرافر بدر العتیبی نے مکہ مکرمہ میں حرم شریف کے باہر کبوتروں کے مخلتف مناظر کو اپنے کیمرے میں محفوظ کیا ہے۔ حرم مکی کے باہر لاتعداد کبوتروں کی موجودگی کا کیمرے کی آنکھ سے اظہار خوبصورت ماحول کو اجاگر کرنے کی ایک منفرد کوشش ہے۔

مکہ مکرمہ کی ام القریٰ یونیورسٹی میں قانون کے طالب علم بدر العتیبی نے العربیہ نیٹ کو بتایا کہ چھ سال قبل انہیں فوٹو گرافی کا شوق ہوا۔ شروع شروع میں انہوں نے موبائل کیمرے سے اپنا یہ شوق پورا کرنے کی کوشش کی، مگر بعد میں پیشہ ور فوٹو گرافر بننے کے لیے دوستوں کے مشورے سے ڈیجیٹل کیمرہ خرید لیا۔ بدر العتیبی نے بتایا کہ حرم مکی کے باہر موجود کبوتر مختلف ناموں، رنگوں اور نسلوں کے ہیں۔ تاریخ اور دستاویزی کتابوں میں بھی کبوتروں کی اقسام کی تفصیلات ملتی ہیں۔ ان میں سے بعض کی گردن گہرے نیلے رنگ کی ہوتی ہے۔ ان کے پروں کے کنارے اور دم سیاہ ہوتی ہے جبکہ ان کا باقی حصہ سفیدی مائل نیلے رنگ کا ہوتا ہے۔ انواع و اقسام کے کبوتر مکہ مکرمہ بالخصوص مسجد حرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے اطراف میں ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ العتیبی نے مزید بتایا کہ انہوں نے حرم مکی میں کبوتروں کی یہ خوبصورت فوٹو گرامی اپنے دوستوں کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی شیئر کی تاکہ یہاں کے کبوتروں کا دلکش انداز دنیا بھر میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ ان کبوتروں کا ذکر عربی شعر و ادب میں بھی ہے ۔