آزربائیجان کے ہاتھوں شکست تسلیم کرنے پر آرمینیا میں عوامی احتجاج

آزربائیجان کے ہاتھوں اپنی شکست تسلیم کرنے اور روسی مداخلت کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ کرنے پرآرمینیا میں عوامی احتجاجا کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ 

علم میں رہے کہ نگورنو کاراباخ کی ملکیت پر آزربائیجان اور آرمینیا میں 1994 سے شدید تنازع چلا آرہا ہے جس کے باعث دونوں ممالک میں کئی بار جھڑپیں اور محدود جنگیں بھی ہوچکی ہیں۔

اس حوالے سے تازہ ترین جنگ کا آغاز 27 ستمبر کو ہوا تھا جبکہ روس کی ثالثی پر منگل 10 نومبر کے روز ان دونوں ممالک نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کردیے تھے۔

جنگ بندی کے اس معاہدے کو آرمینیا کی شکست قرار دیا جارہا ہے، جبکہ معاہدے پر آرمینیائی عوام میں بھی شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

آرمینیائی عوام نے حکومت مخالف احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع کردیا اور وزیراعظم نکول پشینیان کی برطرفی کا بھی مطالبہ کردیا۔

واضح رہے کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت نگورنو کاراباخ میں آزربائیجانی فوج کی پیش قدمی کو درست تسلیم کرتے ہوئے، فریقین کو فی الفور جنگ روکنے کے لیے کہا گیا تھا۔

اس معاہدے پر آزربائیجان میں جشن کا سماں ہے لیکن دوسری جانب آرمینیا میں صفِ ماتم بچھ گئی ہے۔

دوسری جانب آرمینیائی وزیرِاعظم نکول پشینیان نے بھی اعتراف کیا ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ ’’تباہی‘‘ ہے۔

ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاہدے پر دستخط کرنے کے سوا اُن کے پاس اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا، بصورتِ دیگر آرمینیا کو اس جنگ میں شکست کا منہ دیکھنا پڑتا۔