لیگی قیادت کو غدار قرار دینا قیامت کی نشانی، مولانا فضل الرحمٰن

پاکستان ڈیموکریٹک اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ قیامت کی نشانی ہے کہ مسلم لیگی قیادت غدار ٹھہری ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

مزید پڑھیے: پشاور واقعہ دہشت گردی کے خاتمے کے دعویداروں کے منہ پر طمانچہ ہے : مولانا فضل الرحمن

میڈیا سے بات چیت میں پہلے ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں شاہ محمود کی جانب سے اپوزیشن رہنماؤں کو غدار قرار دینے پر کہا کہ کسی کو حق نہیں کہ وہ دوسروں کو غدار کہے۔

ایون میں اپنے بیان پر ایک مرتبہ پھر لب کشائی کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ میں نے کبھی غیر ذمہ دارانہ بیان نہیں دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے بیان کو قومی سلامتی کے اداروں سے جوڑنا دانشمندی نہیں، حکومت افواجِ پاکستان کو اس لڑائی سے باہر رکھے۔

اپنی ملاقات سے متعلق ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ان کی اور پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی یہ ملاقات پہلے سے شیڈول تھی۔

مزید پڑھیے: ایاز صادق بیان دے رہے تھے تو اسپیکر اسمبلی سو رہے تھے؟ رانا ثنااللّٰہ

ایک مرتبہ پھر انہوں نے گفتگو کا محور اپنے بیان کو بناتے ہوئے کہا کہ میری سیاسی بات کو رنگ دینے کی کوشش کی گئی، سلیکٹڈ حکومت کی اس کوشش سے بھارت کے بیانیے کو تقویت ملی۔

رہنما ن لیگ نے کہا کہ میں نے جو بیان دیا وہ حکومت سے متعلق تھا لیکن ان لوگوں نے میرے بیان کو افواجِ پاکستان سے نتھی کرنے کی کوشش کی، یہ تقریر دیکھی اور سنی بھی جاسکتی ہے، میں اپنے مؤقف پر آج بھی قائم ہوں یہ ان لوگوں نے ایسا کر کے پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم سب محب وطن پاکستانی ہیں اور متحد ہیں جبکہ بھارت کو اس کی مہم جوئی پر منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

ایاز صادق کا کہنا تھا کہ میرے پاس بے شمار راز ہیں، میں قومی سلامتی کمیٹی کی سربراہی کرتا رہا ہوں، لیکن کبھی بھی کوئی غیر ذمہ دارانہ بیان دیا اور نہ دوں گا۔

مزید پڑھیے: نیب گرفتاریوں پر تحریک کا رخ جیلوں کی طرف ہو گا : مولانا فضل الرحمن

انہوں نے مزید کہا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں، سیاست کریں گے لیکن کبھی بھی پاکستان مخالف بات نہیں کریں گے اور جب بھی پاکستان کی بات ہوگی تو اختلافات کے باوجود ہم سب ایک ہیں۔

اس موقع پرپی ڈی ایم  کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ایاز صادق نے انتہائی ذمہ دارانہ اور سنجیدہ بات کی ہے، اختلاف رائے اصولوں پر کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے، اس بات کا حق نہیں دے سکتے کہ ان سے حب الوطنی کا سرٹیفیکٹ بھی لیتے رہیں، ہمیں احتیاط کا دامن تھامے رکھنا چاہئے، ہم حکومت کے جواز کو تسلیم نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ تنقید سے کوئی بالاتر نہیں، ہم توہین آمیز رویوں کے خلاف ہیں، میرے خیال میں قیامت کی علامت ہے کہ مسلم لیگی غدار ٹھہرے، ملکی اداروں کے افراد مقدس ہیں، ان کی عزت کی جانی چاہیے، ملک معاشی لحاظ سے دیوالیہ ہوچکاہے۔

مولانا نے کہا کہ ناجائزحکومت ہم پر مسلط نہ کی جائے، ملک کو آئین کےمطابق چلایا جائے، کابینہ احمقوں کا مربہ ہے، حکومت اپوزیشن کو اشتعال دلاتی ہے، ملک میں بحران پیدا کئے جارہے ہیں، پی ڈی ایم قائم ہے، توڑنے کی سازش کراچی میں ہوئی، پی ڈی ایم شیڈول کے مطابق اپنے جلسے جاری رکھےگی۔

مزید پڑھیے: مولانا فضل الرحمن PDM کے سربراہ کیوں بنے ؟

انہوں نے کہا کہ سیاست دان کا فرض ہوتاہے عام آدمی کا ترجمان بنے،پی ڈی ایم کی قیادت عوام کی بات کرتی ہے، استعفوں کا راستہ پی ڈی ایم کے لائحہ میں شامل ہے، عبدالقادربلوچ کے استعفےسےمتعلق مجھےعلم نہیں ، ایاز صادق کےبیان سےکوئی اختلاف کرسکتاہے، وزیرکے بیان پر کیا کہیں گے، حکومت کے پہلے ہی سال لوگ مہنگائی کے ہاتھ پس گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں ملک آئین کے مطابق چلایا جائے ، مداخلت نہ کی جائے ، الیکشن کے نتائج کے مالک بنیں گے تو اختلافات بھی ہوں گے ، ایسی حکومت نہیں دیکھی جو اپوزیشن کو اشتعال دلاتی ہے ، پی ڈی ایم قائم ہے ، کراچی میں اسے توڑنے کی سازش ناکام بنا دی ۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت گرانے کیلئے استعفے دینا مختصر اور آسان راستہ ہے ، استعفے دینے کا آپشن ہمارے پاس ہے ، فیصلہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر کریں گے ، ایاز صادق کے بیان سے طوفان کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی۔