طیب رجب اُردگان کو اب ہوش آیا ؟

تحریر :  ضیاء چترالی

اردگان نے 2 سال قبل اپنے بڑے داماد براءات البيرق کو وزیر مالیات کے عہدے پر فائز کیا تھا۔ اسی وقت ہم نے لکھا تھا کہ اب یہ لاڈلہ ترکی کی معیشت کو ڈبوئے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔

ترک لیرہ چار بار سخت بحران کا شکار ہوا اور ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر کھوتا رہا۔ حالیہ دو ہفتوں میں تو لیرہ کی قدر میں ریکارڈ تیس فیصد کمی ہوئی۔ جس کے نتیجے میں پہلے اردگان نے مرکزی بینک کے گورنر مراد اویصال کو برطرف کرکے سابق وزیر مالیات ناجی اغبال کو اس کی جگہ تعینات کیا۔ مگر پھر بھی لیرہ کے گرنے کا سلسلہ جاری رہا تو اردگان نے داماد کی سرزنش کی اور اسے عہدے سے برطرف کر دیا ۔

اتوار کو  جیسے ہی لطفی الوان کو نیا وزیر مالیات بنایا گیا تو لیرہ کی قدر بھی بڑھنا شروع ہوئی اور ہفتے کو ایک ڈالر کی قیمت 8.48 لیرہ تھی اور اب 8.10 ہو چکی ہے ۔

مزید پڑھیں: ترکی کا عالمِ دین انمول مثال بن گیا

اپنوں کو اہم عہدوں سے نوازنا ہر حکمراں کیلئے زہر قاتل ہے۔ جب اپنوں کو کلیدی عہدے پر فائز کیا جائے گا تو ایک تو لوگوں کو انگلیاں اٹھانے کا موقع ملے گا اور دوسرا وہ حاکم وقت کے قرب کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے فرائض سے غفلت برتیں گے، جو ملک کی تباہی پر منتج ہوگا۔ ہمارے سامنے دو مثالیں ہیں۔

ایک سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ماڈل اور دوسرا سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنے اقارب کو حکومتی امور کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا تو وہ ایک کامیاب ماڈل بن گئے پوری دنیا کیلئے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس حوالے سے نرمی کا مظاہرہ فرمایا تو یہی بات ان کی شہادت کا سبب بنی۔

بہرحال دیر آید درست آید۔ اردگان نے اس لاڈلے کو برطرف کرکے بہت اچھا قدم اٹھایا ہے۔ اب اسے آئندہ بھی اپنے اقربا میں سے کسی کو بھی کلیدی عہدہ نہیں سونپنا چاہئے۔ ویسے بھی مث مشہور ہے: الاقارب کالعقارب