مفتی عبداللّٰہ یامین پر حملہ کرنے کی وجوہات سامنے آگئیں

کراچی: جامعہ مسجد سبحانیہ جمشید کوارٹر روڈ کے امام و خطیب مفتی عبداللہ یامین پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزم سے ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ملزم نے اپنے دوسرے ساتھی کا نام اور ایڈریس بھی بتا دیا ہے جس کی تلاش میں قانون نافذ کرنے والے ادارے چھاپے مار رہے ہیں لیکن تاحال اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

ملزم مدثر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بتایا کہ اسے نہیں معلوم کہ وہ کس پر حملہ کر رہے ہیں تاہم یہ ضرور بتایا گیا تھا کہ وہابی مولوی ہے اس کو ختم کرنا ہے۔ جبکہ اس کے ساتھ ایک اور ساتھی کو شامل کیا گیا تھا جس کی نشاندہی بھی کردی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ملزم مدثر ماضی میں 3 سال جیل کاٹ چکا ہے اور یہ لیاری گینگ وار سے بھی منسلک رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم مدثر جو میمن برادری کی گھانچی سب کاسٹ سے ہے، اس کے پاس جو اینڈرائڈ موبائل فون تھا، اس فون پر آخری کال 4 بج کر 51 منٹ پر 03452776277 سے آئی تھی۔ مذکورہ نمبر راحیل نامی شخص کا ہے، جو MOBI GO کے نام سے آسان اقساط پر موبائل فون مہیا کرنے کا کام کرتا ہے۔ 4 بجکر 33 منٹ پر حملہ آور نے ایک پی ٹی سی ایل نمبر 02136589621 پر کال کی تھی۔

مذید پڑھیں : بوائز کالجز میں خواتین عملے کی خلافِ روایت تعیناتیاں جاری

جبکہ 4 بج کر 29 منٹ پر اس نے سابق ایس ایچ او جمشید ظفر اقبال مہمند عرف بجولہ کے موبائل نمر 03009222254 کو کال کی تھی۔ مذکورہ نمبر سابق ایس ایچ او جمشید ظفر اقبال کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ اس کے علاوہ بھی ظفر اقبال کے نام پر 03229222254، 03429222254  اور 03339222254 موجود ہیں۔ مذکورہ ایس ایچ او کا تعلق ہائوس نمبر D-28 ، عید گاہ پولیس لائن پشاور اور کراچی میں ٹھٹھہ بس اسٹاپ، لی مارکیٹ،  بلاک G-13 اور نیپئر پولیس کوارٹرز کا ہے۔ سابق ایس ایچ او جمشید ظفر اقبال مہنمد عرف بجولہ نے مذکورہ حملہ آور کو 03340327154 کے نمبر سے 4 بج کر 6 منٹ پر کام کی تھی جس کے بعد حملہ آور نے 23 منٹ بعد واپس ظفر اقبال کو کال کی تھی۔

الرٹ نیوز کے مطابق حملہ آور کے موبائل میں ظفر اقبال ایس ایچ او کے نام سے محفوظ ایک اور موبائل نمبر 03340327154 نمبر علی احمد نامی شخص کے شناخی کارڈ  نمبر 5440173229281 پر رجسٹرڈ ہے ۔ ریکارڈ کے مطابق مذکورہ شناختی کارڈ نمبر کوئٹہ قلعی بنگلہ زئی سہراب روڈ کا رہائشی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او ممکنہ طور پر ملزم کو گینگ وار کی وجہ سے جانتا تھا، پولیس کے لئے مخبری کا کام بھی کرتا تھا، ملزم دوران تفتیش اپنے بیانات بھی بدل رہا ہے جبکہ اس نے واردات کو دکیٹی کا رنگ دینے کی کوشش کی تھی۔

سابق ایس ایچ او جمشید کوارٹر ظفر اقبال مہمند عرف بجولہ

واضح رہے کہ کراچی میں ہونے والی اب تک کی وارداتوں سے مذکورہ واردات اس لیئے بھی منفرد تھی کہ اس میں ملزم مدثر نے پینٹ شرٹ پہن رکھی تھی اور اس کے اوپر اس نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی جب کی سر پر ٹوپی بھی پہن رکھی تھی تاہم سیکورٹی گارڈ کی جانب سے پکڑے جانے پر اس کی شلوار اتر گئی جس کے بعد اس کی پینٹ شرٹ میں ملبوس تصاویر منظر عام پر آئی ہیں۔

مذید پڑھیں : پاکستانی علما کو جامعۃ الازہر کی ڈگریاں عطا کر دی گئیں

ذرائع کا کہنا ہے کہ پینٹ اور شرٹ کے اوپر شلوار قمیض اس لیے پہنائی گئی تھی کہ گلی میں جاتے ہوئے یا کھڑے ہوئے یہ گمان گذرے کہ وہ نماز کی ادائیگی کے لیے آئے ہیں۔

ادھر قانون نافذ کرنے والوں کو یہ بھی شبہ ہے کہ مزکورہ ملزم مدثر میمن گھانچی ہی مولانا ڈاکٹر عادل خان کے قتل میں ملوث ہوسکتا ہے کیونکہ پولیس حکام کی جانب سے مولانا ڈاکٹر عادل خان کے قتل میں ملوث ملزمان کا جو خاکہ جاری کیا گیا تھا اس میں اور ملزم مدثر کی تصویر میں 90 فیصد مماثلت پائی جارہی ہے۔

ادھر مفتی عبداللہ یامین کے خاندانی ذرائع کا دعوی ہے کہ مذکورہ ایس ایچ او ظفر اقبال مہمند جب جمیشد کواٹر میں تعینات تھا اس وقت وہ اکثر علمائے کرام کو تنگ کرتا تھا جس کی وجہ سے مفتی عبداللہ یامین اور جامعہ بنوری ٹاؤن کے امور متفرقہ کے ناظم نے اعلی پولیس حکام سے کہہ کر ظفر اقبال کا تبادلہ کروایا تھا۔

الرٹ نیوز کو موصول ہونے والے ٹرانسفر لیٹر نمبر NO-SSP-EAST/East:2020/6482-87/2020 کے مطابق انسپکٹر ظفر اقبال کو 14 مئی 2010 کو تنویر عالم اوڈھو کے حکم سے گلشن اقبال میں ایس ایچ او بنا کر ٹرانسفر کیا گیا تھا، جس کے بعد ظفر اقبال نے جاتے ہوئے مفتی عبداللہ یامین کو کہا تھا کہ یہ اچھا نہیں کیا میں بھی کراچی میں ہوں دیکھا جائے گا۔

ملزم مدثر میمن گھانچی سے ملنے والا اسلحہ اور گولیاں

مفتی عبداللہ یامین کے خاندانی ذرائع اس حملے کو اس تناظر میں بھی ریکھ رہے ہیں تاہم اس سے قبل جمشید کوارٹر تھانے کے ایس ایچ او چوہدری زاہد نے ملزم کو بغیر کسی تحقیق و تفتیش کے ڈکیٹ ظاہر کر کے معاملہ دوسری جانب لے جانے کی کوشش کی تھی تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے ملزم کو اپنی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

مذید پڑھیں : بھارتی فوج کی فائرنگ سے حزب المجاہدین کمانڈر سیف اللہ میر شہید

واضح رہے کہ گزشتہ شب نماز عشا کے بعد مفتی عبداللہ یامین پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے تھے، اور اس وقت زیرِ علاج ہیں۔ ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے، ان کا سرکاری اسپتال میں آنتوں کا آپریشن ہوا تھا۔

علم میں رہے کہ مفتی عبداللہ بن یامین دارالعلوم دیوبند کے فاضل ہیں، جن کی عمر 47 برس ہے اور  جامعہ مسجد سبحانیہ جمشید کورارٹر میں  امام و خطیب ہیں۔

انسپکٹر ظفر اقبال کو جمشید کوارٹر سے گلشن اقبال میں ٹرانفسر کرنے کا حکم نامہ

مولانا مفتی عبداللہ جیل چورنگی پر واقع مدرسہ اویس قرنی کے استاد حدیث بھی ہیں، ان کا اپنا بھی ایک مدرسہ سہراب گوٹھ لیاری ایکسپریس وے کے ساتھ قائم ہے۔ وہ نماز کی ادائیگی کے بعد درس قرآن دینے کے بعد اپنے بیٹے ابراہیم کے ہمراہ گھر جارہے تھے کہ اس دوران موٹر سائیکل پر سوار مسلحہ ملزمان نے ان پر فائرنگ کر دی تھی جس کی وجہ سے وہ زمین پر گر گئے تھے۔

الرٹ نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق علمائے کرام کی جانب سے مفتی عبداللہ پر ہونے والے اس حملے کو فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ ایس ایچ او کی ذاتی رنجش کے تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے تاہم ایک دو روز میں مفتی عبداللہ یامین پر حملے کا مقدمہ درج کروائے جانے کا امکان ہے۔