جامعہ اردو میں ڈاکٹر یاسر رضوی لیب کے تحت سیمینار کا انعقاد

ڈاکٹر یاسر ریڈیو لیب، شعبہ ابلاغ عامہ ، وفاقی اردو یونیورسٹی کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف حسین نے کہا کہ اردو یونیورسٹی جلد ہی تعلیمی ریڈیو کا آغاز کر رہی ہے۔ مصروف ترین زندگی میں ریڈیو کا میڈیم آپ کو بہترین تفریح اورمعلومات اور کمیونٹی سروس فراہم کر سکتا ہے۔

یونیورسٹی کے اساتذہ تحقیق کے ذریعے اس میڈیم کے استعمال اور فروغ کے نئے زوایے تلاش کرنا چاہییں۔اس موقع پر مہمان مقرر خلیل اللہ فاروقی نے کہا کہ ریڈیو کا تعلق انسانی آواز سے ہے اور یہ ۲۱ ویں صدی کا میڈیم ہے۔اگر ریڈیو پروگرام تحقیق ، توجہ اور سامعین کے مزاج ، حالات و ضروریات کو مدنظر رکھ کر تیار کیے جائیں تو آج بھی لوگ ریڈیوسننے کے لیے بے تا ب ہوجاتے ہیں۔

ریڈیو جس طرح تخیل کی تعمیر کرتا ہے کوئی اور میڈیم نہیں کرسکتا۔ زبان کی تعلیم ، تدریس اور تحقیق کے لیے ریڈیو سے بہتر میڈیم موجود نہیں ہے۔ ڈاکٹر یاسر ریڈیو لیب کے انچارج ڈاکٹر عرفان عزیز نے کہا کہ غربت کے خاتمے، لوگوں میں سیاسی شعور، صحت کے مسائل، معلومات کے فروغ اور زبان و بیان کی تربیت اور معیاری تفریح کے لیے ریڈیو کا استعمال انتہائی موثر ، آسان اور سستا ترین ہے۔

پاکستان میں ریڈیو کے میڈیم سے سماج میں مثبت ترقی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ ریڈیو سیمینار منعقد کروانے کا مقصد طلبہ و طالبات کو ریڈیو کی تربیت کے ساتھ ساتھ عملی میدان میں متعارف کروانا ہے۔ سیمینار سے ڈین فیکلٹی آف آرٹس ڈاکٹر ضیاء الدین، شعبہ ابلاغ عامہ کے سینر استاد ڈاکٹر اوج کمال نے خطاب کیا۔ سیمینار کی نظامت ثناء غوری نے کی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *