پاکستان سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے ILO اور EFP پُر عزم

کراچی : ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان ( ای ایف پی) کے صدر  اسماعیل ستار نے کہا ہے کہ آجر سوشل ڈائیلاگ کے ذریعے سوشل لیبر پریکٹسز کو فروغ دینے اور پائیدار کوششوں کے ذریعے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے پر عزم ہیں ۔

کاروباری اداروں کو عالمی مسابقت معاشرتی طور پر ذمہ دار لیبر پریکٹسز کے طریقوں کو اپنانے کی یاد دلاتی ہے اور ان سے مطالبہ کرتی ہے کہ چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کے خاتمے کے لیے فٹ بال انڈسٹری اور دیگر شعبوں میں پہلے سے کی جانے والی کوششوں کو برقرار رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں ۔ سب سے اہم چیلنج ان کوششوں کو سپلائی چین کے نچلے درجوں میں  عملدرآمد ممکن بنانا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے اشتراک سے ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان ( ای ایف پی) کے زیر اہتمام سماجی طور پر ذمہ دار مزدورانہ طرز عمل پر سوشل ڈائیلاگ کو فروغ دینے کے لیے سہ فریقی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر ڈائریکٹر لیبر لاہور ڈویژن ضیغم عباس، محکمہ لیبر کے شاہد ، ڈائریکٹر ای او بی آئی احمد حسیب ، لیبر اکانومسٹ تہمینہ اسد، ایڈوائزر ای ایف پی  فصیح کریم صدیقی اور ڈائریکٹر ای ایف پی بورڈ سید نذر علی نے بھی خطاب کیا ۔

اجلاس کے شرکاء نے ڈائیلاگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اہم امور پر آجروں، کارکنوں اور حکومت کے نقطہ نظر کی عکاسی کی ۔ علی مرتضیٰ ایسوسی ایٹس سے میجر (ر) عابد افتخار ، محکمہ لیبر سے ارشاد محمود ، پی ڈبلیو ایف کی فاطمہ فاروق اور فارورڈ گروپ سے میجر خواجہ جاوید اختر نے سہ فریقی نقطہ نظر کی وضاحت کی ۔

مزید پڑھیں: ایف پی سی سی آئی کا پاکستان کی تجارت و معیشت پر بریگزٹ کے اثرات پر سیمینار

پی ڈبلیو ایف کے جنرل سیکریٹری ظہور اعوان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں صنعت و کاروبار کی ترقی کے لیے قومی اور بین الاقوامی معیار کی تعمیل ایک قومی ضرورت ہے ۔ فٹبال انڈسٹری سے چائلڈ لیبر  کے خاتمے کے لیے آجروں اور مزدوروں کے ذریعے جو مشترکہ کوششیں کی گئیں وہ ایک دہائی سے زیادہ کی کوششوں کا نتیجہ ہیں ۔ اب ان کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کرنے اور سپلائی چین کے نچلے درجوں کو بھی چائلڈ لیبرفری قرار دینے کے لیے بھر پور کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔

فارورڈ گیئر کے ایم ڈی خواجہ جاوید اختر نے سیالکوٹ میں فٹبال انڈسٹری اور بالخصوص چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کے خاتمے میں کی جانے والی کوششوں اور ان کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ فٹبال انڈسٹری کے اقدامات کو سپلائی چین کے نچلے درجوں میں تقلید کیا جا سکتا ہے ۔

آئی ایل او کے پروجیکٹ کوآرڈینیٹر مزمل حبیب شیخ نے ایم این ای ڈی پروجیکٹ میں اٹھائے گئے اہم اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایل او پائیدار بنیادوں پر چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کے مسائل کے حل کے لیے سہ فریقی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرنے کا پابند ہے ۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برانڈز، کثیر القومی اور قومی کاروباری اداروں کے آجروں اور کارکنوں کی تنظیموں اور حکومت کو مل کر  سوشل ڈائیلاگ کو جاری رکھنے اور طویل مدتی حل تلاش کرنے کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا ۔ جو چائلڈ لیبر کے خاتمے میں حاصل ہونے والے مثبت نتائج کو برقرار رکھ سکے ۔

مزید پڑھیں: ایف آئی اے اہلکاروں کی غلطی سے حساس اداروں کی بدنامی

اجلاس میں ایک مشترکہ گروپ مباحثہ بھی ہوا جس میں شرکاء نے ایمپلائرز، ورکرز اور حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے اپنی کوششوں کو برقرار رکھنے کے لیے کھیلوں کے سامان کی صنعت کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا ۔

نیز سپلائی چین اور دوسرے شعبوں کے نچلے درجوں میں کامیاب کوششوں کی تقلید کرنے کے لیے درکار اقدامات کے علاوہ کام کی جگہ پر اچھے کام کے حصول کے لیے سوشل ڈائیلاگ کو فروغ دینے کے طریقے اور ذرائع  پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔