کام کرنے والی خواتین پر بُری نظریں کیوں ؟

مردوں کی اکثریت گھروں سے باھر نکلنے والی عورتوں کو رنڈی ، بد کردار ، ہر ایک کے لئیے میسر جنس سمجھتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شرعی پردہ کئیے ہوئے خاتون کو گلی کے لفنگے  اور   پڑھے لکھے فیصل بینک کے  مہذب ماحول میں ڈگری یافتہ کتا جس نے خاتون کو نہایت گھٹیا انداز سے چھوا ، یہ دونوں مرد لباس تراش خراش اور تعلیمی پس منظر کے لحاظ سے الگ تھے ۔

مگر دونوں نے کام وہی کیا ، جو موٹر وے پہ خاتون کیساتھ ریپ کی صورت میں ہوا ۔ فرق محض اتنا سا ہے کہ موٹر وے والے سور  کو موقع مل گیا ، ان حرامیوں کو ریپ کا تو نہیں مگر ہاتھ لگانے کا موقع ملا ۔ دونوں نے اسے ضائع نہ کیا  اور یہ دونوں کنجر اپنے گھر کی ماں بہن  کو بڑی عزت دیتے ہونگے۔ جس خاص ذھنیت کیساتھ ہم بڑے ہوتے ہیں اس کے نتیجے میں صرف ہماری ماں بہن ہی معزز ہوتی ہیں۔  دیگر کو ہم چیر پھاڑ کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔

مزید پڑھیں:  وفاقی کابینہ کا صدر نیشنل بینک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ

جن مردوں کو لگتا ہے کہ مردوں کی اکثریت ایسی نہیں وہ ساری چیزیں چھوڑ کر اپنے گھر میں ماں بیوی بیٹی بہن سے ہی سروے کرلیں پتہ چل جائیگا کہ بازاروں  ، بس اسٹاپوں ، دفاتر ، گلیوں وغیرہ  میں انہیں کن نظروں جملوں غلیظ اشاروں اور چھونے کے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، ہم میں سے بیشتر وہ کتے ہیں ۔ جنہیں دیکھ کر معزز خواتین شاید راستہ تو نہ بدلیں لیکن یہ ضرو جانتی ہیں کہ جب تک ان کی نظروں میں رہیں گے وہ لمحے موت کی اذیت سے شاید دو چار ہاتھ ہی کم ہونگے ۔

اپنے لڑکوں کی خاص کر تربیت کریں انہیں ابھی سے سکھائیں کہ قابل احترام صرف گھر کی نہیں باھر کی عورتیں بھی ہوتیں ہیں  اور ہمارے اصل کردار کا معلوم ہی تب پڑتا ہے جب ہم ان کے ساتھ انسانو والا  رویہ اختیار کرتے ہیں ،  اپنے بچوں پہ توجہ دیں کہ کل کلاں ہماری ہی عورتیں ان سے محفوظ رہیں

 

آخری درخواست ، بینک کے اس سود خور کتے کی تصاویر کے پرنٹ نکالیں اسکا پورا شجرہ نسب یعنی باپ وغیرہ کا نام پتہ لکھ ہر جگہ کر آیزاوں کریں ۔ ساتھ میں یہ جملہ لکھیں یہ وہ کنجر ہے ۔ جس نے نازبیا انداز میں معزز خاتون کو چھوا ، دفاتر درسگاہوں بینکوں میں یہ لگا ہو گا تو شاید مرد انسان بننے کا سوچیں ۔ ایسوں کی شناخت چھپانے کے بجائے عام کر دینی چاھئِے تاکہ دیگر عبرت پکڑیں ۔