عبقری شخصیت کے مالک “شہید مولانا سمیع الحق” 

 

تحریر: مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

مولانا سمیع الحق شہید ہماری ملی و دینی جدوجہد کی تاریخ کے ایک روشن باب کا مستقل عنوان ہیں اور ان کی خدمات کا دائرہ اور حجم اس قدر وسیع اور بڑا ہے کہ ایک مختصر تحریر میں اس کا پوری طرح احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ ایک تکوینی امر ہے کہ ہر دور اور زمانے میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے کردار و عمل اور حال و قال سے اس پورے عہد کو اس انداز میں ایک شناخت اور پہچان عطاءکرتے ہیں کہ وہ عہد اسی سے منسوب ہو کر رہتا ہے۔

مولانا سمیع الحق اپنے دور کے ایسے ہی گنے چنے اور ہیرے لوگوں میں سے ایک تھے۔ ایک شخصیت، ایک عہد اور ایک زریں تاریخ۔ اپنی حیات مستعار کے مختلف مراحل میں انہوں نے جس جس میدان کا رخ کیا، اپنی شخصیت اور کام و کردار کی انفرادیت سے اس میدان کے فاتح ٹھہرے اور کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔ وہ صحیح معنوں میں ان لوگوں میں شامل تھے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی ذات میں تنہا انجمن ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا مذہبی تشخص ختم کرنے کا انکشاف

مولانا سمیع الحق محض ایک شخص کا نام نہیں، وہ ایک ایسے فرد تھے، جو تنہا کئی اداروں، جماعتوں اور انجمنوں پر حاوی اور بھاری تھے اور پوری زندگی انہوں نے اکیلے کئی اداروں کا کام انجام دیا۔ ان کے تحقیقی، تصنیفی و تالیفی کام کا حجم اور پھیلاو ¿ دیکھ کر ہی انسان حیرت میں پڑتا ہے کہ اس ایک شخص نے اکیلے ایک ایسے علاقے میں جہاں علم و تحقیق کے وسائل و ذرائع بھی بڑے اور متمدن شہروں کی نسبت آج کے اس جدید دور میں بھی بہ آسانیمہیا نہیں ہیں، کیسے علم و فن کا ایک ہمالیہ کھڑا کر دیا۔

علم و فن و سے لے کر عمل و کردار کے مختلف میدانوں تک، انہوں نے جس طرف بھی اپنے اشہبِ فکر کو دوڑایا، اپنا نام و مقام وہاں نقش کر آئے۔ یہ ایک عملی حقیقت ہے کہ ہر دور میں مختلف شعبوں، علم و فن کے مختلف گوشوں اور عمل و کردار کے مختلف اطراف میں ایسے با کمال لوگ پائے جاتے ہیں جو اپنے شعبے، فن اور میدان میں عظمتِ شان حاصل کرتے ہیں۔ اس شعبے، فن اور میدان میں انہی کا طوطی بولتا ہے اور وہ امام کہلاتے اور لوگوں کیلئے مرجع کا درجہ حاصل کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: فرانس اسلامو فوبیا کے شکنجے میں آ گیا

ایسے لوگ زندگی بھر ایک ہی شعبے سے وابستہ ہوتے ہیں اور ایک میدان کو منتخب کرکے ساری زندگی اس میں کھپا دیتے ہیں، مگر ایسے لوگ بہت کم اور نایاب ہوتے ہیں، جو کوئی ایک موضوع اور شعبہ خاص کرکے اس میں مہارت پیدا کرنے کے بجائے چاروں طرف اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں کا گھوڑا دوڑاتے ہیں اور جس طرف رخ کرتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے انہیں صرف اسی فن اور شعبے میں کمال ہے۔ ایسے لوگ عبقری اور جینئس کہلاتے ہیں اور ہر فن مولا ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا سمیع الحق شہید بھی ایسے ہی ایک عظیم انسان تھے۔

مولانا سمیع الحق نے متنوع میدانوں میں گوناگوں کام کیا۔ وہ سراپا جد و جہد تھے۔ کوئی میدان ایسا نہیں چھوڑا، جس میں وہ اترے ہوں اور دور دور تک ان کے نام و مقام نہ گونجا ہو۔ وہ ہمہ جہت شخصیت اور کئی دماغوں کے ایک انسان تھے۔

دار العلوم حقانیہ اس دیار میں بجا طور پر دار العلوم دیوبند ثانی کا درجہ رکھتا ہے۔ اس کے بانی مولانا سمیع الحق شہید کے عظیم والد عظیم فاضل دیوبند شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق نور اللہ مرقدہ تھے۔ حضرت شیخ الحدیث کی عظمت، ولایت اور حوصلوں کے تو کیا ہی کہنے۔

مزید پڑھیں: وقف املاک بل وقف اداروں کی بندش کا منصوبہ ہے

اکابر دیوبند سے بھرپور استفادہ کیا اور ان کے منظور نظر ٹھہرے۔ دار العلوم دیوبند کو اللہ تعالیٰ نے شان ہی نرالی دی ہے اور پھر اس وقت جو اکابر حیات تھے، وہ ”جوہری“ تھے۔ یہ رجال سازی کا عظیم کارخانہ تھا، مس خام کی کھیپ کی کھیپ یہاں آتی اور کندن بن کر نکلتی۔ حضرت شیخ الحدیث بھی یہاں سے ایک گوہر تابدار بن کر نکلے۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں

منعم بہ کوہ و دشت و بیاباں غریب نیست

ہر جا کہ رفت، خیمہ زد و بارگاہ ساخت

 

کہ با صلاحیت اور ہنر ور شخص کہیں بھی بے کار نہیں رہتا، وہ اپنی صلاحیتوں کے بل پر جنگل میں بھی منگل کر دیتا ہے۔ حضرت شیخ الحدیث دار العلوم دیوبند سے جو کندن بن کر نکلے تو اکوڑہ خٹک کے دشت و بیاباں میں خیمہ گاڑا، چراغ روشن کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک شہر علم آباد ہوگیا۔ مولانا سمیع الحق انہی عظیم ”جوہری“ کے فرزند تھے۔

مزید پڑھیں: جامعہ دارالھدی سے یومیہ 30 گھرانوں کو کھانا پہنچایا جاتا ہے

دار العلوم حقانیہ کو حضرت شیخ الحدیث کے اخلاص، جہد مسلسل اور عظیم نسبتوں کی برکت سے بجا طور پر خطے میں دیوبند ثانی کا مقام حاصل ہوا اور اس چراغ اور دیے سے چراغ اور دیے روشن ہوتے گئے اور آج پشتون خطہ اسی دیوبند ثانی کے فیض سے علوم نبوت سے منور و مالا مال ہے۔

اپنے والد گرامی حضرت شیخ الحدیث مولانا عبد الحق علیہ الرحمہ کے بعد ان کی مسند کو سنبھالنا اور دار العلوم حقانیہ کی شان کو قائم رکھنا بہت بڑی ذمے داری تھی۔ حضرت شیخ الحدیث علیہ الرحمہ اپنی زندگی کا سفر مکمل کرکے 1988ءمیں دنیا سے کامیاب و کامران رخصت ہوئے۔

آج سے ٹھیک دو سال قبل مولانا سمیع الحق شہید ہوئے تو دار العلوم حقانیہ کی عظمت نہ صرف برقرار تھی، بلکہ اس میں دو چند اضافہ ہوگیا تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مولانا سمیع الحق اپنے والد کے صحیح جانشین اور عظیم سپوت تھے۔ اگر وہ با صلاحیت اور اہل نہ ہوتے، تو ہم نے اپنی آنکھوں سے بزرگوں کی علمی میراث نا اہل اولاد کے ہاتھوں اجڑتے دیکھا ہے، آج دار العلوم حقانیہ کی تعمیر و ترقی اور مولانا سمیع الحق کی گوناگوں خدمات اس بات کا شاہد ہیں کہ انہوں نے اپنے عظیم والد کے ورثے اور امانت کی کما حقہ حفاظت کی اور اسے مزید ترقی دے کر اگلی نسل کے سپرد کیا ہے۔

مزید پڑھیں: دارالعلوم ہاٹ ہزاری چاٹگام کے مہتمم مولانا احمد شفیع انتقال کر گئے

دار العلوم حقانیہ کے علاوہ مولانا سمیع الحق کی زندگی و جد و جہد کے دیگر بھی بے شمار حوالے ہیں۔ وہ مرد میدان تھے، حجرہ بند مفکر ہرگز نہیں تھے۔ ان کا خمیر اللہ تعالیٰ نے اس انداز میں ترتیب دیا تھا کہ ہر وقت کام اور بس کام کے بغیر انہیں سکون نہیں ملتا تھا۔ جہاد اور ملی تحریکات انہیں اپنے والد اور اکابر سے ورثے میں ملے تھے۔

ان کے والد جہاد افغانستان کے سرپرستوں میں سے تھے، والد کے بعد مولانا سمیع الحق اس وادی پر خار سے عافیت کدے کی طرف نہیں پلٹے، بلکہ آگے بڑھ کر والد کے علم کو سینے سے لگایا اور مرتے دم تک پوری جرات اور فخر کے ساتھ خود کو اس سے وابستہ رکھا۔ دنیا میں بہت سے انقلابات آئے، جن سے متاثر ہو کر بڑے بڑے جغادریوں نے اپنی راہیں بدل لیں، مگر مولانا سمیع الحق مرتے دم تک اپنے اصولوں اور اپنی راہ پر استقامت کے ساتھ ڈٹے رہے۔

مزید پڑھیں: ویڈیو گیم پر حالیہ فتویٰ۔۔۔ دوسرا زاویہ

وہ آخر تک فادر آف طالبان کہلاتے تھے اور اس پر فخر کیا کرتے تھے۔ آج جبکہ افغانستان میں جنگ بندی کیلئے متحارب گروہ طویل عرصے سے مذاکرات کی میز پر ہیں، اگر مولانا سمیع الحق شہید زندہ ہوتے، تو یقینا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ ان کی شخصیت کا افغانستان کے تمام متحارب گروہ احترام کرتے تھے، جس کے باعث یہ مرحلہ جو بڑا صبر آزما اور مشکل دکھائی دے رہا ہے، مولانا سمیع الحق کی مساعی سے آسانی سے سر ہو سکتا تھا، مگر برا ہو عقل و حکمت سے عاری بد فطرت دشمن کا کہ اس بوڑھے رہنما کو شہید کرکے خطے کو امن و استحکام کی منزل سے دور کر دیا۔

مولانا سمیع الحق کے ساتھ مجھے ایک نیاز مند کے طور پر بڑا عرصہ سیاسی میدان میں کام کرنے کا موقع ملا، میں وثوق سے کہتا ہوں ان جیسا حلیم، برد بار، ملنسار، شفیق، مخلص، حکمت و دانائی اور تدبر والا رہبر و رہنما میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ اللہ تعالیٰ ان کی شہادت اور ان کی عظیم ملی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول کرے، آمین۔