گورنمنٹ اسٹیڈیم کالج میں مرکزی پالیسی کے بجائے کوٹہ سسٹم کے تحت داخلوں کا انکشاف

رپورٹ :سید محمد عسکری

گورنمنٹ ڈگری کالج اسٹیڈیم روڈ میں مرکزی داخلہ پالیسی کے برعکس سیکڑوں داخلے میرٹ کے برخلاف دینے کا انکشاف ہواہے اور یہ سلسلہ گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ مرکزی داخلہ پالیسی کی منظوری ہر سال دی جاتی ہے اور کراچی کے بہترین سمجھے جانے والے کالجز میں سندھ بھر کے طلبہ کو مرکزی داخلہ پالیسی کے تحت تمام داخلے دیے جاتےہیں اور کوئی کوٹہ مختص نہیں ہے ۔

تاہم گورنمنٹ ڈگری کالج اسٹیڈیم روڈ میں گزشتہ کئی برسوں سے میرٹ کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ رواں سال بھی اس کالج میں داخلے اے ون اور اے گریڈ پر بند ہوئے تاہم کالج پرنسپل ڈاکٹر طارق یوسف خان کی جانب سے کوٹے کی بنیاد پر مرکزی داخلہ کمیٹی کو جو فہرست بھیجی گئی ہے اس میں CAP پالیسی سے ہٹ کر جن طلبہ کو داخلہ دیا گیا ہے۔

ان میں پری انجینئرنگ بوائز کی تعداد 168؍، گرلز 36؍، پری میڈیکل گرلز 32؍ اور آرٹس میں 24؍ گرلز شامل ہیں۔ اس طرح رواں سال کوٹے کی بنیاد پر 300؍ سے زائد داخلے دینے کی سفارش کی گئی ہے جن میں زیادہ تر کا گریڈ بی ہے تاہم کچھ اسٹوڈنٹس اے گریڈ والے بھی ہیں حالانکہ کراچی کے بہترین کالجز میں شمار ہونے والے اِس کالج میں میرٹ پر (کیپ پالیسی کے تحت صرف اے ون اور اے گریڈ والوں کے) داخلے بند ہوئے ہیں۔

نمائندہ ’’جنگ‘‘ کے رابطہ کرنے پر کالج پرنسپل ڈاکٹر طارق یوسف نے بتایا کہ وہ عارضی پرنسپل ہیں، کوٹے کی بنیاد پر داخلہ پالیسی ورثے میں ملی ہے، اصولاً کوٹہ نہیں ہونا چاہئے لیکن یہاں 50؍ فیصد سے زائد کوٹا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ تعلیم کے ایک پرانے نوٹیفکیشن کی بنیاد پر کالج میں کوٹے کی بنیاد پر داخلے ہوتے ہیں، اس میں پرنسپل کا اپنا کوئی کردار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالج کو کوٹے کی بنیاد پر جو فہرست موصول ہوئی وہ ہم نے سیکریٹری تعلیم پرویز سیہڑ کے حوالے کردی ہے، وہ میرے دوست بھی ہیں، انہوں نے اس حوالے سے مجھے بلایا بھی تھا اور میں نے انہیں تمام تر صورتحال سے مطلع بھی کر دیا ہے۔

دوسری جانب ڈائریکٹر کالج پروفیسر معشوق بلوچ نے بتایا کہ مرکزی داخلہ پالیسی کے تحت کسی کا کوئی کوٹا نہیں لیکن اسٹیڈیم روڈ کالج کا معاملہ مختلف ہے، اے ون گریڈ کے طلبہ جو میرٹ پر یہاں داخل ہوتے ہیں ان میں سے کئی طلبہ میرے پاس آئے کہ ہمیں کسی اور کالج میں داخلہ دیں کیونکہ ہمارے ساتھ بی اور سی گریڈ والے بھی پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوٹے کی حد ہوتی ہے لیکن اس کالج میں لا محدود کوٹا ہے۔ پروفیسر معشوق بلوچ نے کہا کہ ملیر کینٹ میں واقع ڈگری کالج میں کسی ادارے کا کوئی کوٹا نہیں اور وہاں تمام داخلے میرٹ پر ہوتے ہیں۔

ادھر وزیر تعلیم سندھ سردار علی شاہ نے ’’جنگ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت مکمل میرٹ پر یقیین رکھتی ہے، انہوں نے کہا کہ مرکزی داخلہ پالیسی کے تحت کوئی کوٹا نہیں ہے تمام داخلے میرٹ پر ہوتے ہیں لہٰذا اسٹیڈیم روڈ کالج سمیت کسی بھی کالج میں کوٹے کی بنیاد پر داخلے ممکن نہیں کیونکہ میرٹ کا اطلاق سب پر یکساں ہوتا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *