عمران خان نے اہلیہ کو اپنے لیے ڈھال قرار دے دیا

وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنی اہلیہ کو اپنے لیے ڈھال قرار دے دیا اور دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شخص احمق ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ ہر معاملے پر بات نہیں کرتا۔

جرمن جریدے دیر شپیگل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِاعظم عمران خان نے اپنی زندگی کو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ ہر معاملے پر تبادلۂ خیال کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت میں جو مشکلات پیش آتی ہیں ان پر بھی اہلیہ سے بات کرتے ہیں، ان کی اہلیہ ان کی دوست اور ساتھی ہیں، وہ نہ ہوتیں تو میرا بچاؤ نہیں ہوسکتا تھا۔

اپنے انٹرویو میں انھوں نے ایک مرتبہ پھر امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حوالہ دیا اور کہا کہ نائن الیون کے بعد امریکا نے پاکستان پر دباؤ ڈالا اور پرویز مشرف دباؤ برداشت نہ کرسکے۔

اپنے موقف کو ایک مرتبہ پھر انھوں نے دہرایا کہ نائن الیون کے بعد ہمیں اپنی فوج کو جنگ میں نہیں جھونکنا چاہیے تھا۔

وزیرِاعظم عمران خان نے بھارت کو فسطائی ریاست قرار دیا اور کہا کہ بھارت نازی ازم سے متاثر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ امریکا اس سے بھارت کے معاملے میں برابری کا سلوک کرے، خصوصاً کشمیر کے تنازع پر۔

عمران خان کا  کہنا تھا کہ امریکا کا خیال ہے کہ بھارت چین کو روک سکتا ہے، یہ ایک ناقص خیال ہے۔