مفتی عبداللہ قاتلانہ حملے میں زخمی 1 حملہ آور مدثر گرفتار

کراچی : جامعہ مسجد سبحانیہ جمشید کوارٹر کے امام و خطیب مولانا مفتی عبداللہ بن یامین پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے .

مفتی عبداللہ بن یامین دارالعلوم دیوبند کے فاضل ہیں ، جن کی عمر 47 برس ہے اور  جامعہ مسجد سبحانیہ جمشید کورارٹر میں  امام و خطیب ہیں ۔ مولانا مفتی عبداللہ جیل چورنگی پر واقع مدرسہ اویس قرنی کے استاد حدیث ہیں ۔ ان کا اپنا بھی ایک مدرسہ سہراب گوٹھ لیاری ایکسپریس وے کے ساتھ قائم ہے ۔ انہوں نے نماز عشا کے بعد درس قرآن دیا ، جس کے بعد وہ بگھر جانے کے لئے نکلے تو گھر کے قریب دو حملہ آوروں نے ان پر حملہ کر دیا ۔

مذید پڑھیں : بینظیر بھٹو لیاری یونیورسٹی میں کورونا کیسز چھپائے جانے لگے

مفتی عبداللہ پر حملہ کرنے والوں میں سے ایک کو مقتدیوں اور سیکورٹی گارڈ نے پکڑ لیا تھا ، جب کہ دوسرا فرار ہو گیا ہے ۔مفتی عبداللہ قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہو گئے ہیں ۔ جنہیں فوری طبی امداد کے لئے سول ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔ حملہ جمیشد روڈ نمبر ایک جامعہ مسجد سبحانیہ کے باہر کیا گیا ہے ۔

واضح رہے کہ کراچی سمیت ملک بھر میں محرم الحرام کے بعد سے ایک بار پھر اہلسنت و الجماعت دیوبندی علمائے کرام کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔جس میں مولانا ڈاکٹر عادل خان کے بعد پشاور مدرسہ زبیریہ پر حملہ اور اب کراچی میں عالم دین مولانا مفتی عبداللہ پر حملہ کیا گیا ہے ۔

مذید پڑھیں : حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی FIR شیخ رشید کیخلاف درج کرائی جائے : سینیٹر حمداللہ

ادھر تھانہ جمیشد کوارٹر کے ایس ایچ او چوہدری زاہد کا کہنا ہے کہ مدثر نام کا لڑکا ہے جس کی عمر 25 برس کے قریب ہو گی ، فی الحال اس کا کوئی اسٹیٹمنٹ نہیں لیا گیا ہے ، کیوں کہ موقع پر اس کو عوام نے دھلائی کی ہے جس کی وجہ سے اب تک وہ خاموش ہے ۔ بظاہر ڈکیتی کی واردات معلوم ہوتی ہے کیوں کہ نشئ لڑکا ہے ۔