سوئی سدرن گیس میں آرڈیننس بحال ،ملازمین کی پے فکسیشن کیلئے جدوجہد ضرور رنگ لائے گی ، ریاض اختر اعوان

سوئی سدرن گیس کی سی بی اے یونین کے سابق چیئر مین ، آل پاکستان لیبر رائٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما اور تحریک انصاف کے ورکر ریاض اختر اعوان نے کہا ہے کہ آرڈیننس کے ذریعے بحال ہونے والے سوئی گیس ملازمین 2009 سے متواتر جدوجہد کر رہے ہیں ۔

جس میں ہمارے ساتھ حبیب اللہ کاکڑ، جمیل اخوندزادہ، ٹکری علی احمد، مختیار شاہ ، اکبر سوڈھر ، نور احمد، محمد حسنی، زاہد لاشاری، لالہ ابراہیم، حاجی سیف الدین کاکڑ، صالح کلہوڑو ، شکیل کاکڑ، اشتیاق راجپوت، زاہد بھرگڑی اور ذولفقار زرداری سمیت دیگر نے ہمیشہ شامل رہے ہیں .

ان دوستوں کی فریاد پرحال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے سوموٹو ایکشن لیا ہے اور امید ہے کہ اس سو موٹو ایکشن کے نتیجے میں پے فکسیشن کا مسئلہ حل ہو جائے گا ۔ 2012 میں ریاض اختر اعوان، رضوان ملاح، ظفر داؤداور مندرجہ بالا دوستوں نے میری قیادت میں پورے سندھ وبلوچستان میں سوئی گیس آفس کے سامنے دھرنے دئیے تھے اور اپنے مطالبات کے حق میں بھرپور مہم چلائی تھی.

لیکن اس وقت مزدور دشمن قوتیں جن میںسی بی اے یونین کے صدر اعجاز بلوچ ، جنرل سیکریٹر ی سعید خان، اسلم راجپوت، ملک مرتضیٰ ، راجہ ریاست اور فہیم بلوچ نے مزدوروں کو تقسیم کرکے آرڈیننس کے اس اہم مسئلے کو التوا میں ڈال دیا تھا ، جس سے آرڈیننس بحال ملازمین کی حق تلفی ہوئی تھی ۔

2016 میں آرڈیننس کے کچھ دوستوں نے رازق کاکڑ کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جو کہ خلوص نیت سے پے فکسیشن کے مسئلے حل کے لئے کام کر رہی ہے ، ہم اس کمیٹی کی جدوجہد کو بھی سلام پیش کرتے ہیں۔ ریاض اختر اعوان نے تمام آرڈیننس ملازمین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد رکھیں اور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے نئے اور پرانے کی تفریق سے بالا تر ہو کر صرف اور صرف مزدور مفاد کے لئے کام کریں تاکہ اس اہم ترین مسئلے جو کہ عدالتوں کے ذریعے حل ہونے کے قریب ہے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *