جنرل پرویز مشرف بھگٹی کے خلاف کیوں ہوئے ؟

ایک لڑکا فوج میں کمیشن حاصل کرتا ہے ۔اور ذاتی قابلیت کے بل بوتے پر اعزازی تلوار حاصل کر کے پاس آؤٹ ہوتا ہے ۔پہلی پوسٹنگ آرمڈ کور میں ہوتی ہے جونہی یونٹ پہنچتا ہے جنگ لگ جاتی ہے بارڈر پر چلا جاتا ہے ۔

ٹینک کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے کہ دشمن کا گولہ ٹینک کو لگتا ہے ٹینک کو آگ لگ جاتی ہے ٹینک گولوں سے بھرا ہوتا ہے بجائے چھپنے کے یا مورچے میں جانے کے آگ لگے ٹینک کے اندر جاتا ہے گولے نکال کر باہر پھینکتا ہے ایک اور سپاہی کو آزاز دیتا ہے وہ بھی اسکی مدد کرواتا ہے *یوں پوری کمپنی تباہی سے بچ جاتی ہے ۔

چند دن بعد گولی لگتی ہے زخمی ہوتا ہے کماد کے کھیت میں پناہ لیتا ہے کئی گھنٹے زخمی پڑا رہتا ہے پھر ایک سپاہی معجزاتی طور پر ادھر سے گزرتا ہے وہ کندھوں پر اٹھا کر لاتا ہے علاج ہوتا ہے ٹھیک ہو جاتا ہے پروموٹ ہوتا ہے ۔میجر بنتا ہے تو حکومت اکبر بگٹی کی ایما پر کلپر بگٹیوں کے خلاف آپریشن کرتی ہے اور فوج انکو ڈیرہ بگٹی سے نکال دیتی ہے تاکہ اکبر بگٹی کو ساری زمین مل جائے ،کلپر پنجاب ،سندھ اور بلوچستان میں پناہ لیتے ہیں ۔

وہ بندہ اپنی قابلیت پر بریگیڈٸر بنتا ہے فوج اسے 16 اگست کو آرمی چیف کا سیکٹری مقرر کرتی ہے شام کو آرمی چیف کے گھر جاتا ہے انٹرویو ہوتا ہے سیلیکٹ ہوتا ہے ۔لیکن آرمی چیف/صدر کہتا ہے ہمارا کل کا بہاولپور کا پروگرام ہے پہلے والا سیکٹری چونکہ مکمل طور پر اس سے اگاہ ہے اس لیئے تم کل شام کو ٹیک اوور کر لینا وہ جہاز جو بہاولپور گيا آج تک واپس نہیں آیا اور یوں تیسری دفعہ وہ موت سے بچ جاتا ہے ۔

پھر میجر جنرل بنتا ہے جی ایچ کیو اسے مری سے طلب کرتا ہے فورا کسی آپریشن کیلئے وہ اپنی جیپ پر نکلتا ہے اس کے لیئے ہیلی کاپٹر بھیجا جاتا ہے وہ جیپ پر پنڈی پہنچتا ہے ہیلی کاپٹر واپسی پر کریش ہو جاتا ہے اور میجر جنرل چوتھی دفعہ موت سے بچ جاتا ہے ۔

لیفٹیننٹ جنرل بنتا ہے نمبر ون کور کا کور کمانڈر بنتا ہے ایمرجنسی میٹنگ کیلئے بلایا جاتا ہے ہیلی کاپٹر جاتے ہوئے کریش ہو جاتا ہے اور وہ جیپ پر پنڈی آ جاتا ہے اور پانچویں دفعہ موت کے منہ سے بچ جاتا ہے ۔ملک میں سیاسی حکومت اور صدر کا جھگڑا شروع ہوتا ہے تو وہ آرمی چیف کو مشورہ دیتا ہے کہ ہمیں جمہوری وزیر اعظم کا ساتھ دینا چاہئے یہ بات نواز شریف کو پہنچتی ہے وہ اسے آرمی چیف بنا دیتا ہے سری لنکا جاتا ہے حکومت کہتی ہے جہاز ہی گرا دو چھٹی دفعہ پھر بچ جاتا ہے ۔

ہندوستان کے علاقے میں جنگ کی حالت میں رات گزارتا ہے ساتویں دفعہ موت کے منہ سے نکل آتا ہے ۔دو خود کش حملے پنڈی میں ہوتے ہیں دونوں میں بچ جاتا ہے 9ویں دفعہ بھی بچ جاتا ہے کراچی دو بارود کے بھرے کنٹینر وقت پر نہیں پھٹتے اور دسویں دفعہ بھی موت کے منہ سے زندہ بچ جاتا ہے ۔

پتہ نہیں کس کی دعا ہے کیا مرتبہ ہے کیا فضیلت ہے ہر دشمن جو للکارتا ہے مر جاتا ہے ۔دو کروڑ انعام دینے والا مر جاتا ہے ۔ملا عمر قسم کھاتا ہے مر جاتا ہے بیت اللہ مسعود قسم کھاتا ہے مر جاتا ہے ۔حکیم اللہ قسم کھاتا ہے مر جاتا ہے
عدالتوں میں لانے والے اسی طرح پورا خاندان ذلیل ہو رہا ہے وہ کام جو اسکے ساتھ کیا ان سب کے ساتھ ہو رہا ہے ۔

نوٹ : یہ ساری معلومات ،ٹی وی ،فوج اور اخباروں اور سنی سنائی باتوں پر ہیں ۔کسی کے جھوٹ کا میں ذمے دار نہیں ۔

72 سال عمر ہے شان سے جیا ہے اور ڈٹ کر جیا ہے نہ کوئی سیاسی بیک گراؤنڈ ہے نہ جاگیردار ہے نہ وڈیرہ شاہی سے تعلق ہے نہ کسی گدی سے نہ سجادہ نشین ہے ،نہ ڈاکو ہے ،نہ لٹیرا ہے ۔

ایک گھر بنایا اسلام آباد میں وہ بھی دشمنوں نے قرق کروایا دوسری طرف دانیال عزیز کو صرف ٹی وی پر ——- کرنے کے عوض دو گھر ملے اسلام آباد میں ۔ نہ اولاد پر کوئی سٹیل مل کا کیس ہے اور نہ بیٹی لندن میں فلیٹس کی مالک ہے ۔

خودار ہے اور ہر دشمن کی آںکھ میں کھٹکتا ہے ۔اور دنیا کا واحد ایسا سپاہی ہے ۔جب کسی دشمن نے فوج کو گالی دینی ہوتی ہے مشرف کو دیتا ہے ایسے جیسے مشرف ہی فوج ہو ۔یہ اعزاز بھی کم لوگوں کو ملتا ہے کہ پورا ادارہ ایک آدمی سے منسوب ہو ۔مرنا تو ہر کسی نے ہے ،اسکی بیماری پر جگتیں مارنے والے بھانڈ آج خود قسمیں کھا کر یقین دلاتے ہیں ۔

دشمن ہی خوار ہوئے ہیں بعض اوقات ان دیکھی طاقتیں انسان کی محافظ ہوتی ہیں ۔جنرل پرویز مشرف صاحب اللہ حامی و ناصر ہو آمین ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *