” مرتی لونڈیا "

تحریر : رعایت اللہ فاروقی 

الحمدللہ دیسی لبرلز کی اس بک بک سے تو جان چھوٹی کہ "مغرب میں لوگ خندہ پیشانی سے شکست تسلیم کر لیتے ہیں، اور اقتدار جیتنے والے کے سپرد کر دیتے ہیں جبکہ ہم مسلمان ان سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں "۔

2008ء میں باراک اوباما کی "اندوہناک” جیت نے امریکی نظام کی جڑیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ اس کا پہلا اشارہ اس وقت ملا تھا جب امریکی سینیٹ کے فلور پر کھڑے ہوکر ریپبلکن لیڈر مچ مکانل نے کہا تھا ۔ "میرا اب ایک ہی ہدف ہے کہ میں نے باراک اوباما کو یہ موقع نہیں دینا کہ وہ دوسری بار بھی کامیاب ہو سکے” ۔

اوباما دوسری بار بھی کامیاب ہوا تو ریپبلکن نسل اور مذہبی تعصبات سمیت ہر کارڈ کے استعمال پر اتر آئے۔ اور یہ بات سر عام کہی جانے لگی کہ ہمارے ملک میں ہم گورے اقلیت بنتے جا رہے ہیں۔ دوسری نسلیں ہم پر عددی برتری حاصل کر رہی ہے اگر ہم نے تدارک نہ کیا تو ہمارا ملک ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ چنانچہ خانہ کعبہ پر بمباری، میکسیکو وال، مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ داخلے پر پابندی جیسی باتیں 2016ء میں ریپبلکن کا "انتخابی منشور” بن کر سامنے آگئیں۔ اسی تعصب کی یورپ میں ایکسٹینشن ہوئی تو مسلمان ہدف بن گئے۔ اب وہاں نشنلزم کا نعرہ مقبول ہوتا جارہا ہے اور اسی نعرے کے زیر اثر نیشنلسٹ یورپ میں اقتدار بھی حاصل کرتے جا رہے ہیں۔ ان کا ہدف مسلمانوں کا یورپ سے انخلاء ہے۔ 2016ء میں ٹرمپ منتخب ہوا تو لبرلز سڑکوں پر آگئے اور امریکہ بھرمیں فسادات پھوٹ پڑے۔ یہ "منصفانہ الیکشن” کے نتائج قبول کرنے سے لبرلز کا انکار تھا۔ اور امریکی میڈیا کی اسے حمایت حاصل تھی۔ ڈیموکریٹ میڈیا نے ٹرمپ کو روس کا یجنٹ ثابت کرکے اقتدار سے بے دخل کرنے کی کوششیں شروع کیں تو ٹرمپ نے اسی میڈیا کی دھلائی شروع کردی۔ اور اس نے ضد میں آکر ہر اس کام کی مخالفت شروع کردی جس کی ڈیموکریٹ خواہش ظاہر کرتے۔

مذید پڑھیں : شمشان گھاٹ کے اکلوتے موحد مولانا طارق جمیل

اسی پس منظر میں 2020ء کا حالیہ صدارتی الیکشن ہوا ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ معاملہ ایک فرد واحد ڈونلڈ ٹرمپ کا نہیں ہے۔ معاملہ سات کروڑ امریکیوں کا ہے۔ نومنتخب صدر جو بائیڈن سات کروڑ ووٹ لے کر منتخب ہونے والے پہلے امریکی صدر ہیں تو ان کے پیچھے کھڑے ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسی الیکشن میں سات کروڑ ووٹوں کی حد عبور کر چکے ہیں۔ جس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ ٹرمپ کے ایجنڈے کو سات کروڑ 27 لاکھ ووٹوں کی حمایت حاصل ہے۔ یوں امریکہ اس وقت ایک بدترین سیاسی تقسیم کا شکار ملک ہے۔ اور سیاسی تقسیم بھی وہ جس میں "منافرت اور تعصب” کو مرکزی کردار حاصل ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ٹرمپ اور ریپبلکن انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے بھی انکاری ہیں۔ معاملہ عدالت میں جانے کو ہے اور امکان یہی ہے کہ بائیڈن ہی اگلا صدر ہوگا۔ مگر سینٹ میں ریپبلکن اکثریت میں ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ بائیڈن کو قانون سازی اور اعلی عہدوں پر تقرری میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکی بحران کی شدت صرف یہی نہیں بلکہ یہ ہے کہ پہلی بار ایسا ہونے جا رہا ہے کہ ہارنے والا صدر گھر جا کر ریٹارمنٹ کی زندگی نہیں گزارے گا بلکہ ٹرمپ اب اگلے چار سال تک ریپبلکن پارٹی کا صدر ہی رہے گا اور وہ روز ڈیموکریٹس کے سینے پر مونگ دلتا رہے گا۔ اور 2024ء کے الیکشن میں ایک بار پھر ریپبلکن صدارتی امیدوار ہوگا۔ تب وہ کتنی شدت کے ساتھ سامنے آئے گا اس کا اندازہ لگانا دشوار نہیں۔ وہ نسل پرست تنظیمیں جن پر 2016ء تک امریکہ میں پابندی تھی، اب سڑکوں پر آزاد دندناتی پھر رہی ہیں۔ اور بائیڈن کے لئے ممکن نہ ہوگا کہ ان کے خلاف کوئی ایکشن لے سکے۔ ایسے میں امریکی میڈیا اور انٹیلی جنشیا یہ بات صاف صاف تسلیم کر رہا ہے کہ "دنیا میں امریکی وقار خاک میں مل گیا ہے، اب ہم ایک ایسے ملک کی شناخت حاصل کر گئے ہیں جہاں نسل پرستی عام ہے اور جمہوری نظام کو خطرات لاحق ہیں۔ اب ہم بھی وہ ملک ہیں جہاں انتخابی نتائج تسلیم نہیں کئے جاتے اور دھاندلی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے”

مذید پڑھیں : گلگت بلتستان انتخابی کھیل اور ممکنہ نتائج ! قسط سوم

اس پس منظر میں ہمارے سوچنے کی بات اب بس یہ رہ گئی ہے کہ ہمارے دیسی لبرلز فیس بک پر "لبرلزم” کا جو چورن بیچا کرتے تھے وہ اب کس بھاؤ بکے گا ؟ اور بکے گا بھی یا مفت بانٹنا پڑے گا ؟ جس لبرلزم کو امریکہ اور یورپ میں نیشنلزم سے شکست کا سامنا ہے اس پر امریکہ اور یورپ اب پاکستان میں سرمایہ کاری کیوں کریں گے ؟ اور جب یہ سرمایہ کاری نہ ہوگی تو ہمارے بے روز گاری دیسی لبرلز کا نیا روزگار کیا ہو گا ؟ کیا ایک بار پھر ہم وہ منظر دیکھنے کو ہیں جو ہم نے 1992ء میں سوویت یونین کے خاتمے کے فوری بعد دیکھا تھا کہ سرخے راتوں رات لبرلز بن کر ماسکو سے واشنگٹن کی جانب گھوم گئے تھے ؟۔ جب امریکہ، برطانیہ اور بھارت تینوں جگہ نیشنلسٹ زور پکڑ چکے ہیں تو ایسے میں آنے والے سالوں میں دیسی لبرلز کے لئے دو ہی امکانات بچ جاتے ہیں۔ یا تو وہ بھی لال ٹوپی پہن کر اپنے اپنے صوبے کی قوم پرست جماعتوں کا حصہ بن جائیں، یا پھر ڈاڑھیاں رکھ کر سیاسی فرقہ پرستی کے بجائے مذہبی فرقہ پرستی کا چورن بیچنا شروع کردیں۔ سید مبشر علی زیدی جیسے ایران نواز دیسی لبرلز کو تو اس میں کوئی مشکل بھی پیش نہ آئے گی۔ مگر سنی دیسی لبرلز کیا کریں گے ؟ اور ان میں بھی خاص طور پر وہ سنی دیسی لبرلز جو مدرسوں سے نکلے اور ڈاڑھیاں کتروا یا منڈھوا کر حالیہ سالوں میں لبرلزم کی مرتی لونڈیا پر فدا ہو گئے ! ۔