سیرت نبویؐ کو انگریزی میں اجاگر کرنے والے پروفیسر محمد عظمت سے نشست

انٹرویو : حافظ سرفراز ترین

ضلع ہری پور میں انگریزی ادب یا تدریس اور اس کی لسانی مہارتوں کے حوالے سے کسی محفل میں بحث ہو رہی ہو اور پروفیسر محمد عظمت کا ذکر نہ ہو، یہ ہو نہیں سکتا۔ میں اپنے حلقہ احباب میں موجود بے شمار اساتذہ کرام سے ان کا غائبانہ تذکرہ کافی عرصے سے سنتا چلا آ رہا تھا۔ جنھوں نے دوران ملازمت ایم اے انگلش کی تیاری میں ان سے رہنمائی حاصل کی اور آج انگلش کے سبجیکٹ سپیشلسٹ کے طور پر تدریسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔

ایک دو دفعہ ملاقات کی خواہش پیدا بھی ہوئی لیکن شاید ملاقات نصیب میں نہیں تھی باالآخر یہ ملاقات اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اسپورٹس برادر مکرم حاجی ذوالفقار احمد اور محمد زبیر سی ٹی گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 3 ہری پور کی وساطت سے ہو گئی ۔

سچی بات یہ ہے کہ میں اس پہلی ہی ملاقات میں ان کی صلاحیتوں کا معترف ہو گیا ، ان کی کامیابیوں کی ایک خوبصورت اور طویل داستان ہے جسے آپ نے کمال مہارت سے خوبصورت انداز میں بیان کیا۔ دوران گفتگو آپ کے انداز بیان اور باڈی لینگونج سے آپ کی ابلاغی صلاحیتوں کا کھل کر اظہار ہوا، جس سے مجھ پر یہ بات ثابت ہو گئی کہ بطور استاد اور ٹرینر پروفیسر محمد عظمت کی جو ستائش کی جاتی ہے وہ یقیناً حقیقت پر مبنی ہے ۔

مزید پڑھیں: خیبر پختون کا تاریخی ضلع ہری پور کیسا ہے ؟

ان کی جہد مسلسل میں مجھے نئی نسل کے لیے موٹیویشن نظر آئی کہ کس طرح گورنمنٹ پرائمری سکول تلوکر اور گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 ہری پور کا ایک طالب علم اپنی جہد مسلسل کی بدولت انگریزی میں پی ایچ ڈی تک تعلیم حاصل کرلیتا ہے۔ ایف ایس سی پری میڈیکل کے بعد بجائے ڈاکٹر بننے کے انگریزی ادب پڑھنے کا فیصلہ کرتا ہے اور اکیڈیمک و پروفیشنل ایجوکیشن کے میدان میں بہترین تعلیمی کارکردگی کی بدولت اعلٰی ترین تعلیمی اعزازات حاصل کرتا ہے۔ نجی و سرکاری ملکی و بین الاقوامی اداروں میں پڑھانے کا اعزاز حاصل کرتا ہے ۔

پہلے براہ راست سبجیکٹ سپیشلسٹ اور پھر اسسٹنٹ پروفیسر سلیکٹ ہو جاتا ہے ، سعودی عرب کی یونیورسٹی ام القرٰی میں انگریزی کی تدریس کرتا ہے ۔ انگریزی کی تدریس اور ٹریننگ کے شعبے میں اس کی شہرت کے ڈھنکے چہار سو بجنے لگتے ہیں۔ ان کے بے شمار مقالہ جات ملکی و بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں انٹرمیڈیٹ کلاسز کے انگریزی کے مضمون پر بھی ان کی دو رہنما کتب شائع ہو چکی ہیں جب کہ انگریزی کی تدریس، لسانیات، تحقیق کے حوالے متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں جبکہ کئی کتابیں زیر طباعت ہیں ۔

مزید پڑھیں: یکساں نصاب تعلیم طبقاتی تفریق ختم کرئے گا : صوبائی وزیر تعلیم ایوب خان

انگریزی زبان پر تو بہت کام کر چکے ہیں لیکن سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زندگی گزارنے کا جو بہترین نمونہ پیش کیا گیا ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے پروفیسر محمد عظمت نے قرآن کی روشنی میں عربی اور انگریزی گرامر کی مدد سے آپﷺ کی سیرت کے قائدانہ پہلووں کا عمیق مطالعہ کیا ہے اور اس حوالے آپ کا تحقیقی کام اختتامی مراحل میں ہے ۔

میں نے سوچا کہ ان کا تعارف اپنی قارئین کے ساتھ شیئر کروں شاید کوئی ان کی جہد مسلسل اور کامیابیوں سے موٹیویشن حاصل کر لے ۔

پروفیسر محمد عظمت پندرہ فروری 1973ء کو ہری پورشہر کے نواحی گاؤں گہرخان میں پیدا ہوئے ۔ آپ کا تعلق مغل خاندان سے ہے اور کئی نسلوں سے گہر خان میں آباد ہیں ۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول تلوکر سے حاصل کی۔ اس کے بعد گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 ہری پور میں داخلہ لے لیا، جہاں سے 1988ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اسکول دور کے اساتذہ میں سے پرنسپل سید الطاف حسین شاہ صاحب، عبدالسلام صاحب، محمد نواز صاحب اور خان افضل صاحب کو اپنے بہترین اساتذہ قرار دیتے ہیں ۔

مزید پڑھیں: استاد کا احترام کل اور آج

اسکول کی سطح سے ہی اعزازات حاصل کرنے شروع کردیا تھا 9ویں جماعت کے امتحان میں پورے اسکول میں اول پوزیشن حاصل کرنے پر انھیں اس وقت کے وزیر تعلیم افتحار مہمند اور حبیب اللہ خان ترین نے ایک ٹرافی، چھیاسی کی دنیا اور پارکر کا پن انعام میں دیا تھا۔ گورنمنٹ ڈگری کالج ہری پور میں ایف ایس سی پری میڈیکل میں داخلہ لیا، ایف ایس سی تو کرلی لیکن سائنس مضامین کی غیر موثرطریقہ تدریس کی وجہ سے ان کا دل سائنس پڑھنے سے اچاٹ ہو گیا ۔

لہذا بی اے انگریزی ادب میں داخلہ لینے کا فیصلہ کر لیا ، اس سے پہلے گریجویشن کی سطح پر انگریزی ادب کی کلاس نہیں ہو رہی تھی، انگریزی ادب کے پہلے طالبعلم کی حیثیت سے محمد عظمت نے باقاعدہ ترغیبی مہم چلا کر دیگر طلبہ کو انگریزی ادب کی کلاس میں داخلے پر آمادہ کیا ۔ انگریزی ادب کے ساتھ گریجویشن کرنے کے بعد محمد عظمت نے نجی تعلیمی ادارے کوثر پبلک اسکول میں تدریس شروع کر دی ، تقریباً پونے دو سال بعد آپ نے تعلیم کے منقطع سلسلے کو دوبارہ جوڑنے کا عزم کیا اور گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ایبٹ آباد میں ایم اے انگریزی میں داخلہ لے لیا اور 1998 میں ہائی سیکنڈ ڈویژن کے ساتھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ایبٹ آباد سے ایم اے انگریزی کا امتحان پاس کیا ۔

اس کے بعد 2001 میں بی ایڈ اور 2002 میں ڈپلومہ ان ٹیفل کا کورس مکمل کیا ۔ 2008 میں ہزارہ یونیورسٹی کے ہری پور کیمپس سے ایم ایڈ کیا اور تینوں کیمپسزمیں فرسٹ پوزیشن حاصل کر کے گولڈ میڈل کے حقدار قرار پائے، ایم ایڈ میں آپ کے مقالے کا موضوع EVALUATION OF ENGLISH QUESTION PAPERS IN LIGHT OF BLOOM TAXONOMY تھا۔

محمد عظمت نے 2008 میں انگریزی میں ایم ایس کرنے کے لیے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں داخلہ لیا۔ ایم ایس اور ایم ایڈ کے مقالہ جات میں 4.00/4.00 جی پی اے حاصل کیا ۔ اس کے فورًا بعد آپ نے پی ایچ ڈی کرنے کے لیے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں ہی داخلہ لے لیا ۔ جہاں پر آپ کے مقالے کا موضوع ہے PROPHET MUHAMMAD صلی اللہ علیہ وسلم AS A LEADER IN THE QURAN: SYSTEMIC FUNCTIONAL APPROACH ہے۔ پی ایچ ڈی کورس ورک میں آپ نے 4.00/4.00جی پی اے لیا ۔ جب کہ مقالے کا پہلا ڈرافٹ جمع کروا چکے ہیں ۔

مزید پڑھیں: تعلیمی اداروں پر ”چھاپے“ کیوں مارے جا رہے ہیں ؟

ملازمت

یوں تو پروفیسر محمد عظمت نے میٹرک کے بعد ہی اپنے گاؤں کے بچوں کو فری ٹیوشن پڑھانے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا تاہم آپ نے اپنی ملازمت کا آغاز بطور انگلش ٹیچر ایک نجی تعلیمی ادارے کوثر پبلک اسکول ہری پور سے 1993ء میں کیا، اس کے بعد ایم اے انگریزی میں داخلہ لے لیا ۔ ایم اے انگریزی کرنے کے بعد 1997 سے 2000ء تک ہزارہ پبلک اسکول اینڈ کالج ہری پور میں بطور لیکچرار تدریس کی اسی دوران ان کی سلیکشن بطور لیکچرار آرمی برن ہال کالج کے لیے ہو گئی اور پھر وہاں سے انھیں آرمی پبلک اسکول شنکیاری میں تعینات کر دیا گیا تاہم جلد ہی بلک سروس کمیشن کے ذریعے آپ کی سلیکشن بطور سبجیکٹ سپیشلسٹ انگلش ہو گئی ۔ بطور ایس ایس آپ نے 2011ء تک گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول سری کوٹ، گورنمنٹ ہائی سکول پنیاں،گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول کوٹ نجیب اللہ اور گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول نمبر 1 ہری پور میں خدمات سر انجام دیں ۔

پبلک سروس کمیشن کے ذریعے براہ راست اسسٹنٹ پروفیسر منتخب ہونے کے بعد 2011ء میں آپ کو بطور اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ہری پور میں تعینات کر دیا گیا ۔ 2015ء میں آپ کو سعودی عرب کی معروف یونیورسٹی ام القرٰی کے ادارے انگلش لینگونج انسٹیوٹ میں تدریس کے لیے بطور انگلش لیکچرار سلیکٹ کر لیا گیا، تاہم ایک سال کے بعد مجبورًا وطن واپس لوٹنا پڑا کیونکہ آپ نے محکمانہ ترقی کے لیے بطور اسسٹنٹ پروفیسر ایک محکمانہ تربیتی کورس میں لازمی شرکت کرنا تھی ۔ کورس کے بعد آپ نے دوبارہ کالج جوائن کر لیا ۔

فروری 2018ء میں آپ کو ایسوسی ایٹ پروفیسر بی پی ایس 19 کے عہد ے پر ترقی دے دی گئی ۔ آپ انٹرمیڈیٹ، گریجویشن اور ماسٹرز کی سطح پر انگریز ی زبان،لسانیات اور انگریز ی ادب پڑھاتے ہیں اس کے علاوہ آپ مختلف نجی اداروں میں جزوقتی طور پر انگریزی زبان اور اس کی لسانی مہارتوں کی تدریس کے فرائض بھی سر انجام دے چکے ہیں ۔

پروفیسر محمد عظمت کو علامہ اقبال یونیورسٹی کے پروگرام ایم اے ٹیفل کے ساتھ بطور سپر وائزرکام کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ محکمہ تعلیم کے زیر اہتمام اساتذہ کے مختلف تربیتی کورسز میں آپ کو بطور ریسورس پرسن مدعو کرنے کا سلسلہ 2003ء سے جاری و ساری ہے

 

اعزازات

پروفیسر محمد عظمت کو درس وتدریس اور تحقیق کے شعبے میں شاند ار کامیابیوں پر مندرجہ ذیل ایوارڈ دیے گئے ہیں ۔
۱۔ہزارہ یونیورسٹی کے تینوں کیمپسز میں ایم ایڈ میں فرسٹ پوزیشن حاصل کرنے پر سالانہ کانووکیشن کے موقع پر آپ کو اس وقت کے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی نے گولڈ میڈل دیا گیا ۔

۲۔2007ء میں بطور سبجیکٹ سپیشلسٹ انگلش آپ کی تدریسی خدمات کے اعتراف میں یونیسکو، یونیسف او رحکومت پاکستان کی طرف سے آپ کو اس وقت کے وزیر اعظم محمد میاں سومرو نے بیسٹ ٹیچر ایوارڈ دیا۔

۳۔۔پی ایچ ڈی کے کورس ورک میں 4.00/4.00میں بہترین کارکردگی پر پنجاب حکومت کی طرف سے آپ کو ایوارڈ اور 2013ء میں لیپ ٹاپ جب کہ اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کی طرف سے میرٹ سرٹیفکیٹ دیا گیا ۔

۴۔ پروفیسر محمد عظمت کو 2014ء میں ان کی تعلیمی، تدریسی اور پیشہ وارانہ خدمات کے اعتراف میں وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے دستخطوں سے سر سید نیشنل ایوارڈ کا حقدار قرار دیا گیا اور انھیں یہ ایوارڈ سنیٹر ایس ایم ظفر اور سینئر صحافی زاہد ملک نے دیا ۔

مزید پڑھیں: ہری پور بازاد میں تالہ توڑ گروہ سرگرم

انگریزی سیکھنا مشکل کیوں لگتی ہے؟
پروفیسر محمد عظمت سے میں نے پوچھا کہ انگریز ی لوگوں کو مشکل کیوں لگتی ہے تو کہنے لگے کہ ہمارے ہاں انگریزی کے قواعد و ضوابط اور کتابیں تو پڑھائی جاتی ہیں لیکن فنکشنل انگلش پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ، پرائمری لیول سے بچوں کا انگلش بولنے کا امتحان ہونا چاہیے۔ حیرت کی بات ہے میٹرک سے بچوں کے سائنس کے تجربات اور انٹرویو تو شروع ہو جاتے ہیں لیکن اردو انگریزی اور عربی کے بولنے کے ٹیسٹ نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے بچوں میں ان زبانوں کے لکھنے پڑھنے سننے کے باالعموم اور بولنے کی مہارتوں میں باالخصوص بہت کمی رہ جاتی ہے ۔

کوئی بھی زبان سیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ محاورے کی زبان کو سمجھا جائے ، اس زبان کے سپیکرز کو سنا جائے کسی بھی زبان کے ماہر آپ اس وقت کہلاتے ہیں ، جب آپ اس کو درستگی اور روانی کے ساتھ بولنے پر قادر ہو جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں آج بھی کتاب پڑھنے اور الفاظ کے لغوی معنی یاد کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے ۔

مزید پڑھیں: جامعہ خیر المدارس کی دینی ، تعلیمی اور ملی خدمات کے 92 برس مکمل

پرائمری لیول سے مختلف مضامین کے ماہراساتذہ (سبجیکٹ سپیشلسٹ) تعینات کیے جائیں تاکہ تعلیم کی بنیاد مضبوط ہو اسی طرح ESPٰ ٰیعنی EDUCATION FOR SPECIFIC PURPOS پر خصوصی توجہ دینی چاہیے ۔ جس طرح ہمارے کالج میں بارہ تیرہ شعبوں میں بی ایس کروایا جا رہا ہے ، لیکن سب میں وہی روایتی گرامر پڑھائی جاتی ہے ۔ جب کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شعبے کے لیے اس کی مستقبل کی ملازمتوں کو سامنے رکھ کر الگ الگ انگریزی کی تدریس کی جائے ، جو اس شعبے کی ضروریات کو پوری کرتی ہو ۔

 

سعودی عرب میں تدریس کا تجربہ
پروفیسر محمد عظمت سعودی عرب میں اپنے تدریسی دورانیے کو انگریزی کی تدریس اور روحانی اعتبار سے اپنے لیے یادگار دور قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہاں ام القرٰی یونیورسٹی مکہ معظمہ میں تدریس کے دوران انھیں بار بار حرمین جانے اور زیارات کی سعادت حاصل ہوئی ، میرے پی ایچ ڈی کے مقالے کا عنوان ہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لیڈر شپ پر ہے اور شاید مجھے اللہ کریم وہاں اسی کام کے لیے لیکر گئے تھے ۔

مزید پڑھیں: ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پاکستان میں محققین کیلئے مسائل پیدا کر دیئے

بطور ٹرینر
پروفیسر محمد عظمت IELTS برٹش کونسل کے پروفیسر،ہائیر ایجوکیشن او رکوالٹی سسٹم انٹرنیشنل کے ساتھ بطور ٹیچر ٹرینراپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ اسلام آباد میں بھی ان کے مداح اور شاگرد موجود ہیں ۔

پروفیسر محمد عظمت نے کالج اور یونیورسٹی سطح پر پڑھائے جانے والے سلیبس کی تدریس کے لیے اساتذہ و طلبہ کی رہنمائی اور تحقیق کے شعبے میں متعدد کتابیں لکھیں، جن میں انٹرمیڈیٹ کلاسز کی رہنما کتب تو شائع ہو چکی ہیں جبکہ یونیورسٹی سطح متعدد کتب یونیورسٹی پبلشر سے عنقریب شائع ہو رہی ہیں۔ آپ نے انگریزی زبان، لسانیات اور ادب کے حوالے سے ریسرچ کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے ۔ آپ کے متعدد آرٹیکلز ملکی وبین الاقوامی جرنلز میں شائع ہو چکے ہیں ۔

 

جس کا مختصر تعارف مندرجہ ذیل ہے ۔

آرٹیکل
1. Azmat, M. (2018). Evaluation of ETEA Test as a Critical Thinking Assessment Tool. Pakistan Journal of Language Studies (PJLS).
2. Azmat, M. (2018). Colonial Representations in Chinua Achebe’s Novel No Longer at Ease: A Lexical Study. Hayatian Journal of Linguistics and Literature, 2.
3. Azmat, M. (2018). Madness as a cross-racial predicament in Jean Rhys’s Wide Sargasso Sea. European Academic Research (EAR), 6(1), 75-85. Available from http://www.euacademic.org/UploadArticle/3515.pdf
4. Azmat, M. (2018). Double Colonization in Jean Rhys’s Wide Sargasso Sea: A Postcolonial Feminist Critique. European Academic Research (EAR), 6 (1) , 86-98. Available from http://www.euacademic.org/UploadArticle/3516.pdf
5. Azmat, M. (2012). Conflicting Moralities in Pakistan as Represented by Shoaib Mansoor’s Feature-Film Bol: A Nietzschean Critique. Hayatian Journal of Linguistics and Literature (HJLL), 1, 3-19. Available from http://uog.edu.pk/downloads/journal/HJLL_Vol1.pdf
6. Afsar, A., & Azmat, M. (2012). From the Word of Allah to the Words of Men: The Qur’an and the Poetics of Translation. Islamic Studies, 51(2), 193-211. Available from http://irigs.iiu.edu.pk:64447/gsdl/collect/islamics/index/assoc/HASH834d/b1a8ab0e.dir/doc.pdf
7. Arshad, R., & Azmat, M. (2012). Nostalgia, Antiheroic Passivity, and Lexico-grammar: A Systemic-Functional Analysis of D. H. Lawrence’s Piano. International Journal of Research in Linguistics and Lexicography, 1 (2), 23-35.

مزید پڑھیں: کتابوں کی باتیں کیسے ہوتی ہیں ؟

کتابیں

1. English Grammar: A Logical View with Solved Exercises
2. Academic English Guidebook for Class X1I published by University Publishers, Peshawar, for all Boards of Education of KHYBER PAKHTUNKHWA Province (published in 2014)
3. Academic English Guidebook for Class X1 published by University Publishers, Peshawar, for all Boards of Education of KHYBER PAKHTUNKHWA Province (published in 2013
4. English for ETEA Entry Test & Other Competitive Exams: A Resource Book (unpublished 1)
5. A Handbook on Philosophy of Education for BEd & MEd classes (unpublished 2)
6. Introduction to Literature for MA English and BS English classes (unpublished 3)
7. Poetry-1 for MA English and BS English classes (unpublished 4)
8. Prose for MA English and BS English classes (unpublished 5)
9. Grammar for MA English and BS English classes (unpublished 6)
10. Language and Linguistics for MA English and BS English classes (unpublished 7)

مزید پڑھیں: پاکستان میں 34 برس بعد تعلیمی پالیسی تبدیلی

کانفرنس پیپرز

“Stylistic Variations and Underlying Ideologies of Popular English Translations of the Qur’an from the Indo-Pak Subcontinent”(a research paper presented in the International Conference on Problems of Qur’an’s Translations in the Subcontinent, held on 29-30 April, 2013, in International Islamic University, Islamabad)

TRAININGS IMPARTED & PRESENTATIONS
A. “Outcome-Based Education in Light of Bloom’s Taxonomy”(One Day Training Imparted to the College Teaching Faculty of Khyber Pakhtunkhwa, on behalf of the Directorate of Higher Education, Khyber Pakhtunkhwa, on 7th March, 2019,as a Resource Person).
B. “Outcome-Based Education in Light of Bloom’s Taxonomy” (One Day Training Imparted to the Teaching Faculty of University of Engineering (UET) Peshawar and nine more universities of Peshawar, Bunair, and Lahore, on behalf of Quality Systems International, Lahore/Islamabad, on 25th January, 2019, as a Resource Person/Co-Facilitator.)
C. “Career Development”(A Counselling Session Conducted for Class 11 & 12 at Govt Postgraduate College, Haripur, in January, 2019, as a Resource Person).
D. A Resource Person in Workshops for the students of MED, BEd, & Associate Diploma in Education on behalf of Allama Iqbal Open University, Islamabad
E. Research, Step-by-Step: From Theory to Practice (Training imparted in the monthly session of SPELT on 30th April, 2013, as a Resource Person/Guest Presenter)۔