پاکستان و افغانستان کو یورپ بنانے کیلئے عمران خان خواہش مند

اسلام آباد : وزیر اعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت اپنے مذموم عزائم کے لیے افغانستان کی سر زمین استعمال کر سکتا ہے، یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں کو یورپی سرحدوں کی طرح بنانے کے لیے پُر عزم ہیں ۔

پاکستان افغان تجارت اور سرمایہ کاری فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے افغانستان کے کاروباری برادری کے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ہمارے روابط اور اس خطے کے افغانستان سے روابط صدیوں سے ہیں، افغانستان تقریباً 200 سال تک مغل سلطنت کا حصہ تھا اور موجودہ پنجاب اور خیبر پختونخوا 60-70 سال افغانستان میں درانی سلطنت کا حصہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے قبیلے نکل کر تجارت کے لیے کلکتہ تک جاتے تھے اور پاوندے افغان جہاد شروع سے پہلے تک وسط ایشیا اور بھارت سے تجارتی سامان لے کر آتے اور جاتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ افغانستان میں 40 سال سے انتشار ہے جس کا افغانستان کے بعد سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا ہے خصوصاً گزشتہ 18 سال کے دوران دہشت گردی کے نام پر بھی جنگ ہوئی اس سے بھی پاکستان کو افغانستان کے بعد سب سے زیادہ نقصان پہنچا۔

مزید پڑھیے: افغانستان کا استحکام اسلامی نظریاتی اور فلاحی ریاست سے وابستہ ہے : مولانا محمد حنیف جالندھری

عمران خان نے کہا کہ انسان ماضی میں رہتا نہیں ہے بلکہ اس سے سیکھتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس بات کا احساس کریں کہ ہم نے ماضی میں کیا کھویا اور کیا پایا ہے اور اس سے سبق سیکھیں ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی تاریخ ہے کہ کوئی بیرونی طاقت وہاں اثر رسوخ حاصل نہیں کرسکتی بلکہ وہاں کے لوگ اپنے فیصلے خود کرتے ہیں، وہاں بیرونی مداخلت کبھی کامیاب نہیں ہوتی ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے سیکھا ہے کہ افغانستان کے لوگ جسے منتخب کرنا چاہیں، یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے اور افغانستان کی جو بھی حکومت ہو گی، پاکستان اس کے ساتھ کام کرے گا اور تعلقات مضبوط رکھے گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمسایہ ملک بھارت ہم سے 7 گنا بڑا ملک ہے، ان سے ہماری تین جنگیں ہو چکی ہیں اور 72 سالوں میں مسلمانوں سے اتنی نفرت کرنے والی حکومت نہیں آئی جتنی موجود حکومت کرتی ہے ۔

مزید پڑھیے: پاکستان میں دہشت گردوں کے اب کوئی ٹھکانے نہیں رہے، عمران خان

انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت سے دوستی کی بہت کوشش کی لیکن مجھے اندازہ ہو گیا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ نظریاتی طور پر ہمارے خلاف ہیں لیکن ہم پھر بھی کوششیں کرتے رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو ہندوستان خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں ہو رہا ہے وہ تاریخ میں آج تک کبھی نہیں ہوا، 80 لاکھ لوگوں کو ایک کھلی جیل میں رکھا ہوا ہے لہٰذا پاکستان کو خدشہ ہے کہ ہندوستان افغانستان کو ہمارے ملک میں انتشار پھیلانے اور اسے غیرمستحکم کرنے کے لیے استعمال کرے گا لیکن ہم نے فیصلہ کرلیا ہے جو بھی افغانستان کے عوام چاہیں گے، ہم ان کی حمایت کریں گے کیونکہ اس خطے کا مستقبل پاکستان اور افغانستان کے تعلقات، تعاون اور تجارت میں ہے۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ 40سال افغانستان میں انتشار کے نتیجے میں ہمارے قبائلی علاقہ جات اور سرحدی علاقوں میں مچنے والی تباہی کا ایک ہی حل ہے کہ ہمارے تعلقات اچھے ہوں، تجارت ہو جس سے لوگوں کو روزگار مل سکتا ہے۔

مزید پڑھیے: برطانوی فوج بھی افغانستان میں نہتے شہریوں کے قتل عامل میں ملوث نکلی

ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ملک میں تجارت کو فروغ دے رہے ہیں، افغانستان ہمارا قدرتی پارٹنر ہے اور کوشش ہے کہ افغانستان سے تجارتی تعلقات بڑھائیں اور جیسے جیسے افغانستان میں امن آتا جائے گا، اس سے پاکستان کے ساتھ ساتھ افغانستان کے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان جو کوششیں کر رہا ہے، کوئی اور ملک اتنی کوشش نہیں کر رہا کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن ہو تاکہ وسط ایشیا تک یہ سارا علاقہ ایک دوسرے سے منسلک ہو اور تجارت بڑھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ میری حکومت جب سے آئی ہے ہم نے طالبان کی پہلے امریکا سے بات چیت کے لیے بھرپور زور لگایا، اس کے بعد افغان حکومت کے ساتھ اور آج بھی ہماری کوشش ہے کہ تشدد کم ہو۔

وزیر اعظم نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا خواب ہے کہ یورپی یونین کی طرح ہماری بھی تجارت کے لیے کھلی سرحدیں ہوں اور ہم دعا کرتے ہیں کہ ایک دن ہمارے بھی اس طرح کے تعلقات ہوں۔