شمشان گھاٹ کے اکلوتے موحد مولانا طارق جمیل

تحریر : علی ہلال

کسی شخص کے سیاسی نظریات سے اختلاف اگر تمہارا حق ہے تو اسے بھی آزاد رہنے کا حق دینا وسعت ظرفی ہے۔
۔بالخصوص جب وہ افعال آپ کے لئے نقصان دہ بھی نہ ہوں۔

خان کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں پر وطن عزیز کا ایک بڑا طبقہ مولانا طارق جمیل سے ناخوش ہے ۔مگر حق یہ ہے کہ اس دل آزاری کے ذمہ دار مولانا کے بجائے وہ سیاسی جماعت ہے جس نے ان تبلیغی ودعوتی مقاصد سے ہونے والی ملاقاتوں کو فینٹیسائز اور گلیمرائز کرکے سیاسی مقاصد کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔

چونکہ مذکورہ جماعت کا سیاسی پس منظر علماء مخالف اور مذہب کے مقابلے میں سیکولرازم کی جانب مائل ہے جس کے لئے پاکستان جیسے اسلامی ملک میں سیاسی مقبولیت سمیٹنا ممکن دکھائی نہیں دے رہاتھا لہذا کے پی کے سے تعلق رکھنے والے دو ایسے مذہبی گروپوں کی وفاداریاں خریدی گئیں جن کے ملک سب سے بڑی سیاسی مذہبی جماعت سے اختلاف ،عداوت اور نظریاتی کشمکش معروف ہے۔ تاہم مذکورہ گروپس ک سیاسی اثرورسوخ نہ ہونے سے مقصد پوری طرح حاصل نہ ہوسکا جس پر دعوتی درد اور تڑپ رکھنے والے مولانا طارق جمیل پر دروازے کھول دیئے گئے ۔

مزید پڑھیں : ھنڈا ایٹلس ایک حادثہ یا لوگوں کا منظم قتل ؟

مولانا اس صدی کے عظیم خطیب ہیں۔ ان کی خطیبانہ سحر انگیزی کے بارے میں ہندو کہتے ہیں کہ ان کےگلے میں دیوتا بولتا ہے۔ ایک داعی کی حیثیت سے وہ ہرجگہ جاتے ہیں اور انہیں یہ حق ہونا چاہئے۔  چونکہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے ان کی بھی ہر پارٹی پر نظر رہتی ہے ۔اور وہ اس میں روحانی تبلیغ کرنے کے خواہش مند رہتے ہیں ۔

آخری بار انہوں نے جس پارٹی کو ہدف بنایا اس کی وجوہات تھیں۔ مذکورہ پارٹی میں روحانیات کو اولین حیثیت و اہمیت حاصل ہے ۔ پارٹی سربراہ کی روحانی افراد کی خدمات لینا ،جاڑھ پھونک اور تعویذ گنڈے سمیت بازوں پر پٹیاں بندھنا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ملک کا اکثریتی مذہبی طبقہ سیاسی پارٹی کی سب سے بڑی حریف کے ساتھ تھا جس کے نتیجے میں وہاں سراسر لادینیت ،شہوت پرستی اور رقص و سرود و شرکیات کے لئے میدان کھلا تھا۔ لہذا مولانا طارق جمیل نے اپنا وزن ڈال کر کچھ اچھا کرنے کی ٹھانی ہے ۔

مزید پڑھیں : ملک بھر میں TLP کے سینکڑوں کارکنان گرفتار

اندرونی ذرائع کا مانناہے کہ ان کی موجودگی سے آئڈیا لوجیکل مفادات کا حامل ایک بڑا مجمع شدید سیخ پا اور ناراض بھی ہے۔ کیونکہ ان کا خیال ہے کہ وہ ہزاروں جادوگروں کے مقابلے میں تنہا مگر موثر ثابت ہوکر بہت سی ناہونیوں کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ۔

روحانیات کمیونٹی ان کے وجود سے لرزہ بر اندام ہے۔ مگرملک کے اکثریتی طبقے کے کسی نمائندہ کےطور پر ان سے راہ ورسم رکھنا بھی مجبوری ہے۔ لہذا مولانا اس شمشان گھاٹ میں توحید کی شمع رکھنےوالے واحد انسان ہے۔ وگرنہ حسن دلاویز کے جام صبوح کشید کرنے کیلئے صبح بنارس بنانے والی کنیوں اور غپاڑہ کرنے والے پریتوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں ماسٹر ٹائلز کی شادی میں بحیثیت نکاح خواں شرکت کے بعد تو کچھ دوستوں نے مولانا کے خلاف محاذ بنالیا ہے ۔ بلکہ بعض دوست میڈیا کی ان کے رقم لینے کی غلط خبروں کو بغیر تصدیق کے دھڑا دھڑ چلارہے ہیں ۔ حالانکہ مولانا کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا ذاکروں کی طرح تقریروں اور نکاح کے پیسے نہیں لیتے ۔

میری معلومات کی حد تک مولانا طارق جمیل مولانا فضل الرحمن کے بعد سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں اور منفی پروپیگنڈے کے نشانہ بننے والے دوسرے عالم دین بن گئے ہیں ۔ فرض کرے اگر ماسٹر ٹائلز والے بین المذاہب ہم آہنگی اور رواداری کی مثال قائم کرتے ہوئے یہ نکاح مولانا کے بجائے کسی پنڈت ،پروہت ،ربی یا پادری سے پڑھواتے تب ہمارا ردعمل کیا ہوتا۔؟ پاکستان کی تاریخ کی مہنگی ترین شادی میں ایک نکاح خواں کے طور پر مولانا کوجو پروٹول ملا ہے وہ آنے والی دہائیوں میں فخریہ یاد کی جائے گی جس پر ہمارے چھوٹے فخر کریں گے ۔

مذید پڑھیں : گلگت بلتستان میں پولنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا

دینی مدارس کے طلبہ وفضلاء کو مولانا طارق جمیل کے مقام ومرتبہ ملحوظ رکھنے کے ساتھ “فتبينوا” ( خبر کنفر کرو) کے قرآنی حکم کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے  ۔