پھٹی جینز کی ڈیزائنر یا شیطان کی پجارن

تحریر : علی ہلال

میشل لاوی کا تعلق امریکا سے ہے ۔ 74 سالہ میشل مشہور امریکی ڈیزائنر ریک وائنز کی بیوی ہے ۔ میشل لاوی کو ملبوسات کی ڈیزائنگ کی دنیا میں دھماکہ خیز بلکہ اخلاق باختہ تخلیق کی وجہ سے جانا جاتا ہے ۔ میشل لاوی پھٹے ہوئے جینز پینٹ کی ڈیزائنر ہے جسے اس وقت دنیا کےلاکھوں نوجوان لڑکے لڑکیاں پہن کر فخر محسوس کرتے ہیں ۔

میشل لاوی عالمی تنظیم ماسونیت کے ساتھ ساتھ اس چرچ کی ممبر ہے ، جسے شیطانی گروہ کہا جاتا ہے ، امریکا میں واقع اس چرچ کے اراکین شیطان کے پجاری ہیں ۔ جسم کو زخمی کرنے ،منشیات استعمال کرنے اور عجیب و غریب طرز پر مضحکہ خیز ملبوسات پہننے کے ساتھ جسم پر مالے اور کڑے ڈالنے والے گروہ کا مقصد انسانی ہییت کو تبدیل کر کے شیطانی تصور کے مطابق بنانا ہوتا ہے ۔

مذید پڑھیں : ڈپٹی قائدِ اعظم عمران خان کے 14 نکات

میشل لاوی ماضی میں عریان لڑکیوں کی کیٹ واک اور نمائش کی منتظمہ بھی رہی ہے ۔ تاہم میشل لاوی کی عالمی شہرت کی وجہ پھٹے ہوئے جینز پینٹ ہیں۔ جس نے کئی برس قبل پھٹے ہوئے جینز پھینٹ کا آئیڈیا دے دیا ۔ اس کے ڈیزائنر شوہر نے اسے پسند کرلیا اور یوں اسنے کئی پینٹ پھاڑ کر ڈیزائن تیار کر لیے ۔ ریک وائنز اور اس کی بیو ی میشل ان پھٹے ہوئے جینز سے بھاری دولت کما چکے ہیں اور اس وقت ان کا شمار ارب پتیوں میں ہوتا ہے ۔

انتہائی مضحکہ لباس پہننے والی اس خاتون کی طرح پھٹے پرانے کپڑے پہن کر رلنے والیوں کی دنیا میں کوئی کمی تو نہیں ہے مگر امریکا جیسے ملک اور شیطانی فرقے سے تعلق کے باعث اس کے پیراہن کے تصور کو دنیا کے طاقتور میڈیا نے غیر معمولی شہرت کے بام پر پہنچا دیا ۔

حقائق سے بے خبر اسلامی دنیا کے فکری غربت اور نظریاتی فقر کے شکار نوجوان میشل کے ڈیزائن کردہ پھٹے جینز پہن کر خود کو فیشن کے دلدادہ اور اعلی ذوق کے حامل خیال کر رہے ہیں ۔