فلسطین میں ساڑھے 5 ہزار سال پرانا درخت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا ہمعصر ہے ۔

سیدنا ابراہیمؑ کا ہمعصر درخت
انبیائے کرام علیہم السلام کی سرزمین فلسطین میں ایک ایسا درخت اب تک تروتازہ ہے، جو جد الانبیاء حضرت ابراہیمؑ کے زمانے کا ہے۔ زیتون کے اس قدیم ترین درخت کی عمر ساڑھے 5 ہزار برس سے زائد بتائی جاتی ہے۔

فلسطین کے ایک زرعی سائنسدان نے تحقیق کرکے ثابت کیا ہے کہ یہ روئے زمین کا سب سے قدیم زیتون کا درخت ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت دنیا کا سب سے قدیم درخت سوئٹزر لینڈ میں ہے۔

صنوبر کے اس درخت کی عمر 9 ہزار 5 سو 50 سال ہے۔ معروف جریدے القدس العربی کی رپورٹ کے مطابق، فلسطین کے شہر بیت لحم میں دنیا کا قدیم ترین زیتون کا درخت مقامی افراد کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ درخت بیت لحم کے مغرب میں ”الولجہ“ نامی ایک گاؤں کے قریب ٹیلے پر قائم ہے۔

زمانہ قدیم سے اس درخت کو متبرک سمجھا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں میں مشہور ہے کہ یہ درخت حضرت ابراہیمؑ کے زمانے کا ہے۔ فلسطین بھر میں یہ ”سیدنا احمد البدوی کے درخت“ کے نام سے مشہور ہے۔

احمد بدویؒ ایک معروف صاحب ِ کرامت بزرگ گزرے ہیں۔ 267ھ میں مصر میں ان کا انتقال ہوا۔ لیکن اب ایک مقامی زرعی سائنسدان ”نادی فراج“ کی تحقیق سے بھی یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ مذکورہ درخت روئے زمین پر زیتون کا سب سے قدیم درخت ہے۔ جس کی عمر ساڑھے 5 ہزار سے زائد ہے۔ اس اعتبار سے یہ مشرق وسطیٰ کا بھی سب سے قدیم درخت ہے۔

نادی فراج کا کہنا ہے کہ زیتون کے درخت کو قرآن کریم میں شجرہ مبارکہ (مبارک درخت) قرار دیا گیا ہے، اس لیے زیتون کے درختوں کی عمر دوسرے درختوں سے عموماً زیادہ ہوتی ہے۔ نادی فراج مزید کہتے ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی اس درخت کی حفاظت کو یقینی بنانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے، لیکن نہیں لگتا کہ یہ صہیونی ریاست کے دستبرد سے محفوظ رہ سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ درخت جس ٹیلے پر قائم ہے، اس کے آس پاس کے تمام علاقوں میں اسرائیلی حکومت یہودیوں کا آباد کر رہی ہے اور فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کے ساتھ ساتھ ان کے زیتون کے باغات کو بھی تباہ کیا جا رہا ہے، جو مقامی لوگوں کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق، فلسطینی حکام نے اس تاریخی درخت کی حفاظت کے لیے ایک شخص کو بطور ملازم مقرر رکھا ہے۔ صلاح ابو علی نامی یہ ملازم اسے روزانہ پانی دینے کے ساتھ یہاں آنے والے زائرین کا بھی استقبال کرتا ہے اور انہیں اس درخت کے بارے میں معلوم فراہم کرتا ہے۔ مذکورہ درخت صلاح ابو علی کے چچا زاد بھائی داہود کی ملکیت ہے۔ صلاح کا کہنا ہے کہ اس درخت کا پھل اور تیل دیگر درختوں سے بالکل مختلف ہے۔

الولجہ کی محلہ کمیٹی کے سیکریٹری مجدی ابو التین کا کہنا ہے کہ مذکورہ درخت تقریباً 70 مربع میٹر کے احاطے پر پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس درخت کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اس سال بھی بھرپور پھل دیتا ہے، جب یہاں دوسرے درختوں کا پھل نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا ہے کہ اس نے مجموعی طور پر سوا ایک ٹن سے زائد پھل دیئے۔ تاہم عموماً اس کے پھلوں کا وزن ساڑھے تین سو کلوگرام ہوتا ہے۔

ابوالتین کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جو نیا بل پاس کیا ہے، اگر اسے قانون بنا کر نافذ کیا گیا تو یہ پورا علاقہ یہودی ملکیت قرار پائے گا، جس کے بعد اس تاریخی درخت کے وجود کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی اسرائیل یہاں ایسے درختوں کو جڑوں سے اکھیڑ کر وہاں یہودیوں کے لیے گھر تعمیر کر چکا ہے، جن کی عمریں ہزار برس سے زائد تھیں۔

نادی فراج کے مطابق انہوں نے جاپانی ماہرین کی ایک ٹیم کے ساتھ مل کر اس قدیم درخت پر تحقیق کی ہے۔ جاپانی ماہرین اس درخت پر تحقیق کے لیے کئی روز یہاں مقیم رہے۔ نادی فراج کا کہنا ہے کہ انہوں نے درخت کی حقیقی عمر معلوم کرنے کے لیے اس کے تنے پر ایک کیمیکل لگائے رکھا۔ چند روز بعد جب اس کیمیکل کو اتار کر اس کا تجزیہ کیا گیا تو اس درخت کی عمر معلوم ہوگئی اور جاپانی ماہرین نے بھی تسلیم کیا کہ اس درخت کی عمر ساڑھے 5 ہزار برس سے زیادہ ہے۔ اس سے قبل اطالوی ماہرین نے اس درخت پر تحقیق کرکے کہا تھا کہ اس کی عمر ساڑھے تین ہزار برس سے زائد ہے۔

احمد فراج کا کہنا ہے کہ اس درخت کی عمر معلوم کرنے کے لیے جدید تحقیق نہ بھی کی جائے تو ہر شخص درخت کے قطر سے اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ کتنا قدیم ہے۔ زیتون کے درخت کے تنے کا قطر عموماً بہت کم ہوتا ہے، لیکن اس درخت کا قطر 20 میٹر ہے۔

رپورٹ کے مطابق، حضرت ابراہیمؑ اگرچہ عراق کے شہر ”اُر“ میں پیدا ہوئے تھے، تاہم بعد میں انہوں نے فلسطین ہجرت کی تھی۔ اس لیے مذکورہ درخت اسی زمانے کا ہے، جب حضرت ابراہیمؑ دین حنیف کی تبلیغ کے لیے فلسطین آئے تھے۔ آپؑ نے زیتون کے مذکورہ درخت کو دیکھا یا نہیں، تاہم اس درخت نے آپؑ کا مبارک زمانہ پایا ہے۔ شاید اسی کی برکت ہے کہ ساڑھے 5 ہزار برس گزرنے کے باوجود بھی یہ درخت نہ صرف تروتازہ ہے، بلکہ ہر سال بھرپور پھل بھی دیتا ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت دنیا کا سب سے قدیم درخت سوئٹزر لینڈ میں ہے۔ سوئس یونیورسٹی جامعہ اومیا کے ماہرین نے فولو نامی پہاڑ کی چوٹی پر قائم صنوبر کے ایک درخت پر تحقیق کے بعد کہا ہے کہ اس کی عمر 9 ہزار 5 سو 50 برس سے زائد ہے۔ اس سے پہلے ماہرین کا کہنا تھا کہ امریکی ریاست کیلی فورنیا کا ایک درخت سب سے قدیم ہے۔ جس کی عمر 5 ہزار سال بتلائی جاتی ہے۔

علاوہ ازیں دنیا کا ایک قدیم درخت ایران کے شہر یزد میں بھی ہے۔ سرو کے اس درخت کی عمر 4 ہزار برس ہے۔ جس کا ذکر قدیم مصنفین نے بھی اپنی کتابوں میں کیا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *