مفتی منیب الرحمٰن نے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کر دیا

حکومتوں کا کام مذمتی قراردادیں پاس کرنا نہیں، عملی اقدامات کرنے ہوتے ہیں ، قومی میڈیا پاکستانی مارکیٹوں میں موجود فرانسیسی مصنوعات کی فہرست کی تشہیر اوربائیکاٹ کی اپیل کرے، حکومتی سرپرستی میں توہینِ رسالت جنگی جرم ہے ،اس مسئلے کو عالمی فورمز پر اٹھایا جائے اور پیرس سے پاکستانی سفارت کارکواحتجاجاً واپس بلایاجائے: مفتی منیب الرحمن

 

کراچی: چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کے چیئر مین مفتی منیب الرحمن نے علماء کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ، فرانس میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور پھرفرانسیسی صدر کی اس شرمناک حرکت کی پشت پناہی امتِ مسلمہ کے لیے ایک بہت بڑا المیہ اور ذہنی و قلبی اذیت کا سبب ہے۔

توہینِ رسالت پر کسی سربراہِ مملکت کی حوصلہ افزائی کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ اس نے مسلمانوں کے دل مجروح کردیے ہیں اور یہ سوچی سمجھی سازش ہے تاکہ مسلمان محبتِ رسول میں سرشار ہوکر اشتعال کی کیفیت میں کوئی جوابی کارروائی کریں اور پھر انہیں عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دیا جائے ۔

ان کا کہنا ہے کہ، ہماری حکومت ، پارلیمنٹ اورسیاست دانوں نے مذمتی قراردادیں پاس کیں اور بیانات جاری کیے، ہم اس کی تحسین کرتے ہیں، لیکن حکومتوں کا کام صرف مذمتی قراردادیں پاس کرنا نہیں ہوتا، بلکہ عملی اقدامات بھی کرنے ہوتے ہیں ، جو تاحال نظر نہیں آرہے۔

مزید پڑھیں: یکم ربیع الاوّل پیر اور عید میلادالنبی ﷺ 30 اکتوبر کو ہو گی : مفتی منیب الرحمن

اگر سفیر کو بلاکر احتجاج کا پروانہ ہاتھ میں دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ فرانس سے اپنے سفارت کارکو احتجاجاً واپس بلایا جائے اور فرانسیسی سفیر مرک بیریٹی کو ملک بدر کیا جائے تاکہ فرانسیسی حکومت کو اس شرانگیزی اوردہشت گردی کی شدّت و حِدَّت کا صحیح ادراک ہو سکے۔ فرانس میں بعض مساجد اور اسلامی مراکز کا بند کیا جانا آزادیِ مذہب کے خلاف ہے، اس مسئلے کو یورپین یونین اور اقوامِ متحدہ کی سطح پر اٹھایا جائے۔

پاکستان اور ترکی کے سوا کسی مسلم حکمران کی جانب سے کوئی توانا ردِّعمل نہیں آیا، اگر اسلامی کانفرنس کی تنظیم ”او آئی سی” مُردہ ہوچکی ہے تو پاکستان کو پہل کر کے خود کوئی بین الاقوامی سربراہی یا وزرائے خارجہ کی سطح پر کانفرنس منعقد کرنی چاہیے ۔

ہمیں اپنی حکومت کی مجبوریوں اور تحدیدات کا احساس ہے، لیکن ایمان اور عقیدے کا مسئلہ قیمت مانگتا ہے، آج کی دنیا میں بیانات کو اہمیت نہیں دی جاتی۔

مزید پڑھیں: فرانسیسی ملحد TV پر اسلام کے حق کیسے بولا ؟

ہم الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستانی مارکیٹوں میں موجود فرانسیسی مصنوعات کی فہرست شائع کریں تاکہ لوگوں کو آگہی ہو اوربائیکاٹ مہم کی تشہیر کریں، نیز متحرک مذہبی تنظیمیں تمام سپر اسٹورز کے سامنے نمایاں انداز میں یہ فہرستیں آویزاں کریں۔

فرانس کی بیشتر درآمدات کا تعلق بنیادی ضرورتوں سے نہیں ہے ، بلکہ سامانِ تعیُّش سے ہے ، اس سے پاکستان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور یہ تنظیمیں وفد بناکر درآمد کنندگان سے ملیں اور فرانسیسی مصنوعات کی درآمد کا سلسلہ رکوائیں ، کیونکہ حکومت کے لیے سرکاری سطح پر ایسا فیصلہ کرنا اگرچہ نہایت خیر کا باعث ہوگا، لیکن دشوار امر ہے۔ مذہبی سیاسی جماعتیں حکومت سے ہٹ کر اسلام آباد میں مغربی سفارت کاروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں اور ان کے سامنے اس مسئلے کی سنگینی کو پیش کریں ۔

مزید پڑھیں: گستاخانہ خاکوں پر فرانس کیخلاف ملک بھر میں مظاہرے

انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے لکھا ہے: ”توہینِ رسالت کی ریاستی سرپرستی جنگی جرائم میں آتی ہے” ، اس مسئلے کو اجاگر کیا جائے ، دوسال پہلے یورپین عدالت قرار دے چکی ہے کہ دینی مقدّسات کی توہین اظہارِ رائے کی آزادی میں نہیں آتی اور پریس فریڈم کا اس پر اطلاق نہیں ہوتا۔

اگر دنیا دہشت گردی، مذاہب، تہذیبوں اور قوموں کے درمیان نفرت انگیزی کو ختم کرنا چاہتی ہے، تو دینی مقدّسات کی توہین کو فکری اور نظریاتی دہشت گردی قرار دیا جائے اور عالمی سطح پر اس کے لیے قانون سازی کی جائے۔

ہم ماضی میں گورنر ہاؤس کراچی میں مغربی ممالک کے سُفراء کو یہ کہہ چکے ہیں :” ہماری خواہش تو یقینا ہے کہ پوری دنیا ہمارے دینی مقدّسات کا احترام کرے، لیکن احترام کا تعلق دل سے ہوتا ہے، یہ ہمارا آپ سے مطالبہ نہیں ہے، ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ آپ ہمارے دینی مقدّسات کی توہین نہ کریں اور قرآنِ کریم نے مسلمانوں کو بھی اسی اصول کا پابند بنایا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا فرانس میں 3 ماہ سے کوئی سفیر ہی نہیں

ہم اپیل کرتے ہیں کہ آنے والے جمعۃ المبارک کو ”ناموسِ رسالت” کے عنوان پر خطابات کیے جائیں، اسے یومِ احتجاج کے طور پر منایا جائے اور ملک بھر میں میلاد النبیؐ کے جلوسوں اور اجتماعات کو ”تحفظِ ناموسِ رسالت” کے عنوان سے منعقد کیا جائے، اسی طرح اس ماہِ مبارک میں تمام دینی اجتماعات اسی عنوان کے تحت کیے جائیں، نیز میلاد النبیؐ کے جلوسوں اور جلسوں کو فُل پروف سیکورٹی دی جائے۔

نیز ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں ناموسِ رسالت، ناموسِ امّہات المؤمنین، ناموسِ اہلبیتِ اطہار، ناموسِ صحابہئ کرام اور ناموسِ مقدّساتِ دین کے مقدمات کے لیے خصوصی قوانین بنائے جائیں ، اس کے لیے خصوصی قانونی ضابطہئ کار بنایا جائے اور ان مقدّمات کو براہِ راست فیڈرل شریعت کورٹ میں ٹرائل کیا جائے اور اس کے لیے کم از کم مدت کا تعیّن کیا جائے۔

فیڈرل شریعت کورٹ میں وافر دینی علم رکھنے والے جج صاحبان کا تعیّن کیا جائے تاکہ قصور وار کو سزا اور بے قصورکو رہائی ملے ، ہر ایک کو معلوم ہے کہ ہماری ماتحت عدالتوں کے جج صاحبان ان مقدّمات کی حساسیت کا دباؤ برداشت نہیں کرسکتے ، اس لیے انہیں بلاوجہ معرضِ التوا میں رکھا جاتا ہے اور مقدّمات فیصَل نہیں ہوتے۔

مزید پڑھیں: اُمتِ مسلمہ کے کامیاب احتجاج پر پیرس نے گُھٹنے ٹیک دیئے

توہینِ صحابہ کے کسی مجرم کو اب تک قانون کی گرفت میں نہیں لیا گیا، اس پر مسلمانانِ پاکستان کو بے حد تشویش ہے اور کچھ لوگ تو نظامِ حکومت میں اہم مناصب پر بیٹھے ہوئے ہیں، اس کے برعکس اہلسنّت کے علماء کویک طرفہ طور پر جیلوں میں ڈال رکھا ہے ،انہیں رہا کیا جائے۔

ہمیں اس پر بھی تشویش ہے کہ اچانک دہشت گردی کی ایک نئی لہر اٹھ رہی ہے، ہمارے انٹیلی جنس اور قومی سلامتی کے اداروں کو اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، ہم دہشت گردی کے تمام واقعات کی شدید مذمت کرتے ہیں، پشاور کے واقعے میں قرآن پڑھنے والے ننھے بچوں کو شہید کیا گیا ہے، یہ کھلی درندگی اور بربریت ہے، مولانا ڈاکٹر عادل خان کے سفّاکانہ قتل کے محرّکات اور مجرموں کاقانون کی گرفت میں نہ آنا سب کے لیے باعثِ تشویش ہے ،ایسے حالات میں علماء اور دینی اداروں کو سیکورٹی فراہم کی جائے۔

مزید پڑھیں: کراچی کی صنعتوں کا پانی بند ہونے پر صنعتکاروں کا احتجاج

پریس کانفرنس میں علامہ سید مظفر شاہ ، مولانا ریحان امجد نعمانی، مفتی عابد مبارک المدنی، مفتی غلام غوث بغدادی، مفتی محمد الیاس رضوی، مفتی نذیر جان نعیمی ، مولانا محمد اشرف گورمانی،مفتی رفیع الرحمن نورانی، علامہ لیاقت حسین اظہری ، مولانا صابر نورانی، ثروت اعجاز قادری،مولانا بلال سلیم قادری ، محمد شمیم خان ، سید عمیر الحسن برنی ، مولانا بختیار علی ،مولانا احمد ربانی اور دیگر علمائے کرام نے شریکت کی۔