گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر کیا کرنا چاہئے ؟

ویب ڈیسک : فرانسیسی سفارت خانے میں پرامن طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کا وقت آ گیا ہے ۔ سیاسی و مذہبی قائدین بالخصوص علامہ حافظ  طاہر اشرفی ،مبلغ اسلام مولانا طارق جمیل اور موجودہ حکومت سے قربت رکھنے والے اس قبیل کے دیگر علمائ کرام  صاحبان کو فرانسیسی سفارت خانے جا کر بات چیت کرنی چاہئے ۔

فرانس نے گزشتہ جمعہ کو گستاخ کارٹونسٹ ٹیچر کے قتل کے پر احتجاج کرتے ہوئے ملک بھر میں گستاخانہ خاکوں پر مشتمل کتابیں شائع کر کے تعلیمی اداروں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ معاملہ سنگینی کی جانب جاتا دکھائی دے رہا ہے  اور انتہا پسند تنظیمیں اس سے فائدہ اٹھائیں گی ۔

مزید پڑھیں: فرانس، اسلامو فوبیا کے شکنجے میں

پاکستان کے بڑے دینی مدارس وفاق المدارس اور علما ایکشن کمیٹی سمیت بریلوی اور اہلحدیث مکتب فکر کے حضرات کو اس معاملے پر سنجیدگی کے ساتھ کم ازکم اپنی استطاعت کی حد تک پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے ۔