فرانس اسلامو فوبیا کے شکنجے میں آ گیا

تحریر : علی ہلال

کنزہ اور امل الجزائری نژاد فرانسیسی شہری ہیں۔ دونوں خواتین اٹھارہ اکتوبر کو پیرس میں ایفل ٹاور کے قرین شانزہ لیزے روڈ پر اپنے ننھےبچوں کے ساتھ جارہی تھیں ۔ اس دوران سڑ ک کے دوسرے کنارے دو فرانسیسی خواتین بھی گزررہی تھیں جن کے پاس کتا تھا ۔ کتے کے بھونکنے اور بچوں کی جانب  لپکنے سے مسلمان خواتین کے بچے خوفزدہ ہو رہے تھے ۔

مسلمان خواتین نے کتے کی مالکن سے درخواست کی کہ وہ اپنے کتے کو باندھیں مگر بجائے اس کے غیرمسلم خواتین نے انہیں قابل نفرت قراردیکر نفرت انگیز انداز سے مخاطب کیا ۔ عرب خواتین کی جانب سے منع کرنے پر غیرمسلم خواتین نے زیادہ بحث کیے بغیر چھرے سے ان پرحملہ کر دیا ۔

مزید پڑھیں: صنعتوں میں کھیلوں کو فروغ دیکر محنت کشوں کو صحت افزا ماحول دیا جائے : خواجہ مسعود احمد

49 سالہ کنزہ کے جسم پر چھ وار کیے جانے سے اس کے پھیپھڑے میں سوراخ ہوگیا ہے جبکہ اس کی کزن امل کے جسم پر بھی کئی گہرے خم لگے ہیں ۔دونوں خواتین اس وقت پیرس کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

فرانسیسی میڈیا اور حکام نے اس واردات کو مکمل طور پر چھپانے کی کوشش کی ہے۔ تین دن گزر جانے کے باوجود بھی واقعہ کی تفصیلات اور انویسٹی گیشن رپورٹ منظر عام پر نہیں آ سکی ۔

مجرم خواتین کی گرفتاری عمل میں آئی ہے مگر فرانسیسی حکام ان پرکیس کمزور کرنے کے لیے تکنیکی تعاون میں مصروف ہیں۔ زخمی خواتین کے مطابق حملہ آور خواتین نے عربوں کو قابل نفرت قرار دیکر شدید نفرت اور نسل پرستانہ جملوں کا استعمال کیا ہے اور وائٹ سپرمیسی کی حمایت کی ہے ۔

مزید پڑھیں: یورپ میں عورت کیخلاف تشدد عروج پر، فرانس میں 1 سال کے دوران 601 عورتیں قتل

مگر حیران کن یہ ہے کہ مغربی اداروں کی نظر میں صرف اسلام اور مسلمانوں کی جانب سے اس نوعیت کی کارراوئیوں پر فوکس کیا ہوا ہے مگر نسل پرستانہ حملے ان کی نظر میں قابل قبول ہیں اور کسی جرم کے زمرے میں آتے ہی نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت رونما ہوا ہےجب گزشتہ جمعہ کو فرانس میں ایک چیچن نوجوان نے ایک گستاخ ٹیچر کو اس وقت موت کے گھاٹ اتارا جب وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی نمائش کر کے ننھے بچوں کے دل و دماغ میں نفرت کا زہر اتار رہا تھا۔

مزید پڑھیں: شدت پسندوں کا جادو کیسا رہا ؟

اس واقعہ کے بعد فرانس سے 300 کے قریب مسلمانوں کو بیدخل کرنے کی تیاری ہورہی ہے جبکہ قانون سازی کر کے کٹر مسلمانوں پر اس ملک کے دروازوں کو ہمیشہ کیلیے بند کیے جا رہے ہیں۔ رواں برس فرانس 73 مساجد مقفل کر چکا ہے ۔

جبکہ ستمبرمیں گستاخ میگزین چارلی ایبڈو دوبارہ وہ گستاخانہ خاکے شائع کر چکا ہے ۔ جس کی وجہ سے سال 2015 میں اس میگزین پر حملے میں 12 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا اور عالمی سطح پر فرانس کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا تھا ۔ ہمارے پاکستان کے چند ملاوں نے بھی فرانسیسی پرچم کی ڈی پی لگا کر فرانس سے اظہار یکجہتی کی تھی۔ کس قدر تاریک خیال ہے مغرب اور کس قدر سادہ لوح ہیں مسلمان ۔