فورسز کی انکوائری رپورٹ پر بلاول خوش، نواز ناراض

پیپلزپارٹی

ایک روز قبل فورسز کی جانب سے کراچی واقعے پر دی جانے والی رپورٹ پر چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے خوشی کا اظہار کیا ہے تو دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔

کراچی میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اعوان کی گرفتاری اور آئی جی سندھ کی مبینہ حراست کے حوالے سے کی جانے کی جانے والی انکوائری میں جن فورسز کے افسران کا ملوث ہونا پایا گیا ہے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں معطل کر دیا گیا ہے۔

اس رپورٹ کے سامنے آنے پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’شروعات‘ قرار دیا تھا۔

مزید پڑھیے: فورسز کی رپورٹ کے بعد پولیس افسران کیخلاف کارروائی کا امکان

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا تھا کہ ہم اس بات کو سراہتے ہیں کہ فورسز میں خود احتسابی کا عمل حرکت میں آیا اور انہوں نے 2 آفیسرز کو عہدوں سے ہٹا دیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اب سویلین سائیڈ پر ہمارا فرض بنتا ہے کہ جو غلط ہے وہ غلط ہے، سندھ حکومت کو اپنی انکوائری رپورٹ دینی ہے ، دیکھتے ہیں صوبائی حکومت بغاوت میں ملوث افسران کے خلاف کیا کارروائی کرتی ہے۔

اس رپورٹ سے متعلق ایک اور پیشرفت سامنے آئی ہے جس کے مطابق سابق وزیراعظم اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانیہ رکھنے والے نواز شریف نے اسے مسترد کردیا۔

مزید پڑھیے: سیاسی انتقام کے تحت PTI نے کیپٹن صفدر اعوان کو گرفتار کرا دیا

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں انھوں نے کہا کہ اس انکوائری رپورٹ کے پیچے اصل حقائق کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے انکوائری رپورٹ پر نواز شریف کے موقف کی تائید یا تردید تک سامنے نہیں آئی ہے۔

عدالت میں پیشی کے دوران مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران مطالبہ کیا ہے کہ اس انکوائری رپورٹ کو پبلک ہونا چاہیے، ورنہ اس میں ابہام موجود رہے گا۔