سماجی کارکن گلالئی اسماعیل اسلام آباد سے گرفتار کر لی گئی

اسلام آباد :گلالئی اسماعیل کو لندن سے واپسی پر گرفتار کر لیا گیا ۔قائداعظم یونیورسٹی سے بایو ٹیکنالوجی میں ایم فل کرنے والی 32 سالہ گلالئی مبینہ طور پر موساد کیلئے کام کرنے لگ گئی تھی ۔خود کو ہیومن رائٹ ایکٹیوسٹ کہلانے والی گلالئی اسلام اور پاکستان مخالف سرگرمیوں میں بھی ملوث رہی ہے ۔

گلالئی اسماعیل کو 12 اکتوبر کو اسلام آباد ائیر پورٹ سے گرفتار کیا گیا ہے ۔معلوم رہے کہ گلالئی اسماعیل قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے بائیو ٹیکنالوجی میں ایم فل کی تعلیم کے دوران سول سوسائٹی سے منسلک ہوئی تھی ۔32 سالہ گلالئی اسماعیل پر اسرائیل کی خفیہ تنظیم موساد کی فنڈنگ سے اویئر گرل نامی این جی او کے ذریعے پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے ۔

گلالئی اسماعیل اس وقت ہیومن رائٹس کی تنظیم aware Girls and the seeds of peace network نامی این جی او کی چیئرپرسن بھی ہیں ۔اس حوالے سے پاکستان میں ان کا نام ہیومن رائٹس کی تنظیموں اور کام کے حوالے سے نمایاں نہ ہونے کے باوجود عالمی سطح پر انہیں انٹرنیشنل ہیومنسٹ کا ایوارڈ دیا گیا تھا ۔

ایف آئی اے کے اہلکار گلالئی اسماعیل کو ہوائی اڈے سے اپنے ساتھ ہیڈکوارٹر لے گئے جہاں ان سے دو گھنٹے سے زیادہ عرصے تک پوچھ گچھ کی گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا اور جمعے کے روز جب وہ لندن سے اسلام آباد پہنچی تو پہلے تو وہاں پر تعینات ایف آئی اے کے اہلکاروں نے اُن سے پوچھ گچھ کرنے کے بعد رہا کردیا اور پھر اس کے بعد ملزمہ نے اپنے وطن واپس آنے اور ایف آئی اے حکام کی طرف سے پوچھ کچھ کرنے کے بارے میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کی۔

اس ٹویٹ کے بعد خیبر پختونخواہ صوبے کی پولیس کے حکام حرکت میں آئے اور اُنھوں نے اسلام آباد ائرپورٹ پر تعینات ایف آئی اے کے حکام سے رابطہ کرکے ملزمہ کو دوبارہ حراست میں لینے کی درخواست کی۔

ایف آئی اے کے حکام نے گلا لئی اسماعیل کو حراست میں لیکر اینٹی ہومین سمگلنگ سیل میں منتقل کردیا ہے ۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ صوابی پولیس اسلام آباد پہنچ رہی ہے جس کے بعد ملزمہ کو پولیس کی تحویل میں دے دیا جائے گا۔

یہ مقدمہ رواں برس ستمبر میں صوابی میں پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسے کے بعد درج کیا گیا تھا اور اس میں ان کے علاوہ رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ سمیت پی ٹی ایم کے متعدد حمایتی اور رہنما بھی نامزد ہیں۔

سرگرم سماجی کارکن گلالئی بھی پشتون تحفظ موومنٹ کی بھی سرگرم حمایتی ہیں اور وہ باقاعدگی سے تحریک کے جلسوں میں شرکت بھی کرتی رہی ہیں۔ انھیں حراست میں لیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ردعمل سامنے آیا ہے اور پی ٹی ایم کے حمایتیوں اور سماجی کارکنوں نے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

گلالئی اسماعیل ڈیڑھ دہائی سے زیادہ عرصے سے پاکستان میں نوجوانوں خصوصاً لڑکیوں کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں اور انھیں 2015 میں دولتِ مشترکہ کے یوتھ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ اس سے قبل 2014 میں انھیں انٹرنیشنل ہیومنسٹ ایوارڈ بھی ملا تھا۔

گلالئی اسماعیل نے 16 سال کی عمر میں ‘اویئر گرلز’ نامی غیر سرکاری تنظیم کی بنیاد رکھی تھی تاکہ نوجوان لڑکیوں کو اُن کے حقوق کے بارے میں آگاہی فراہم کی جا سکے۔

2013 میں انھوں نے ایک سو خواتین پر ایک ٹیم بھی تشکیل دی جس نے گھریلو تشدد اور کم عمری کی شادیوں جیسے معاملات پر کام کیا تھا۔

ایف آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ سماجی کارکن گلالئی اسماعیل صوبہ خیبر پختون خوا کے شہر صوابی میں پختون تحفظ موومنٹ کے جلسہ کرنے کے بعد درج ہونے والی ایف آئی آر میں نامزد ملزمہ ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *