ملعون فرانسیسی صدر “ایمانویل میکرون” کی حقیقت

سن 1993 کا واقعہ ہے، سکینڈری اسکول کے ایک پندرہ سالہ طالب علم کے اپنی چالیس سالہ ٹیچر کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے، جو خود تین بچوں کی ماں تھی، اور وہ بدکار طالب علم (جو اس سے تعلقات میں تھا) اس کے دو بچوں سے بھی چھوٹا تھا۔

جب اس چالیس سالہ ٹیچر کے شوہر اور اسکول کی انتظامیہ کو اس معاملے کا علم ہوا، تو دونوں کی کافی جگ ہنسائی ہوئی، اور وہ ٹیچر ادارہ چھوڑ کر شہر کے دوسرے اسکول میں منتقل ہوگئی۔

ساتھ ہی بدکار شاگرد نے بھی بدنامیوں کے باعث اپنا زادِ راہ باندھا، اور اس شہر سے 170 کلو میٹر دور دوسرے شہر چلا گیا۔

مزید پڑھیں: فرانس ، قرآن مجید اور رسول اللہ کی شان میں گستاخی کی مذمت کرتے ہیں : اکرام الدین

لیکن پھر بھی اگلے تیرہ برسوں تک وہ شاگرد اور ٹیچر جسمانی تعلقات میں رہے، اور بدکاری کرتے رہے۔

نتیجتاً سال 2006 میں اس ٹیچر کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی، اور اگلے ہی سال اس ٹیچر نے اپنے بدکار شاگرد سے شادی کرلی۔ اور یہ بدکار شاگرد، جس نے اپنی ماں کی ہم عمر، شادی شدہ ٹیچر (جو کہ استاذ ہونے کے حوالے سے بھی اس کی ماں تھی) سے مسلسل زنا کر کے سیاہ روئی، خباثت اور بد طینتی کی عجیب و غریب تاریخ رقم کی تھی، آج ایک ملک (فرانس) کا صدر بنا بیٹھا ہے۔ جس ملک کی بدسلوکیوں اور غلط کاریوں کی اپنی ایک سیاہ تاریخ رہی ہے۔

مزید پڑھیں: فرانس میں گستاخی کیوں ہوئی اور آگے کیا ہو گا ؟

وہ زناکار اسٹوڈنٹ (میکرون) ہمیں سکھاتا ہے کہ تمہارا اسلام تشدد کا شکار ہے اور چاہتا ہے کہ ہم اپنے دین کے اصولوں کو تبدیل کر دیں۔

اور اب اس ناپاک، خبیث طالب علم کی اتنی جرات، کہ وہ اس معلمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف خاکے نشر کرتا ہے، جس نے پوری انسانیت کو توحید، حسن اخلاق، بہترین اقدار اور مثالی کردار کا سبق پڑھایا۔

علیہ افضل الصلاۃ و ازکی التسلیم!

فداک ابی و امی یا رسول اللہ..

 

(عربی سے ترجمہ شدہ)