فرانس میں گستاخی کیوں ہوئی اور آگے کیا ہو گا ؟

فرانس رقبے کے لحاظ سے یورپ کا سب سے بڑا ملک ہے ۔ آئینی طور پر فرانس ایک لبرل ریاست ہے ۔ دستور ہر ایک کو مکمل مذہبی آزادی دیتا ہے ۔ اس لئے مردم شماری میں مذہب کا نہیں پوچھا جاتا ۔

تاہم آزاد سروے رپورٹس کے مطابق فرانس میں کیتھولک مسیحیوں کی واضح اکثریت ہے ۔ 2006 میں ان کی تعداد 65 فیصد تھی ۔ جب کہ 1970 میں 80 اور 1905 میں 90 فیصد تھی ۔ ایسے افراد کی تعداد 25 فیصد ہے ۔ جو کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتے۔ اس کے بعد سب سے زیادہ آبادی مسلمانوں کی ہے۔ جو 6 فیصد ہیں ۔

2017 کے صدارتی انتخابات میں سوشلسٹ پارٹی کے ایمانویل میکرون اور نیشنل فرنٹ (National Front) کی Marine Le Pen کے مابین مقابلہ تھا۔ میکرون نے 61 فیصد ووٹ لے کر میرین کو شکست دی اور ملک کے صدر بن گئے ۔

مزید پڑھیں: امت مسلمہ کی فرانس مخالف مہم کامیاب، پیرس گُھٹنوں پر آگیا

نیشنل فرنٹ، میرین کے والد Jean-Marie Le Pen کی قائم کردہ انتہائی دائیں بازو کی مسلم کش نسلی برتری پر یقین رکھنے والی جماعت ہے ۔ یہ فرانس میں مسلمانوں کے وجود کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ۔ ووٹ بینک کے لحاظ سے یہ تیسرے بلکہ چوتھے درجے کی جماعت تھی ۔ تاہم  2012 کے صدارتی انتخابات میں اسے پہلی بار 17.9 فیصد  ووٹ ملے ۔ پھر اگلے انتخابات (2017) میں یہ بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ۔

سابق صدر فرانسو اولاند کی جماعت (سوشلسٹ پارٹی) کے امیدوار میکرون کا میرین سے مقابلہ تھا اور اسے 33.9 ووٹ ملے۔ فرانس جیسے ملک میں جہاں اکثریت کا مذہب سے تعلق برائے نام ہے، ایک دائیں بازو کی نسل پرست جماعت کو ایسی پذیرائی کیسے ملی؟ اس نے انتخابی مہم میں خطیر رقوم کیسے خرچ کیں؟ حالانکہ انتخابات سے قبل پارٹی مالی بحران کا شکار تھی اور پارٹی سربراہ میرین نے عہدے سے استعفیٰ بھی دیدیا تھا ۔

مزید پڑھیں: فرانس سے سفارتی تعلقات منسوخ کیئے جائیں : مولانا فضل الرحمن

دیوالیہ ہونے کے قریب نیشنل فرنٹ کو مقامی بینکوں نے قرضے دینے سے انکار کر دیا تھا ۔ اس طرح اس کا وجود خطرے میں پڑ گیا تھا ؟ اس سوال کا جواب یہ کہ اسے ایک خلیجی ملک کی جانب سے 8 ملین یورو کی خطیر رقم امداد ملی ۔ جس سے نہ صرف اس کی سانس بحال ہوئی، بلکہ اسے بھرپور مہم چلانے کا موقع بھی ملا ۔

زیر نظر کتاب (Marine est au court de tout) میں اس پوری کہانی سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ اس شدت پسند مسلم کش جماعت کو فنڈ دینے والا ملک کوئی اور نہیں اپنا متحدہ عرب امارات تھا ۔ مسلم مخالف اس جماعت کو عوامی پذیرائی مسلمانوں کی فرانس آمد کے خلاف موقف اور دہشت گردی کے خلاف سخت پالیسی اپنانے پر ملی تھی ۔ اب اسی کو میکرون نے بطور سیاسی حربہ آزمانے کا فیصلہ کر لیا ۔

مزید پڑھیں: طیب اردوان نے فرانسیسی صدر کو للکار پر امتِ مسلمہ کی ترجمانی کا حق ادا کر دیا

کتاب کی مصنفہ اور مشہور صحافیہ ماری ٹورکی کا کہنا ہے کہ 20 جولائی 2014 کو پہلی بار امارات کے انٹیلی جنس چیف نے میرین سے خفیہ ملاقات کی اور انتخابات میں سعودی عرب، قطر اور اخوان المسلمون سمیت دہشت گرد جماعتوں کے خلاف جارحانہ موقف اپنانے پر بھرپور مالی تعاون کی پیشکش کی۔

جسے میرین قبول کیا اور اپنی انتخابی مہم کا بنیادی حصہ بنایا۔ اپنی تقریروں میں دہشت گردی کے خلاف مصر کے اقدامات کی حمایت اور قطر کی کھل کر مذمت کی۔ میرین نے یو اے ای سے وعدہ کیا کہ وہ اگر صدر بن گئی تو قطر کے خلاف کارروائی کی راہ ہموار کر دے گی ۔

اب میرین لپین کی پارٹی پھر سے طاقتور ہو کر سر اٹھا رہی ہے۔ اس پریشر کی وجہ سے اس کا سیاسی مخالف میکرون، جو کہ مشہور بائیں بازو کا لیڈر تھا اور اپنے معتدل موقف کی وجہ سے مشہور تھا، نے اپنی مہم کو سخت دائیں طرف منتقل کردیا ہے۔ یعنی کہیں مخالف پارٹی مسلم دشمنی کی بنا پر اگلےانتخابات میں کلین سوئپ نہ کرلے۔ اس لئے مخالف پارٹی سے بھی زیادہ مسلم دشمنی کا ثبوت دے کر ووٹ جیتنے کی کوشش کی جا  رہی ہے۔ یہی فرانس میں موجودہ مسلم مخالف سرکاری مہم کا اصل سبب ہے ۔

مزید پڑھیں: فرانس اسلامو فوبیا کے شکنجے میں آ گیا

میکرون نے مسلم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے، مساجد پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، میکرون نے اسلام پسندی یا بنیاد پرستی پر حملہ کرنے کا بہانہ چھوڑ  کر  اب اسلام ہی کو اپنی دشمنی کا براہ راست  ہدف بنا لیا ہے۔ ایفل ٹاور کے قریب دو مسلم خواتین پر چھریوں سے حملہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے اور چارلی ایبڈو کی جانب سے توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت اور اب ان خاکوں کو کتابی شکل میں شائع کر کے تقسیم کرنے کا اعلان بھی میکرون نے اسی لئے کیا کہ وہ نیشنل فرنٹ سے زیادہ خود کو مسلم دشمن ثابت کر سکیں ۔

اسی لئے اس نے اسلام کو بحران زدہ قرار دیا ہے۔ 300 کے قریب مسلمانوں کو بے دخل کرنے کی تیاری ہو رہی ہے، جبکہ مسلمانوں پر فرانس کے دروازے بند کرنے کیلئے قانون سازی بھی ہو رہی ہے۔ رواں برس فرانس میں 73 مساجد بند کی جا چکی ہیں۔ اب میکرون جو دسمبر میں نیا قانون بنانے جا  رہا ہے، اس سے فرانس مسلمانوں کیلئے دوسرا سنکیانگ بن جائے گا ۔

مزید پڑھیں: اسلام مخالف مہم پر فیصلے کا وقت آگیا، وزیرخارجہ

میکرون نے اسکارف کے ساتھ سیکولر ازم کے نام پر فرانسیسی مسلمانوں کی مذہبی شناخت ختم کرنے کا بیڑا اٹھا لیا ہے اور اگر قانون سازی کیلئے اس کی مہم کامیاب ہو گئی تو عدم برداشت کے حوالے سے فرانس چین کے ہم پلہ ہو جائے گا۔

متحدہ عرب امارات نے ایک نسل پرست، اسلامو فوبک پارٹی کو کیوں دوبارہ زندہ کیا ؟ متحدہ عرب امارات اور دیگر ایسی  مطلق العنان موروثی حکومتوں  کو اس میں دلچسپی ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو انتہا پسند، دقیانوس، اجڈ اور انتشار پسند بنا کر پیش کریں، تاکہ ان حکمرانوں کو اپنی مسلم آبادیوں کے خلاف ہر طرح کی مطلق العنانیت اور اقتدار کا جواز ملتا رہے کہ بھئی دیکھو یہ مسلمان تو بڑے ہی خبیث اور خطرناک ہوتے ہیں، یہ ہم حکمران ہی ہیں جو ہم نے ان کو کنٹرول میں رکھا ہوا ہے۔ باقی قطر ترکی سے قربت کی وجہ سے ویسے بھی خلیجی بادشاہوں کی آنکھوں کا ویسے بھی کانٹا بنا ہوا ہے۔  انہی کیلیے شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ

؎ وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود