طیب اردوان نے فرانسیسی صدر کو للکار پر امتِ مسلمہ کی ترجمانی کا حق ادا کر دیا

الرٹ ویب ڈیسک : ترکی نے ایک مرتبہ پھر امت مسلمہ کے سپہ سالار ہونے کا ثبوت دیا اور ترک صدر طیب اردوان نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو مینٹل کیس قرار دے دیا، جس پر پریس نے انقراہ میں موجود اپنا سفیر واپس بلا لیا ۔

فرانسیسی صدر میکرون نے اسلام مخالف بیانات دیے تو ترک صدر رجب طیب اردوان ان پر برہم ہو گئے ۔ ایمانوئل میکرون کی جانب سے فرانس کی سیکیولر حیثیت کے دفاع میں اسلام کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ آخر میکرون کو اسلام اور مسلمانوں سے مسئلہ کیا ہے ۔

طیب اردوان نے کہا کہ ایک ایسا سربراہ مملکت جس کا رویہ دوسرے مذاہب کے لاکھوں لوگوں کے ساتھ ایسا ہے، ایسے سربراہ مملکت کے بارے میں کوئی کیا کہہ سکتا ہے سوائے اس کے کہ انہیں اپنے دماغ کا معائنہ کرانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: امریکہ کس ملک میں باغیوں کو ہتھیار فراہم کررہاہے؟ترک صدر طیب اردگان کا انکشاف

اپنے انٹرویو کے دوران اردوان نے سوال کیا کہ اس شخص میکرون کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ اسے تو اپنا علاج کروانا چاہیے ۔ ترک صدر نے یہ بھی کہا کہ آپ مسلسل اردوان کو نشانہ بنارہے ہیں، لیکن اس سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔

طیب اردوان کے اس بیان کے بعد فرانس نے مشاورت کے لیے اپنے سفیر کو ترکی سے واپس بلا لیا ہے ۔