گندم کی کٹائی کی دم توڑتی روایت

رپورٹ : نصیب یار چغرزئی
خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں کی ایک اور دم توڑتی روایت “غوبل” گندم کی کٹائی کے بعد ایک بڑے سے صاف ستھرے میدان میں گاؤں کے چھوٹے بڑے، بوڑھے اور خواتین ملکر بیلوں کی مدد سے گندم کی گہائی کرتے تھے اور یہ موقع عید جیسی مسرت اور خوشیوں کا ہوتا تھا کہ کاشتکار اپنی بھرپور محنت کا صلہ اور ضرورتمند اس میں اپنا اپنا حصہ پاتے تھے ۔

“غوبل” (گندم کی گہائی کا ایک مخصوص عمل) خیبرپختونخوا کے علاقوں میں ماضی بعید سے چلا آرہا ہے جہاں کبھی گندم کی گہائی بھی اسی عمل کے ذریعے کی جاتی لیکن اب جدید مشینوں کی آمد کے بعد یہ عمل صرف دھان یعنی چاول کی فصل تک محدود ہو کر رہ گیا ہے وہ بھی ماضی کی طرح بڑے پیمانے پر نہیں جس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ آجکل دھان کی فصل اس مقدار میں اگائی نہیں جاتی جبکہ دوسری بڑی وجہ بیلوں کی کمی ہے اور اسی باعث یہ روایت بھی آہستہ آہستہ دم توڑتی جا رہی ہے۔

دھان یا چاول کی فصل اس لیے کم کاشت کی جاتی ہے ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے بارشیں کم ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے کھیت بنجر ہو کر رہ گئے ہیں دوسرے بیلوں کی جگہ اب ٹریکٹر یا ہاتھ کی مشین سے کھیتوں میں ہل چلایا جاتا ہے، کاشتکاروں نے بیل پالنے چھوڑ دیے ہیں بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے ٹریکٹر ہی سے “غوبل” کا کام بھی لیا جاتا ہے۔

بونیر کے علاقے چغرزئی میں اب ایسے کھیت کلیان کم ہی رہ گئے ہیں جہاں کاشتکار مقامی دھان کی فصل، جو بہت ہی ذائقہ دار اور جسے کابلئی بھی کہتے ہیں، اگاتے ہیں۔

“غوبل” پختونوں کے علاقے کی ایک قدیم روایت یوں بھی ہے کہ اس حوالے سے کئی ٹپے بھی مشہور ہیں، جیسے

د لیونئی د پلار غوبل دے
زما اجل دے ژرمباز بہ می تڑینہ

یا یہ کہ

پہ زڑہ می یو جانان زائیگی
سہ درمن نہ دے چی غوبل پری اوتڑمہ

“درمن” اس میدان کو کہتے ہیں جہاں “غوبل” کیا جاتا ہے جو عموماَ دھان کے کھیتوں میں سے وسیع و عریض کھیت ہی ہوتا ہے جسے ہموار کیا جاتا ہے (خیال رہے کہ دھان کے کھیتوں کی زمین عموماَ سخت اور چٹیل ہوتی ہے جسے ہل کے ذریعےمکمل ہموار کیا جاتا ہے) اور اس کی باقاعدہ لیپائی کی جاتی ہے جس کے بعد یہ تیار ہو جاتا ہے۔

آجکل اگر ایک طرف جدید مشینوں نے پہاڑی علاقوں کی روایات اور رسوم ورواج پر یلغار کر رکھی ہے تو دوسری جانب وہ شفیق اور مہربان لوگ بھی منوں مٹی تلے دفن ہو چکے ہیں جو ناچتے گاتے خندہ پیشانی سے گندم کی بوائی، کٹائی اور بالآخر گہائی میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے تھے اور اس عمل کو اشر اور اس میں حصہ لینے والے کو اشریان کہتے تھے، پنجاب یا سندھ میں اسی عمل کو ونگار کہتے ہیں۔

نوٹ: “غوبل” جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا پشتو معاشرے اور ثقافت کا ایک اہم جزو تھا جہاں بیلوں کے ساتھ ساتھ جوان بوڑھے اور خواتین ہی اس میں شرکت نہیں کرتی تھیں بلکہ چھوٹے بچوں کو بھی اس میں مکمل اچھل کود اور خرمستیوں کی اجازت ہوتی تھی،دوسرے اس موقع پر زکوٰۃ، خیرات اور صدقات کا بھی اہتمام کیا جاتا تھا، اردو متبادل لفظ نہ ملنے پر تحریر میں اسی لفظ پر اکتفا کیا گیا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *