رنگوں اور روشنیوں سے علاج

ہمارے جسمانی جسم سے 9 آنچ اوپر ایک جسم مثالی ہے جو سات رنگوں کا مجموعہ ہے ۔ اس کو اوورا (Aura)  اور نسمہ کا نام دیا گیا ہے ۔ جسم میں کسی بھی بیماری کی آمد کا نتیجہ کسی بھی رنگ میں بیشی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ مختلف رنگوں کا تعلق ہمارے جسم کے مختلف اعضاء سے ہے جیسے کہ نیلے رنگ کا تعلق سر اور آنکھوں  سے ۔ زرد رنگ کا تعلق ہمارے پھیپھڑوں اور پیٹ سے   ۔۔۔۔۔۔ (مکمل تفصیل کیلئے جلد ہی ایک الگ سے پوسٹ کی جائے گی ۔) چونکہ یہاں ذکر ہو رہا ہے دماغی امراض کا تو  ایسی صورت میں نیلا رنگ سب سے بہتر ہے ۔ اوورا میں نیلے رنگ کی مقررہ  مقدار کو بحال کرنے کیلئے

مریض کے پہننے والے کپڑوں ۔ مریض کے کمرے کے پردوں اس کے بستر کی چادر ایسی ہونی چاہیئے جو نیلے رنگ کی ہوں ۔ ٹیوب لائٹ پر نیلے رنگ کا سیلوفین پیپر لگانے  سے اس کی روشنی بھی نیلی کی جا سکتی ہے ۔کوشش ہو کہ مریض کے کمرے میں جہاں تک اور جتنا ممکن ہو سکے نیلا رنگ زیادہ سے زیادہ موجود ہو ۔

مزید پڑھیں: “دھماسہ” سے کینسر کے آزمودہ علاج کا انکشاف

بطور دوا استعمال کیلئے نیلے رنگ کا پانی تیار کیا جا سکتا ہے ۔ جس کا بنانا بہت آسان اور جس کے استعمال کا کوئی نقصان بھی نہیں ۔ پانی سیدھا معدہ میں اور اس میں موجود نیلی روشنیاں جسم مثالی میں چلی جاتی ہیں ۔ ایک بوتل پانی تین دن تک استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

پانی بنانے کیلئے صاف شفاف شیشے کی بوتل میں ابلا ہوا پانی ٹھنڈا کر کے اس پر نیلے رنگ کی سیلوفین شیٹ لگا دیں ۔ اسے سورج کے نیچے ایسی جگہ رکھیں جہاں دن میں صبح 10 سے شام 4 بجے تک سایہ نا آئے ۔ بوتل کو کسی لکڑی یا پلاسٹک کے بڑے ٹکڑے پر رکھیں تا کہ روشنیاں زمین میں ارتھ نا ہو سکیں ۔ شام 4 بجے اسے اٹھا لیا جائے ۔ نیلی شعاعوں کا پانی تیار ہو گا ۔ جسے 3 دن تک استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

طریقہ استعمال اور مقدار ایک چمچ صبح دوپہر و شام استعمال کرایا جا سکتا ہے ۔ مرض کی شدت کی صورت میں یہی پانی پینے کے پانی کی جگہ بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے ۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کا طریقہ علاج کیا ہے ؟

نیلی روشنیوں کا مراقبہ :

جسم میں شک کی زیادتی دماغی خلیوں (سیلز) کی ٹوٹ پھوٹ کا باعث بنتی ہے جس سے منفی جذبات پیدا ہوتے ہیں جبکہ یقین میں اضافہ سے دماغی سیلز کھلنا شروع ہوتے ہیں ۔ جس سے سکون ۔ خود اعتمادی ۔ خود شناسی ۔۔ ۔۔ میں اضافہ ہوتا ہے ۔

نظریہ رنگ و نور ہمیں بتاتا ہے کہ نہ صرف انسان کے جسم بلکہ حواس میں بھی رنگوں کی مخصوص مقداریں کام کرتی ہیں۔ اگر کسی وجہ سے رنگوں کے نظام میں تبدیلی واقع ہو جائے، کسی رنگ کی کمی ہو جائے، کوئی رنگ زیادہ ہو جائے یا رنگوں کے تناسب میں فرق آ جائے تو محسوسات میں بھی تبدیلی واقع ہو جاتی ہے۔

نیلی روشنیوں سے دماغی امراض، گردن اور کمر میں درد، ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کی خرابی، ڈپریشن ، احساس محرومی، کمزور قوت ارادی سے نجات مل جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: صدا بہار پھول سے شوگر کا علاج

مراقبہ کے ذریعے رنگ و روشنی کو جذب کرنے کا طریقہ یہ ہے:

طریقہ نمبر 1: آرام دہ نشست میں بیٹھ کر تصور کریں کہ رنگ اور روشنی کی لہریں پورے جسم میں جذب ہو رہی ہیں۔

طریقہ نمبر2: مراقبہ میں تصور کریں کہ رنگ یا روشنی کی لہر آسمان سے نازل ہو کر دماغ میں جذب ہو رہی ہے۔

طریقہ نمبر3: مراقبہ میں تصور کیا جائے کہ گرد و پیش کا پورا ماحول روشنی سے معمور ہے۔

طریقہ نمبر 4: یہ تصور کیا جائے کہ مراقبہ کرنے والا روشنی کے دریا میں ڈوبا ہوا ہے۔

 

لمس یا جادو کی جپھی۔

 

اوپر نمبر 1 میں  ذکر کیا گیا ہے کہ اوورا کی صفائی کیلئے وضو و غسل وغیرہ کے متعلق ذکر کیا گیا ہے ۔

یہاں اس کے متعلق کچھ دیگر معلومات شئیر کی جا رہی ہیں ۔

کچھ لوگوں کا جسم مثالی اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کے جسم مثالی کو کسی شعوری کوشش کے بغیر ہی متاثر کر دیتا ہے ۔ جس کی وجہ سے اگلا انسان بغیر کسی شعوری وجہ کے  اس سے امپریس ہو جاتا ہے ۔ یعنی متاثرین میں شامل ہو جاتا ہے ۔

مزید پڑھیں: ’’خربوزہ‘‘ مختلف بیماریوں سے رکھے محفوظ

کچھ لوگ ہزاروں لاکھوں کے مجمع  میں ہونے کے باوجود بھی ایک الگ پہچان لئیے ہوتے ہیں ۔ نظر انہیں دیکھتے ہی شدید پسندیدگی یا نا پسندیدگی کا اظہار کر دیتی ہے ۔ جس کی وجہ ان کے اوورا کے رنگوں کے مثبت یا منفی روشنیوں کی مقدار اور ان کے پھیلاؤ  پر ہے ۔

اس گروپ کے اکثر لوگوں کے اوررا قابل تعریف و قابل تقلید ہیں ۔ اگر ایڈمنز کی بات کی جائے تو تین ایڈمنز کے جسم مثالی واقعی بے مثال ہیں ۔ ان کے پاس بیٹھنے کچھ روشنیاں سمیٹنے کا دل چاہتا ہے  تا کہ میرا جسم مثالی بھی کسی قابل ہو پائے۔

انسانی جسم کے ساتھ ساتھ رہنے والے جسم مثالی کی روشنیوں کو یکسوئی کی مشقیں کرنے والے اپنی مرضی سے اتنا بڑھا بھی سکتے ہیں کہ کسی بھی شخص کے اوورا پر حاوی ہو سکیں ۔ اور اس کی توانائیوں کی کمی بیشی پوری کر سکیں۔

مزید پڑھیں: موسمی بیماریوں سے کیسے بچیں

چھوٹے معصوم بچوں کو گلے لگانا ۔ ماں باپ کے گلے لگنا ۔ ایسے لوگ جو نماز و ذکر کی باقاعدگی کریں اور جن کے دلوں میں کسی کیلئے کوئی انتقام کا جذبہ نا ہو ، ان سے گلے ملنے یا ان کے پاس بیٹھنے سے کمزور اوورا کی ساری کمیاں دور ہو جاتی ہیں ۔

اور بے سکونی ۔ جھنجھلاہٹ ۔ ہٹ دھرمی ۔ غصہ ۔ انتقامی خیالات کی جگہ ایسی لطیف لہریں دماغ میں گردش کرتی ہیں جو اور سب کچھ بھلا دیتی ہیں ۔  وہ لطافت جسم و روح میں پھیلتی ہے جو بیاں سے باہر ہے ۔

 

(بشکریہ ممتاز مفتی گروپ)